Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


احمدیہ تاریخ

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

احمدیہ تاریخ

Post by Admin on Sun May 17, 2015 8:20 am

احمدیہ جسے عرف عام میں قادیانیت بھی کہا جاتا ہے ایک مسیحیہ تحریک ہے جو کہ 1889ء میں مرزا غلام احمد (1835ء تا 1908ء) نے قادیان (گورداسپور) میں قائم کی۔ 1889ء میں قادیان کے اس جاگیردار نے اعلان کیا کہ مرزا کو الہام کے زریعے اپنے پیروکاروں سے بعیت لینے کی اجازت دی گئی ہے ؛ اسکے بعد مرزا نے (1891ء) میں اپنے امام مہدی ہونے کا دعوی کیا اور یہی وہ زمانہ تھا کہ جب اسلامِ راسِخ (orthodox) علماء کی جانب سے مرزا کی عمومی مخالفت سامنے آنا شروع ہوئی۔ شیعہ اور سنی دونوں تفرقے ہی حضرت امام مہدی کے بارے میں نظریات رکھتے ہیں لہٰذا یہ مسیحائی (عہد کا راہنما یا مہدی) ہونے کا دعویٰ مسلمان علماء کے لیئے کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں تھا بلکہ مسئلہ (بطور خاص سنی علماء کے لیئے) اس وقت شدت اختیار کر گیا کہ جب مرزا نے نبوت کا دعویٰ کیا (گو احمدی اس نبوت کو ختم نبوت کی مخصوص تاویل کی مدد سے محمد کی ختم نبوت کی اصطلاح سے انکار نہیں کہتے)[1]۔ مرزا کے عقائد میں اسلام کے ساتھ صوفی ، ہندوستانی اور مغربی عناصر کی آمیزش بھی نمایاں ہے اور مرزا نے اپنے تبلیغی انداز میں عیسائی ، ہندو اورسکھ تبلیغیوں کے طریقۂ کار کو بھی استعمال کیا[2]۔ مرزا کی وفات کے بعد مولانا نورالدین کو خلیفہ منتخب کیا گیا ، 1914ء میں نورالدین کا انتقال ہوا تو پیروکاروں کا اجتماع دو گروہوں میں بٹ گیا جن میں ایک کو احمدیہ مسلم جماعت اور دوسرے کو احمدیہ انجمن اشاعت اسلام تحریک یا لاہوری احمدیہ بھی کہا جاتا ہے۔
تجزیاتی نظریات
انیسویں صدی کے وسط میں جب مسلم دنیا میں یورپی تسلط کے خلاف جذبات بڑھ رہے تھے اور ان ہی جذبات اور رجحانات سے استفادہ اٹھاتے ہوئے اور کسی مسیحا (راہنما) کی شدید طلب کو محسوس کرتے ہوئے مسلم دنیا میں تین اطراف مہدی نمودار ہوئے۔ایران میں علی محمد شیرازی (1819ء تا 1850ء) نمودار ہوا تو سوڈان میں محمد احمد المہدی (1844ء تا 1885ء) اور ادھر ہندوستانمیں مرزا غلام احمد (1853ء تا 1908ء) کا ظہور ہوا[3]؛ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب ہندوستانی مسلمان 1857ء کی جنگ آزادی کی پسپائی پر ذہنی طور پر انتشار کا شکار تھے۔ اس کے علاوہ ایک اور نظریہ جو احمدیہ تحریک کے رجحان (بطور خاص اس میں مسیحیہ تصور) کا بین المذاہب تجزیہ کرنے والے محققین بیان کرتے ہیں وہ ہندوستان میں پائی جانے والی کثیرالمذاہب صورتحال بھی ہے[2]۔ حضرت امام مہدی کے ان دعویداروں اور غیبت صغرٰی سے تسلسل یافتہ دائمی امامت و نبوت کے نظریات کو محققین و تاریخدان نفسیاتی طور پر قبل از اسلام کے مغناطیسیت (magianism) نظریات سے تقابل کر کے بھی دیکھتے ہیں[
تاریخ

تجزیاتی نظریات کے قطعے میں محققین کی جانب سے بیان کردہ صورتحال کی موجودگی میں استعماریت اور عام ملایئت کے خلاف اور (متعدد تجزیہ نگاروں کے بقول) مسلمانوں کی حالت سنوارنے یا اسے جدید تقاضوں سے مطابقت دینے کے خواہشمند علماء (یا افراد) کی ناپیدی خارج از امکان ہے؛ مرزا غلام احمد (قادیانی) کی ابتداء سے بھی کچھ ایسا ہی تاثر ملتا ہے کہ مرزا نے خود کو مسلمانوں کے لیئے ایک سچے مصلح (یا مجتہد) کے طور پر پیش کیا[5]۔ مرزا کے اجداد سولہویں صدی سلطنت مغلیہ (بابر) کے عہد میں وسط ایشیاء سے ہندوستان آکر بسے تھے اور وسیع جائداد رکھتے تھے؛ اس آبائی جائداد کو اٹھارویں صدی میں سکھ مثلداروں نے فتح کر لیا تھا لیکن پھر مہاراجہ رنجیت سنگھ اپنے آخری ایام میں پانچ گاؤں (بشمول قادیان) غلام احمد کے والد مرتضٰی غلام احمد کو دے دیئے تھے [6]۔ برطانوی راج کے دور میں بھی مرزا غلام احمد کے والد مرزا غلام مرتضٰی حیثیت کے مالک تھے جو انہیں برطانوی حکومت (بطور خاص 1857ء) سے وفاداری کے سبب حاصل تھی۔۔۔۔



[size=40]Rashid Ali

Parchaway
[/size]
جنرل نکولسن نے غلام قادر (مرزا غلام احمد کے بھائی) کو سند عطا کی کہ 1857ء میں قادیان خاندان نے دیگر تمام اضلاع کی نسبت سب سے زیادہ وفاداری کا اظہار کیا
۔
[size=40]مرزا نے عربی اور فارسی کی تعلیم بھی حاصل کی اور سترہ سال کی عمر میں کچھ عرصہ سیالکوٹ میں ملازمت کے دوران چرچ آف سکاٹ لینڈ کے افراد سے شناسائی بھی حاصل رہی۔ یہاں سے چار سال بعد مرزا کی قادیان واپسی ہوئی اور 1880ء میں مرزا کی کتاب براہین احمدیہ کا پہلا حصہ سامنے آیا[8]، پھر 1889ء میں مرزا کو الہام میں اپنے مریدوں سے بعیت لینے کی اجازت ملی اور مرزا کے گرد عقدت مندوں کا ایک گروہ پیدا ہونا شروع ہوا۔
سنیوں میں احمدی ظہور[ترمیم]

[/size]



بانی احمدیہ (قادیانیت)، مرزا غلام احمد۔
[size]

1891ء میں مرزا نے وہ مسیح موعود اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا جس کے (احادیثی نا کہ قرآنی بنیادوں پر) مسلمان منتظر تھے (ہیں) اور جماعت احمدیہ کا پہلا جلسۂ سالانہ وقوع پذیر ہوا[9]، یہیں سے راسخ العقیدہ مسلم علماء کے ساتھ کشمکش شدید ہوئی۔ بہائی مت کی ابتداء کوشیعوں میں امامت کے جاری رہنے اور غیبت صغرٰی و غیبت کبرٰی سے منسلک ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور یہاں سنیوں میں مرزا غلام احمد کے ظہور کو احادیث کی بنیاد پر قائم سنی تفرقے کے نظریۂ مہدی سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ مرزا کو عربی اور بسا اوقات انگریزی[10] میں بھی الہام نازل ہونے لگے؛ ان الہاموں کے بارے میں غیرمسلم مورخین یہ خیال پیش کرتے ہیں کہ نفسیاتی تجزیے سے محسوس ہوتا ہے مرزا کو خود ان تخیلات کے الہامی ہونے کے بارے میں کامل یقین تھا اور ان کی حیثیت مذاہب عالم کے اعتبار سے سطحی اور اِستِيعاب المعرفت میں ناقص تھی جبکہ انگریزی کو بھی منقوص قرار دیتے ہیں[11]۔ بیسویں صدی کی ابتداء تھی اور اب مرزا پر جسمانی نقاہت کا دور شروع ہوا اور 1905ء کی اپنی وصیت میں مرزا نے کہا

[/size]
[size=40][size=40][/size][/size]قادر مطلق خدا نے مجھے یکے بعد دیگرے متعدد الہاموں میں مطلع کیا ہے کہ میری موت قریب ہے، اور اس ضمن میں آنے والے الہام اس قدر تعداد میں اور اس قدر تسلسل میں ہیں کے انہوں نے میرے وجود کو بنیادوں سے ہلا دیا ہے اور اس زندگی سے مجھے خاصا بے اعتنا کر دیا ہے۔ لہٰذا میں نے یہ بہتر جانا کہ میں اپنے دوستوں اور دیگر افراد کے لیئے اپنی تعلیمات سے استفادے کی خاطر لازماً کچھ ہدایتی الفاظ لکھوں[12]۔[size=40][size=40][/size][/size]
[size]
لاہور کے ایوان جامعہ میں منعقد ہونے والی موتمر الدینیہ (religious conference) میں خطاب کے لیئے مرزا کی آمد ہوئی لیکن اس سے قبل ہی مرزا کی خواہشات کے برعکس قادیان کے بجائے لاہور (1908ء) میں انتقال ہوا ، مرزا کی میت کو لاہور سے قادیان لے جایا کر تدفین کی گئی جس قبل ہی پہلے خلفیۃ المسیح حکیم نورالدین کا انتخاب عمل میں آیا[13]۔ وہ مذکورہ بالا آخری خطاب مرزا کے بجائے خواجہ کمال الدین نے پڑھا[11]۔
اسلام سے قربت ، اسلام سے دوری[ترمیم]

[/size]



خلیفۃ المسیح اول، حکیم نورالدین۔
[size]

حکیم نورالدین (1841ء تا 1914ء) کی پہلی ملاقات مرزا سے 1885ء میں ہوئی اور مرزا کی وفات کے بعد چھ سال ، 1908ء سے اپنی وفات 1914ء تک ، احمدیوں کے پہلے خلیفۃ المسیح کی حیثیت حاصل رہی۔ اسی زمانے میں احمدیہ میں ایسے افراد بھی تھے جو احمدیہ کو واپس اسلام راسخ سے قریب لانا چاہتے تھے، ان میں لاہور کے خواجہ کمال الدین (1870ء تا 1932ء) اور مولانا محمد علی(1874ء تا 1951ء) کے نام آتے ہیں جبکہ قادیان والے (جن میں اکثریت امراء اور تجارتکاروں کی تھی جیسے سید احسان امروہی اور اور نواب محمد علی خان) احمدیہ جماعت کو انہی مرزائی خطوط پر الگ قائم رکھنا چاہتے تھے۔ لاہوری کہلائے جانے والے گروہ نے خود کو قادیان والے گروہ سے الگ کر لیا اور مولانا محمد علی کو اپنا امیر بنایا جبکہ قادیان والوں نے مرزا غلام احمد کے بڑے بیٹے مرزا بشیر الدین (1898ء تا 1965ء) کو اپنا دوسرا خلیفۃ المسیح منتخب کرا۔ اول الذکر کو احمدیہ انجمن اشاعت اسلام یا لاہوری احمدیہ جبکہ بعد الذکر (قادیان والوں) کو احمدیہ مسلم جماعت کہا جاتا ہے۔ اس تقسیم سے قبل ہی احمدیہ بیرونی ممالک میں اپنی تبلیغ کی سرگرمیاں متحرک کر چکی تھی، خواجہ کمال الدین نےانگلستان میں اس سلسلے میں سرگرمی دکھائی[14]۔ گو لاہوری گروہ مرزا کے لیئے اس قسم کے شدید تصورات اور الفاظ استعمال نہیں کرتا جیسا کہ قادیان والوں کا گروہ کرتا ہے اور لاہوری گروہ کے مطابق مرزا کی حیثیت نبی یا رسول کی نہیں بلکہ ایک مہدی یا مسیح موعود یا مجتہد کی ہے لیکن اس کے باوجود علماء کے مطابق اسلام راسخ کی رو سے ان کے نظریات باطل ہیں[15]۔ یہاں سے وہ زمانہ شروع ہوتا ہے کہ جب احمدیہ (واحد) کی تاریخ منطقی اعتبار سے اپنے انجام کو پہنچتی ہے اور اس کے بعد سے احمدیہ (منقسم) کی تاریخ کی ابتداء ہوتی ہے جس میں اس کے مذکورہ بالا دو حصے ہوئے اور اس تاریخ کا مقام یہ مضمون نہیں بلکہ ان کے اپنے مخصوص صفحات ہیں۔
عقائد کا تقابلی جائزہ[ترمیم]

[/size]

احمدیہ عقائد کے بارے میں اسلام سے منسلک افراد کی معلومات عموماً غیرکامل اور سطحی پائی جاتی ہیں جبکہ غیرمسلم افراد میں احمدیہ کی تبلیغی سرگرمیوں (اور احمدیہ تبلیغ کے لیئے اسلامی اصطلاحات اختیار کرنے) کے باعث احمدیہ اور اسلام میں فرق کی تمیز باقی نہیں رہتی؛ اس وقت تک کہ جب تک وہ متعلقہ شخص خود عالمانہ اور فاضلانہ مستند کتب اور مواد کا مطالعہ نا کرے؛ یہ بات اس لیئے بھی قابل ذکر ہے کہ اس کا موازنہ مہدی (قائم) کے تصور کی بنیادوں پر ہی قائم ہونے والے ایک اور مت ، بہائی مت ، سے کیا جائے تو صورتحال (موجودہ عہد میں) اس قدر ابہام کا شکار نہیں ہوتی کیونکہ بہائی مت والوں نے خود کو واضح طور پر اسلام راسخ سے الگ مذہب قرار دے دیا ہے۔ کسی بھی عقیدے (یا مذہب) میں جب ذیلی عقائد رکھنے والے افکار نمودار ہو جائیں تو اس مذہب کا اجتماعی (اکثریتی) حصہ ذیلی افکار رکھنے والوں کی مخالفت یا تصحیح کی کوشش کرتا ہے اور اس ذیلی عقیدے (عموماً اقلیتی) کے عقائد کو قابل توجہ نہیں سمجھتا جبکہ وہ ذیلی عقیدہ رکھنے والے افراد اقلیتی نفسیات کے باعث ناصرف اپنے ذیلی (الگ) عقیدے میں مستحکم بلکہ (مقابل آنے کی خاطر) اکثریتی عقیدے کے عقائد سے بھی کامل آگاہی حاصل کرتے ہیں ؛ اور ایسا ہی معاملہ اسلام اور احمدیہ والوں کے مابین عام آدمی کی سطح پر دیکھنے میں آتا ہے۔ قبل اس کے کہ احمدیہ عقائد پر بات کی جائے اور انکا تقابل اسلام سے کیا جائے اسلامی عقائد کا مطالعہ (جو مضمون اسلام کے قطعات ، اجزاۓ ایمان اور ارکانِ اسلام میں بھی درج ہیں) لازم آتا ہے۔


مذکورہ بالا جدول میں چند چیدہ نظریات کا تقابل محض اس لیے دیا گیا ہے کہ ایک نظر طائر میں اھم نکات پر گرفت ہو سکے لیکن اس جدول میں دیئے گئے بیانات کسی طرح بھی اپنے طور کافی نہیں ہیں اور ہر بیان کے متعدد پہلوؤں کی علمی وضاحت کے لیئے مضمون کے متن کی جانب رجوع کرنا اور حوالہ جات کا مطالعہ کرنا جدول کی گنجائش کی کمی اور اختصار کو پورا کرتا ہے۔ ان تمام نظریات کو ان پر درج حوالہ جات کے مواقع (sites) پر مطالعہ کیا جاسکتا ہے؛ ایک انتہائی متنازع معاملہ ختم نبوت کا ہے اور اس بارے میں جو عقاید درج ہیں وہ مذکورہ بالا نظریات رکھنے والوں کے مواقع سے ہی اخذ ہیں ، ختم نبوت کے بارے میں خود مرزا غلام احمد کے الفاظ یوں آتے ہیں۔۔۔۔۔

[size=40][size=40][/size][/size]میں اس کے رسول پر دلی صدق سے ایمان لایا ہوں۔ اور جانتا ہوں کہ تمام نبوّتیں اس پر ختم ہیں اور اس کی شریعت خاتم الشرائع ہے۔ مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں یعنی وہ نبوّت جو اس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور جو اس کے چراغ میں سے نور لیتی ہے وہ ختم نہیں ہوتی [18][size=40][size=40][/size][/size]
ختمِ نبوت کا اسلامی تصور[ترمیم]
مذہب اسلام سے تعلق رکھنے والے تمام خاص و عام افراد (جنہیں ملتِ اسلامیہ بھی کہا جاتا ہے) کا یہ اجتماعی عقیدہ ہے اسلام پر اللہنے اپنا دین کامل کردیا اور محمد اس دین کو انسانوں تک پہنچانے والے اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں؛ یعنی نا تو اب کوئی نیا دین آئے گا اور نا ہی کوئی نبی یا رسول اور چونکہ دین کامل ہے اس لیئے نا ہی کوئی اس کی تجدید کرنے والا مجتہد ایسا آئے گا کہ جو اسلام میں کوئی حجت قائم کر سکے۔ اس نظریے سے ہی یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ مسلم عقیدے کے مطابق رسالت کی تکمیل یا خاتم النبیین کی واحد تعریف یہ ہے کہ محمد ہر اعتبار سے آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کسی بھی قسم کا کوئی نبی آئے گا اور نا ہی کوئی ایسا شخص آسکتا ہے کہ جس پر کسی بھی قسم کی کوئی وحی جو دین سے متعلق ہو نازل ہو۔
ختمِ نبوت کا احمدیہ تصور[ترمیم]
اس جماعت احمدیہ کے مطابق انبیاء دو اقسام کے ہوا کرتے ہیں ، اول وہ کہ جو کوئی قانون بناتے ہیں (جیسے محمد) اور دوم وہ جو کہ اس قانون کی تشریح بیان کریں اور وقت کے ساتھ اس میں شامل ہونے والی اضافتوں کا صفایا کر کے اس کو پاک کریں(جیسے مرزا غلام احمد)[19]۔ جبکہ بعض حوالہ جات میں احمدیہ جماعت کے نظریے کے مطابق یہ اقسام تین بتائی جاتی ہیں؛ اول وہ انبیاء جو کہ کوئی قانون لے کر آتے ہیں دوم وہ انبیاء جو کہ قانون نہیں لاتے اور سوم وہ انبیاء جن کو قانون لانے والے انبیاء سے نسبت اور ان کی حرمت کے لحاظ سے انبیاء کا درجہ دیا جاتا ہے[20]۔ اس قسم کے اصطلاحاتی ابہام کی اور مثالیں بھی ملتی ہیں؛ مثال کے طور پر نبی اوررسول (پیغمبر) کے تعریفوں میں اختلاف اور اس ابہام میں خود مرزا غلام احمد کا حصہ بھی مندرجہ ذیل اقتباس سے واضح ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔

[size=40][size=40][/size][/size]میں نبی نہیں ہوں اور نا ہی کسی (الہامی) کتاب کو رکھتا ہوں[21][size=40][size=40][/size][/size]
مرزا غلام احمد ہی کی تحریر سے ایک اور اقتباس درج ذیل انداز میں کتاب بنام نزول المسیح میں آتا ہے۔۔۔۔۔۔

[size=40][size=40][/size][/size]اور میں رسول اور نبی ہوں یعنی باعتبار ظلیتِ کاملہ کے میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن خدا تعالٰی نے ہر ایک بات میں وجودِ محمدی میں مجھے داخل کر دیا یہاں تک کہ یہ بھی نا چاہا کہ یہ کہا جائے کہ میرا کوئی الگ نام ہو یا کوئی الگ قبر ہو کیونکہ ظل اپنے اصل سے الگ ہو ہی نہیں سکتا [22]۔[size=40][size=40][/size][/size]
احادیث کا دجال[ترمیم]
صحیح بخاری کے الفاظ میں دجال کا لفظ دجل (کذب / دھوکہ) سے بنا ہے جس کے معنی جھگڑا فساد پرپا کرنے والے کے، لوگوں کو فریب دھوکے میں ڈالنے والے کے ہوتے ہیں؛ بڑا دجال آخر زمانے میں پیدا ہوگا اور چھوٹے چھوٹے دجال بکثرت ہر وقت پیدا ہوتے رہیں گے جو غلط مسائل کے لیۓ قرآن کو استعمال کر کے لوکوں کو بے دین کریں گے[23]۔ احادیث میں محمد نے اپنے بعد آنے والے نبوت کے دعویداروں کے لیئے دجال کا لفظ استعمال کیا ہے یعنی انتہائی دھوکہ باز اور دجل میں ڈالنے والا۔ اور کاذب انبیاء کے لیئے احادیث میں یہ لفظ اختیار کرنے سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ کاذب انبیاء دجل (دھوکے) سے کام لیں گے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے نبوت کا دعویٰ کریں گے[24]۔

[size=40][size=40][/size][/size]قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دو عظیم جماعتیں جنگ نہ کریں گی۔ ان دونوں جماعتوں کے درمیان بڑی خونریزی ہوگی۔ حالانکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہوگا اور یہاں تک کہ بہت سے جھوٹے دجال بھیجے جائیں گے۔ تقریباً تیس دجال۔ ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے اور یہاں تک کہ علم اٹھا لیا جائے گا۔۔۔۔۔ جاری: حدیث 7121 کتاب الفتن[23]۔[size=40][size=40][/size][/size]
مہدی کون؟[ترمیم]
امام مہدی کا نظریہ اسلام کی دستاویزات میں رچا بسا ہے اور اس شخصیت کے انتظار میں مسلمان آس لگائے بیٹھے رہتے ہیں۔ لیکن اس کی تشریح میں تضاد پایا جاتا ہے؛ اہل سنت کے علماء امام مہدی کے بارے میں احادیث کے بیان سے نہیں تھکتے [25] اور اثنا عشریہ اہل تشیع کے علماء کے نزدیک یہ غیبت صغرٰی کے بعد غیبت کبرٰی میں چلے جانے والے بارھویں امام ہیں [26] جبکہ سبیعہ اسماعیلی اہل تشیعکے نزدیک یہ امام جعفر الصادق (چھٹے امام) کے بڑے فرزند اسماعیل بن جعفر کے فرزند محمد بن اسماعیل یعنی ساتویں امام ہیں [27]۔ اہل تشیع کے معیار کے مطابق تو مرزا غلام احمد کو منطقی اعتبار سے مہدی (بارھواں امام) نہیں کہا جاسکتا، اہل سنت کی احادیث اور اہل تشیع کے نظریۂ غیبت کا سہارا لے کر دنیائے اسلام میں یکے بعد دیگرے مہدیوں کا نزول ہوتا رہا ہے جن میں مہدی سوڈانی ، نیشن آف اسلام سے فارڈ محمد اور سید علی محمد باب کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ اہل سنت کی احادیث سے امام مہدی کا جو تصور ملتا ہے اس میں مندرجہ ذیل باتیں شامل ہیں[25]۔



  1. مہدی کا تعلق محمد کے خاندان (حضرت فاطمہ) کے سلسلے سے ہوگا۔


  2. نام محمد سے مماثلت رکھتا ہوگا۔


  3. قرب قیامت کے وقت ظہور ہوگا۔


  4. مدینہ سے مکہ ہجرت کریں گے، جہاں ان کے ہاتھ پر بیعت کی جائے گی۔


  5. انہیں عراقی عوام کی بیعت اور مدد حاصل ہوگی۔


  6. ناانصافی کے خلاف معرکوں میں حصہ لیں گے۔


  7. عیسیٰ ان کی امامت میں نماز ادا کریں گے۔


  8. عربوں پر سات یا آٹھ برس حکومت کریں گے۔




مہدی اور عیسیٰ ایک یا دو؟[ترمیم]
مرزا غلام احمد نے اپنے مسیح موعود ہونے کا بھی دعوی کیا اور احادیث کی بنیادوں پر مہدی اور مسیح دو الگ شخصیات کا نظریہ رکھنے والے مسلم علماء کے اعتراض کا جواب اپنی کتاب بنام ' حقیقت المسیح ' میں دیا جہاں ابن ماجہ کا حوالہ دے کر ایک حدیث درج کی گئی ہے

لامهدي الاعيسى
عیسیٰ کے سوا کوئی مہدی نہیں
مرزا غلام احمد نے اس کی تشریح میں درج کیا کہ حدیث کے معنی یہ ہیں کہ بجز اس شخص کے جو عیسیٰ کی خو اور طبیعت پر آئے گا اور کوئی بھی مہدی نہیں آئیگا۔ یعنی وہی مسیح موعود ہوگا اور وہی مہدی ہوگا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خو اور طبیعت اور طریق تعلیم پر آئیگا [28]۔ اس کے برعکس اہل سنت کے علماء متعدد احادیث ایسی بیان کرتے ہیں کہ جن میں مہدی اور عیسیٰ کی شخصیات الگ الگ ثابت ہوتی ہیں۔ ابن ماجہ کی سنن ابن ماجہ میں ایک طویل حدیث کا حصہ یوں بیان ہوا ہے۔۔۔

[size=40][size=40][/size][/size]فَقَالَتْ أُمُّ شَرِيكٍ بِنْتُ أَبِي الْعُكَرِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَالَ ‏"‏ هُمْ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ وَجُلُّهُمْ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ وَإِمَامُهُمْ رَجُلٌ صَالِحٌ فَبَيْنَمَا إِمَامُهُمْ قَدْ تَقَدَّمَ يُصَلِّي بِهِمُ الصُّبْحَ إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِمْ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ الصُّبْحَ فَرَجَعَ ذَلِكَ الإِمَامُ يَنْكُصُ يَمْشِي الْقَهْقَرَى لِيَتَقَدَّمَ عِيسَى يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَيَضَعُ عِيسَى يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ ثُمَّ يَقُولُ لَهُ تَقَدَّمْ فَصَلِّ فَإِنَّهَا لَكَ أُقِيمَتْ ‏.‏ فَيُصَلِّي بِهِمْ إِمَامُهُمْ
ام شریک بنت ابی العکر نے کہا: یا رسول اللہ! اس وقت عرب کہاں ہوں گے؟ تو رسول اللہ نے فرمایا۔ عرب اس وقت کم ہوں گے اور ان میں بھی اکثر بیت المقدس میں ہوں گے اور ان کا امام و امیر ایک رجل صالح ہوگا۔ جس وقت ان کا امام نماز فجر کے لیے آگے بڑھے گا اچانک عیسیٰ ابن مریم اسی وقت نازل ہوں گے اور وہ امام آپ کو دیکھ کر پیچھے ہٹنا چاہے گا تاکہ عیسیٰ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ عیسیٰ ، امام کے کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر فرمائیں گے؛ آگے بڑھو اور نماز پڑھاؤ کیونکہ تمہارے ہی لیے اقامت کہی گئی ہے۔ سو ان کے امام لوگوں کو نماز پڑھائیں گے [29]
[size=40][size=40][/size][/size]
مکمل حدیث کو مذکورہ بالا ربط پر دیکھا جاسکتا ہے اس میں لفظ امام کی نسبت امام مہدی کو ہے اور حدیث سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخصیت امامت کر رہی ہے اور دوسری اس کی امامت میں نماز ادا کر رہی ہے۔
اسلام میں مسیح موعود[ترمیم]
حضرت عیسٰی کی دوبارہ آمد (مسیح موعود، جو کہ مہدی سے الگ شخصیت کے تصور میں مسیحا ہیں) کے بارے میں ایک انتہائی اہم اور ابتدائی بات یہ ہے کہ اسلامی شریعت کے بنیادی مآخذ قرآن میں (تمام تاویلات و متعدد الانواع تفاسیر کو الگ کرتے ہوئے) کوئی براہ راست یا مفروغ و مثبوت پیغام یا حوالہ نہیں ملتا۔ مستند احادیث کی کتب میں عیسٰی ابن مریم کے اترنے کا تذکرہ آتا ہے؛

[size=40][size=40][/size][/size]كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ
اس وقت کیا حال ہوگا جب عیسٰی ابن مریم تم میں اتریں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا [30]
[size=40][size=40][/size][/size]
مذکورہ بالا حدیث سے یہ واضح ہے کہ (نمودار ہونے والے) عیسٰی اور مہدی علیحدہ علیحدہ شخصیات رکھتے ہونگے یعنی دو الگ الگ افراد ہونگے؛ اسی حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عیسٰی کے برخلاف مہدی اتریں گے نہیں بلکہ انسانوں میں سے ہی ہونگے۔ اسلام میں احادیث کی رو سے عیسٰی کی قیامت سے قبل دوبارہ آمد کا نظریہ موجود ہے لیکن یہ عیسٰی وہی ہوں گے جو کہ سن 30ء (610 ق‌ھ) میں اس دنیا کی موت کے بغیر زندہ اٹھا لیئے گئے تھے

[size=40][size=40][/size][/size]وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا - بَل رَّفَعَهُ اللّهُ إِلَيْهِ
اور نہیں قتل کیا ہے انہوں نے مسیح کو یقیناً - بلکہ اٹھا لیا ہے اس کو اللہ نے اپنی طرف [31]
[size=40][size=40][/size][/size]
تجسیدِ کرشنا[ترمیم]
کرشنا ہندو مت میں ایک دیوتا (خدا) کا نام ہے اور کرشنا کے تناسخ (reincarnation) کو ہندو مت میں سب سے کامل ترین ہونے کا درجہ دیا جاتا ہے۔ تناسخ (جو کے نسخ سے ماخوذ ہے) ایک ایسا لفظ ہے جو کہ متعدد مذاہب عالم میں بکثرت مستعمل ہوتا ہے اور سے مراد نسخ (بصورت فعل) یعنی کسی کی جگہ لینے، تجسید (embodiment) حاصل کرنے یا کسی میں حلول کر جانے کی لی جاتی ہے۔ ہندو مت کے نظریے کے مطابق تمام زندہ اجسام فی الحقیقت خدا کی تجسید (بہ اعتبار تناسخ) ہیں لیکن کامل نہیں [32]۔
امت مسلمہ کافر[ترمیم]
جماعت احمدیہ کے علماء اکرام کے نزدیک وہ تمام مسلمان جو کہ مرزا غلام احمد پر ایمان نہیں رکھتے وہ کافر ہیں مسلمان نہیں؛ اور امت مسلمہ کہلائی جانے والی امت کے ان کفار المسلمین سے متعلق، مرزا غلام احمد کے الفاظ اس طرح بیان ہوتے ہیں۔

[size=40][size=40][/size][/size]بہرحال جبکہ خدا تعالٰی نے مجھ پر ظاہر کیا کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔ اور خدا کے نزدیک قابلِ مؤاخذہ ہے۔ تو یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ اب میں ایک شخص کے کہنے سے جس کا دل ہزاروں تاریکیوں میں مبتلاء ہے۔ خدا کے حکم کو چھوڑ دوں اس سے سہل تر یہ بات ہے کہ ایسے شخص کو اپنی جماعت سے خارج کردیا جاوے اس لیے میں آج کی تاریخ سے آپ کو اپنی جماعت سے خارج کرتا ہوں (مرزا غلام احمد) [33]۔[size=40][size=40][/size][/size]
خلیفۃ الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد نے اپنے الفاظ استعمال کرتے ہوئے اس نظریے کی تشریح یوں بیان کی ہے

[size=40][size=40][/size][/size]اس (مذکورہ بالا) الزام میں وہی لوگ شامل نہیں ہیں جنہوں نے تکفیر میں جد و جہد کی ہے۔ بلکہ ہر ایک شخص جس نے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جو لوگ حضرت مسیح موعود کو کافر تو نہیں کہتے مگر آپ پر ایمان بھی نہیں لاتے وہ بھی انہی لوگوں کے ساتھ شامل ہیں جو آپ کو کافر کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ وہ بھی جو آپ کو دل میں سچّا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپ کا انکار نہیں کرتا لیکن ابھی بیعت میں اسے کچھ توقف ہے کافر قرار دیا گیا ہے [33] [34]۔[size=40][size=40][/size][/size]
لاہوری جماعت والے احمدی اس بات خود کو الگ کرنے کے لیے اس کو مرزا بشیر الدین محمود اور ان کے ساتھیوں کی خلافت حاصل کرنے کے لیے حکمت عملی قرار دیتے ہیں؛ لاہوری احمدی اس نظریے سے خود کو الگ کرتے ہیں کہ جو کلمۂ شہادت پر ایمان رکھتا ہے وہ کافر ہے! [34] لیکن خلیفۃ المسیح الثانی کے نظریات سے مبرا ہو جانے کے بعد تشنگی جو باقی رہ جاتی ہے وہ یہ ہے کہ خود مرزا غلام احمد نے بھی یہی نظریہ درج کیا ہے۔



    Current date/time is Thu Aug 16, 2018 7:33 pm