Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


تاریخ: 21 اگست 2126 قیامت

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

تاریخ: 21 اگست 2126 قیامت

Post by Admin on Fri Dec 19, 2014 4:54 am

تاریخ: 21 اگست 2126 قیامت
مقام: کرہ ارض۔ پورے سیارے پر ہراساں انسان چھپنے کی کوشش میں ہیں، کروڑوں کے پاس کوئی جائے پناہ نہیں، کچھ مایوسی کے عالم میں غاریں اور متروک کانیں ڈھونڈ کر زیرِ زمین چلے گئے ہیں، چند ایک نے آبدوزوں میں بیٹھ کر سمندروں کی گہرائیوں کی راہ لی ہے، ایسے بھی ہیں جو عالم مایوسی میں حواس کھو کر قتل وغارت اور درندگی پر اتر آئے ہیں، لیکن زیادہ تر سکتے کے عالم میں بیٹھے خاتمے کے منتظر ہیں.
آسمان پر روشنی کی بہت لمبی اور چوڑی پٹی ہے جو لگتا ہے کھرچ کر بنائی گئی ہے، آغاز میں یہ ہلکی لو دیتی پینسل نما باریک شعاع تھی، روز بروز پھیلتے اس نے خلاء میں ابلتی گیس کے خوفناک گرداب کی شکل اختیار کر لی ہے، گرد اور دھند سے بنی دم کے ایک سرے پر سیاہ بے شکل خوفناک تودہ سا ہے، یہ سرا اتنا چھوٹا ہے کہ خوفناک اثرات کی چغلی نہیں کھاتا، چالیس (40,000) ہزار فی گھنٹہ یا دس میل فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین کی طرف بڑھ رہا ہے، اس ٹریلین ٹن برف اور پتھر کا آواز کی رفتار سے ستر گنا پر زمین سے ٹکرانا طے ہے.
نسلِ انسانی سوائے دیکھنے اور انتظار کرنے کے اور کچھ نہیں کر سکتی، سائنسدان ہونی کو اٹل مان کر بہت پہلے دور بینوں پر کام بند کر چکے ہیں، اب کمپیوٹر بھی بند کر دیے گئے ہیں، تباہی کے جو لا محدود خاکے کمپیوٹروں سے حاصل ہوئے تھے اتنے خوفناک اور غیر یقینی ہیں کہ لوگوں تک نہیں پہنچائے جاسکتے ہیں، کچھ سائنسدانوں نے اپنے ہم عصروں پر علمی برتری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بقاء کی تفصیلی اور بہترین حکمتِ عملی تشکیل دی ہے، کئی ایسے بھی ہیں جو اس حادثے کا ہر ممکن احتیاط سے آخری دم تک مشاہدہ کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں تاکہ سچے سائنسدان کا کردار ادا کرتے ہوئے تمام اعداد وشمار کو زیر زمین دفن کیپسول تک منتقل کر سکیں، آنے والی نسل کے لیے.
تصادم کا لمحہ آن پہنچا ہے، دنیا بھر میں کروڑوں کی آنکھیں گھڑیوں پر ہیں، آخری تین منٹ۔
جہاں دمدار ستارے کو زمین سے ٹکرانا ہے اس کے عین اوپر آسمان شق ہوگیا ہے، ہزارہا میل ہوا دھماکے سے پھٹ پڑی ہے، کسی بڑے شہر جتنا موٹا آتشیں نیزہ آسمان سے لپکا اور زمین میں پیوست ہوگیا ہے، اس سارے عمل میں صرف پندرہ سیکنڈ لگے ہیں، زمین نے یوں جھرجھری لی ہے گویا دس ہزار زلزلے بیک وقت آئے ہوں، دھماکے سے پیدا ہونے والی دباؤ کی لہریں (Shock Waves) حادثے کے مقام سے چاروں طرف پھیلی ہیں اور راستے میں آنے والی ہر عمارت اور ڈھانچے کو زمین کے برابر کرتی چلی گئی ہیں، تصادم کے گرد کی جگہ ایک دائرے کی شکل میں میلوں بلند پہاڑ کی طرح اٹھی، زمین کا اندرون نظر آنے لگا اور میلوں پر محیط آتش فشاں نے جنم لیا، پگھلی چٹانوں کی دیوار لہروں کی صورت باہر سفر کرنے لگی اور سطح زمین اس طرح تہہ وبالا ہوگئی گویا کسی کمبل کو جھٹکا دے کر چھوڑا گیا ہو.
خود آتش فشاں کے اندر ٹریلینوں ٹن چٹانیں گیس بن گئی ہیں، بہت سا لاوا اتنی قوت سے اچھلا کہ خلائے بسیط تک اٹھتا چلا گیا ہے، اس سے بھی بڑی مقدار سینکڑوں ہزاروں میل دور بارش کی طرح برسی ہے اور جو کچھ بچا تھا اسے بھی تباہ کرچکی ہے، گرد وغبار کا ایک ستون جو آسمان کی طرف اٹھا، پھیل کر سورج اور زمین کے درمیان حائل ہوگیا ہے.
جب اچھل کر اوپر گیا ہوا ملبہ دوبارہ زمین پر گرنے لگا تو گرد آلودہ اندھیرے میں کروڑوں شہابیوں کی جھلملاہٹیں ہونے لگیں، ان کی جھلساتی حرارت نے نیچے موجود ہر چیز کو بھون ڈالا ہے.
مندرجہ بالا منظرنامہ 21 اگست 2126 میں ایک دم دار ستارے سوئفٹ ٹٹل (Swift–Tuttle) کے زمین کے ساتھ ٹکرانے کی پیش گوئی پر مبنی ہے، اگر یہ سب ہوجاتا ہے تو عالمگیر تباہی ہوگی اور انسانی تہذیب معدوم ہوجائے گی، جب یہ دم دار ستارہ 1993 میں ہماری زمین کے پاس سے گزرا تھا تو حساب کتاب لگایا گیا کہ 2126 میں اس کے زمین سے ٹکرانے کے واضح امکانات ہیں، لیکن بعد میں کیے جانے والے حساب کتاب نے ثابت کیا ہے کہ دم دام ستارہ زمین سے ٹکرائے گا نہیں بلکہ دو ہفتوں کے فاصلے سے گزر جائے گا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ خطرہ ہمیشہ کے لیے ٹل گیا، بہت جلد یا بدیر یہی مذکورہ بالا دم دار ستارہ یا کوئی اور جسم زمین سے ٹکرا جائے گا، تخمینہ لگایا گیا ہے کہ تقریباً 10 ہزار اجسام جن کا قطر نصف میل یا زیادہ ہے ایسے ہیں جن کا گردشی مدار کرہ ارض کے مدار کو قطع کرتا ہے، ان فلکیاتی مداخلت کاروں کا منبع نظامِ شمسی کے دور دراز کے سرد گوشے ہیں، ان میں سے کچھ دم دار ستاروں کی باقیات ہیں جو سیاروں کے تجاذبی میدانوں میں پھنس گئے ہیں، جبکہ باقی مریخ اور مشتری کے درمیان پائی جانے والی سیارچوں کی پٹی سے تعلق رکھتے ہیں، مداروں کے عدم استحکام کے باعث یہ چھوٹے چھوٹے لیکن مہلک اجسام نظامِ شمسی کے اندرون میں آتے جاتے رہتے ہیں، یہ ہماری زمین اور دوسرے سیاروں کو درپیش مستقل خطرات میں سے ایک ہیں.
ان میں سے کئی اجسام زمین کو تمام نیوکلیائی دھماکوں سے زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں، اس کے وقوع پذیر ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں، مسئلہ صرف یہ ہے کہ زمین کو کتنا وقت ملتا ہے، یہ انسان کے لیے بری خبر ہوگی، یہ حادثہ نوعِ انسانی کی تاریخ میں بے مثل ہوگا اور ہماری تاریخ کے خاتمے کا موجب بن سکتا ہے، اوسطاً ہر چند ملین سال بعد شہابِ ثاقب یا دم دار ستارے اس پیمانے پر ٹکرانے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں، بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پینسٹھ (65) ملین سال پہلے ڈائینوسار کی نسل بھی ایسے ہی کسی سانحے کے باعث معدوم ہوئی تھی، اگلی باری ہماری بھی ہوسکتی ہے.
بیشتر مذاہب اور ثقافتوں کے بنیادی اجزاء میں سے ایک یومِ آخرت پر ایمان ہے، بائبل کی کتابِ مکاشفہ (Book of Revelation) میں ہمارے لیے رکھی گئی اس تباہی اور موت کا بیان کچھ اس طرح ہے:
"پھر آسمانی بجلی کے کوندے، گڑگڑاہٹیں، بادلوں کی گرج اور مہیب زلزلے وارد ہوئے، زلزلہ اتنا خوفناک تھا کہ انسان کے زمین پر وارد ہونے سے لے کر ایسا زلزلہ نہیں آیا تھا، قوموں کے شہر مسمار ہوگئے، جزیرے بہہ گئے اور پہاڑ ڈھونڈنے سے نہیں ملتے تھے، آدمی پر آسمانوں سے ایسے اولوں کی بارش ہوئی جن میں سے ہر ایک کا وزن ایک پاؤنڈ تھا"
بپھری ہوئی قوتوں سے بھری اس کائنات میں زمین ایک حقیر سا جسم ہے جس پر بہت سی آفات نازل ہوسکتی ہیں لیکن اس کے باوجود اس نے ساڑھے تین سو بلین سال زندگی کی میزبانی کی ہے، زمین پر زندگی کی کامیابی کا راز خلاء ہے – بہت وسیع خلاء – خلاء کے اس وسیع سمندر میں ہمارا نظامِ شمسی سرگرمی کا ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے، اس نظامِ شمسی سے باہر نزدیک ترین ستارہ ساڑھے چار نوری سال سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے، اس فاصلے کا اندازہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ روشنی کو ترانوے (93) ملین میل دور سورج سے ہم تک آنے میں صرف ساڑھے أٹھ منٹ لگتے ہیں، چار سالوں میں روشنی بیس ٹریلین میل سے زیادہ کا سفر طے کرتی ہے.
سورج ایک عام سا بونا ستارہ ہے جو ہماری کہکشاں کے ایک ایسے حصے میں واقع ہے جو دوسرے حصوں سے کسی طور پر مختلف نہیں، اس کہکشاں میں کوئی ایک بلین ستارے ہیں جن کے وزن سورج کے وزن کے چند فیصد سے لے کر کئی سو گنا زیادہ تک ہیں، یہ ستارے بہت سی گیس اور غبار کے بادل اور نہ جانے کتنے سیارے، شہابیے، دم دار سیارے اور بلیک ہول کہکشاں کے مرکز کے گرد سست رفتاری سے گھوم رہے ہیں، جب تک یہ ذہن میں نہ ہو کہ کہکشاں کا مرئی یعنی جو حصہ نظر آتا ہے کوئی ایک لاکھ نوری میل چوڑا ہے، اجسام کی اس تعداد سے یہی تاثر ابھرتا ہے کہ کہکشاں بہت پُر ہجوم جگہ ہے، شکل میں یہ تھالی کی سی ہے جس کے مرکز میں گومڑ ہے جس میں سے ستاروں اور گیس سے بننے والے چکر دار بازو باہر نکلے ہوئے ہیں، انہی بازوؤں میں سے ایک میں ہمارا سورج بھی واقع ہے جس کا وسط مرکز سے فاصلہ کوئی تیس ہزار نوری میل ہے.
جہاں تک ہمارے علم میں ہے، ہماری کہکشاں کائنات میں کسی امتیازی حیثیت کی حامل نہیں، اسی طرح کی ایک کہکشاں اینڈرومیڈا (Andromeda) کوئی دو ملین نوری سال فاصلے پر راسی نام کے مجمع النجوم کی سمت میں پائی جاتی ہے، اسے ننگی آنکھ سے دیکھا جائے تو روشنی کے دھندلکے سے پیوند کی صورت نظر آتی ہے، کائنات کی قابلِ مشاہدہ وسعتوں میں کئی بلین کہکشائیں نظر آتی ہیں جن میں سے کچھ چکردار، کچھ بیضوی اور کچھ غیر معینہ شکل کی حامل ہیں، فاصلے کے پیمانے بہت بڑے ہیں، طاقتور دوربینوں کی مدد سے کئی بلین نوری سال دور کہکشاؤں کو علیحدہ علیحدہ دیکھا جاسکتا ہے، بعض اتنی دور ہیں کہ ان کی روشنی کو ہم تک آنے میں زمین کی عمر (یعنی ساڑھے چار بلین سال) سے بھی زیادہ عرصہ لگتا ہے.
ان ساری وسعتوں کا نتیجہ ہے کہ تصادم شاذ ونادر ہی ہوتا ہے، زمین کو سب سے بڑا خطرہ خود اپنے ہمسایوں سے ہے، سیارچے (Asteroids) اپنے مداروی سفر میں عموماً زمین کے پاس سے نہیں گزرتے، یہ عام طور پر مریخ اور مشتری (Jupiter) کے درمیان ایک پٹی میں محدود سورج کے گرد گردش کرتے ہیں، لیکن کبھی کبھار مشتری کی بہت بڑی کمیت (Mass) یعنی مادے کی مقدار کسی سیارچے کے مدار میں خلل ڈال کر اسے سورج کی طرف پھینک دیتی ہے، اور وہی زمین کے لیے خطرہ بن جاتا ہے، دوسرا خطرہ دم دار سیاروں سے ہے، ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سورج سے ایک نوری سال دور ایک غیر مرئی یعنی نظر نہ آنے والے بادل میں جنم لیتے ہیں، دم دار سیاروں کا خطرہ، سیارچوں کے برعکس، مشتری کی بجائے پاس سے گزرنے والے ستاروں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، کہکشاں ساکن نہیں بلکہ اس کا مادہ ایک مرکز کے گرد گھومتا ہے اور یوں یہ گھومتی نظر آتی ہے، سورج اور اس کے سیارے بھی کہکشاں کے گرد گھومتے ہیں اور ایک چکر کوئی دو ملین سالوں میں مکمل کرتے ہیں، اس دوران قریب سے گزرنے والے سیارے مذکورہ بالا بادل میں سے کسی دم دار سیارے کو سورج کی طرف روانہ کر سکتے ہیں، جب یہ نظامِ شمسی کے اندرونی حصہ میں پہنچتا ہے تو سورج اس کے کچھ مادے کی تبخیر کرتا ہے اور وہ اس کی دم بن جاتا ہے، بہت کم امکان ہے کہ کوئی دم دار سیارہ سورج کے گرد دورانِ گردش میں زمین سے ٹکرا جائے، نقصان دم دار سیارے کے ٹکرانے سے ہوتا ہے لیکن اس کی ذمہ داری اس ستارے پر ہے جس نے پاس سے گزرتے ہوئے اسے اوپر روانہ کیا تھا، ہماری خوش قسمتی ہے کہ ستاروں کے فاصلے بہت زیادہ ہیں اور ایسے واقعات بڑی تعداد میں رونما نہیں ہوتے.
کئی اور اجسام بھی کہکشاں میں اپنے سفر کے دوران ہماری راہ میں آسکتے ہیں، بہت بڑے بڑے گیسی بادل اس کی ایک مثال ہیں، اگرچہ ان کی کثافت ہماری تجربہ گاہوں کے خلاء سے بھی کم ہوتی ہے لیکن یہ شمسی آندھیوں پر اثر انداز ہوکر ان سے خارج ہونے والی حرارت کی مقدار کم وبیش کر سکتے ہیں، آوارہ سیارے، نیوٹران ستارے، بھورے بونے اور بلیک ہول بھی ہر وقت وسعتوں میں گرداں رہتے ہیں اور ہم پر ناگہانی بلا کی صورت نازل ہوسکتے ہیں.
اس سے بھی بھیانک خطرہ اس امکان کی صورت میں موجود ہے کہ کہکشاں کے اور بہت سے ستاروں کی طرح ہمارا سورج بھی دراصل دوہرے ستاری نظام (Double Star System) کا ایک رکن ہو، اگر ایسا ہے تو دوسرا ستارہ جسے ستارہ اجل کہنا چاہیے اس نظام کے مدار پر ابھی اتنی دور ہے کہ شناخت میں نہیں آتا، اس کے باوجود یہ اپنے بہت طویل مدار پر گردش کے دوران بھی تجاذبی طریقہ سے اپنی موجودگی کا احساس، دور دراز دم دار ستاروں کو ہماری طرف روانہ کر کے، دلا سکتا ہے، ماہرین ارضیات کا خیال ہے کہ زمین پر ماضی میں بڑے پیمانے کی ماحولیاتی تباہی تواتر سے اور خاص وقفوں سے ہوتی رہی ہے، انہوں نے اس وقفہ کی طوالت تقریباً 30 ملین سال شمار کی ہے.
فلکیات کے ماہرین کو دور دراز علاقوں میں کہکشاؤں کا تصادم دیکھنے کو مل جاتا ہے، کسی دوسری کہکشاں کے ہماری کہکشاں کے ساتھ ٹکرا کر اسے ملیا میٹ کردینے کے کتنے امکانات ہیں؟ چند خاص ستاروں کی غیر معمولی تیز حرکت اس امر کے شواہد فراہم کرتی ہے کہ پہلے بھی کچھ چھوٹی کہکشائیں اس نوعیت کا تصادم کر چکی ہیں، لیکن دو کہکشاؤں کے تصادم کا لازمی نتیجہ ان کے ستاروں کی تباہی نہیں ہوتا، کہکشاؤں اور ستاروں کے ما بین اتنا فاصلہ ہوتا ہے کہ وہ بغیر ستاروں کے تصادم کے باہم مدغم ہوسکتی ہیں.
بہت سے لوگوں کے ذہنوں پر قیامت سوار ہے یعنی دنیا کی اچانک اور ہمہ رنگ تباہی، لیکن سست رو انحطاط اچانک موت سے بڑا خطرہ ہے، زمین کئی طرح سے رفتہ رفتہ ناقابلِ رہائش ہوسکتی ہے، سست رو ماحولیاتی تنزلی، موسمی تبدیلی، سورج سے خارج ہونے والی حرارت میں معمولی سی کمی بیشی، یہ سب عوامل اس ناتواں سیارے پر ہماری زندگی کو معدوم نہیں تو مشکل ضرور کر سکتے ہیں، لیکن ایسی تبدیلیاں ہزاروں بلکہ لاکھوں سالوں میں ہوں گی اور تب تک انسان ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی سے ان پر قابو پانے کا اہل ہوجائے گا، مثلاً اگر ایک برفانی دور کا آغاز ہوتا ہے تو نسلِ انسانی کے معدوم ہونے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ یہ عمل اتنا سست ہوگا کہ اس کے خلاف مدافعتی حکمت عملی وضع کرنے کا موقع مل جائے گا، اگر ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار کے پیشِ نظر قیاس آرائی کی جائے تو آنے والے ایک ہزار سال میں انسان یا اس کے جانشین بڑے طبعی نظاموں اور بالآخر فلکیاتی پیمانے کی مہمات سر کرنے کے اہل ہوجائیں گے.
کیا اصولی طور پر یہ ممکن ہے کہ انسان بحیثیت نوع ابدیت حاصل کرے، عین ممکن ہے، لیکن ہم دیکھیں گے کہ ابدیت کا حصول آسان نہیں اور یہ نا ممکن بھی ثابت ہوسکتی ہے، کائنات خود کچھ طبعی قوانین کے تحت ہے جو اس پر ایک دورِ حیات مسلط کرتے ہیں، یعنی پیدائش، ارتقاء اور شاید موت، ہمارا تصور بھی ستاروں سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا

راشد علی پرچاوے



    Current date/time is Wed Nov 21, 2018 12:26 am