Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


جہاں خوف کے سائے پھیلے ہیں

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

جہاں خوف کے سائے پھیلے ہیں

Post by Admin on Fri Dec 25, 2015 6:05 pm

برازیل کا اسنیک آئی لینڈ اپنے دنیا بھر کے سیاحوں کے لئے جنت شمار کیا جاتا ہے
ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں گھومے پھرے اور نت نئے مقام دیکھے یا پھر ان مقامات پر جائے جہاں لطف اندوز ہونے کے خوب مواقع میسر ہوں اور عموماً سیاح حضرات ایسی ہی جگہوں پر جانا پسند کرتے ہیں، لیکن کچھ ایسے خواتین اور حضرات بھی ہوتے ہیں جو زیادہ تر ان مقامات پر جانا پسند کرتے ہیں۔جہاں قدم قدم پر پراسراریت کے بادل چھائے ہوں، حالاں کہ جان جوکھم میں ڈال کر ان علاقوں کی سیر کرنا یا انہیں دریافت کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔ تاہم یہ بلند حوصلہ لوگ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ان پراسرار اور اجنبی علاقوں میں جانے سے گریز نہیں کرتے۔
اس مضمون میں ایسے ہی کچھ اہم مقامات کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں، جن کے گرد کسی نہ کسی حوالے سے دل دہلانے والی کہانیاں، انجانے خوف، پے درپے پیش آنے والے پراسرار حادثات اور انوکھے حالات اور واقعات کی چادر تنی ہوئی ہے۔
٭اسنیک آئی لینڈ
Snake Island
برازیل کی ریاست سائو پالو برازیل کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے تو دوسری جانب اپنے منفرد لینڈ اسکیپ کے باعث دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے جنت شمار کی جاتی ہے۔

طویل ساحلی پٹی کی حامل اس ریاست سے تیس کلومیٹر کی دوری پر سمندر میں ’’سانپ جزیرہ‘‘ واقع ہے، جسے انگریزی زبان میں اسنیک آئی لینڈ اور مقامی زبان میں ’’ایلہا ڈی کوئیمیڈا گرانڈ ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ جزیرہ زہریلے سانپوں کی کثرت کے باعث عوام کے لیے ممنوع مقام ہے۔ اس جزیرے میں سانپوں کی انتہائی زہریلی قسم ’’فرڈی لانس‘‘ کی کثرت ہے۔ چار لاکھ تیس ہزار مربع میٹر پر محیط اس جزیرے میں ’’گولڈن لانس ہیڈ‘‘ کے نام سے بھی معروف ان زہریلے سانپوں کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہر مربع میٹر رقبے پر کم ازکم تین یا چار سانپ موجود ہیں۔

پرندوں کو بطور غذا استعمال کرتے ہوئے عرصۂ دراز سے پلنے والے ان سانپوں کی مجموعی تعداد کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ تاہم محتاط اندازے کے مطابق جزیرے پر پانچ سے سات ہزار سانپ ہر وقت پھنکارتے رہتے ہیں




واضح رہے کہ یہ جزیرہ پہاڑی پر مشتمل ہے اور اس کا کوئی ہموار ساحل نہیں ہے، لہٰذا یہاں اگر کوئی اپنے قدم رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا استقبال پہاڑی کے ساتھ درختوں پر لٹکتے ہوئے دو سے تین فٹ طوالت کے سانپ کرتے ہیں۔ اس وقت اس جزیرے میں برازیلین بحریہ کا ایک غیرآباد لائٹ ہائوس ہے جو عرصۂ دراز سے اپنے رکھوالے کا منتظر ہے۔
٭اوکیگھارا جنگل
Aokigahara Forest
سرسراتی سرد ہوائیں، تاریکی میں ڈوبے کیچڑ میں ایستادہ ہیبت ناک درخت اور ان سے ٹکراتی ہوائوں سے پیدا ہونے والی چیخ نما صدائوں کا مسکن ’’اوکیگھارا جنگل‘‘ دہشت کی علامت بن چکا ہے، کیوں کہ جاپان کے تاریخی پہاڑ فیجی کے شمال مغرب میں واقع یہ تاریک جنگل ان گنت لاشوں کا بھی مسکن ہے۔




دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ جنگل قبرستان بھی نہیں ہے تو پھر یہاں لاشوں کا کیا کام دراصل ضلع ’’یاما ناشی‘‘ کے کنارے پنتیس مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا یہ اوکیگھارا جنگل جاپانیوں کے لیے خودکشی کا سب سے پسندیدہ مرکز ہے، جہاں اکثروبیشتر درختوں سے پھندا لگی جھولتی لاشیں نظر آتی ہیں یا پھر جنگل کے پر سکوت ماحول میں فائر کی آواز موت کی علامت بن کر بین کرتی ہے۔




واضح رہے کہ جاپان میں خودکشیوں کا تناسب دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ہے یوں تو جاپان میں مذہبی بنیاد پر رضاکارانہ خودکشی کا سلسلہ عرصۂ دراز سے جاری ہے، جسے ’’ہاراکاری‘‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم گذشتہ کئی دہائیوں سے خودکشی کی وجوہات میںاکیلا پن، گھریلو ناچاقی، معاشی بدحالی اور قرضوں کی عدم ادائیگی شامل ہے۔

اوکیگھارا جنگل میں خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے انگریزی اور جاپانی زبان میں تنبیہی کتبے بھی لگائے گئے ہیں۔ تاہم اعدادوشمار کے مطابق سن انیس سو اٹھاسی سے اب تک یہاں سالانہ اوسطاً سو سے زاید افراد موت کو گلے لگاتے ہیں اور یہ رجحان جاپان کے مالی سال کے اختتام پر مارچ کے مہینے میں عروج پر ہوتا ہے۔ ’’درختوں کا سمندر‘‘ کے نام سے بھی معروف اس جنگل کا موت میں رنگا ہوا ماحول جس میں لاشوں کی بدبو اور قدموں تلے چرمراتی انسانی ہڈیوں کی آواز واضح محسوس کی جاسکتی ہے، کم زور دل حضرات کے لیے طبعی موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر سیاح اوکیگھارا جنگل کو دور سے ہی دیکھنے پر اکتفا کرتے ہیں۔
٭گڑیوں کا جزیرہ
Isla de las Munecas
شمالی امریکا میں واقع ملک میکسیکو اپنی متنوع ثقافت اور تاریخ کے حوالے سے مشہور و معروف ہے۔ میکسیکو کے دارالحکومت کا نام بھی ’’میکسیکو سٹی‘‘ ہی ہے۔

یہ عظیم الشان شہر انتظامی طور پر سولہ حصوں میں منقسم ہے جس میں سے ایک ’’زو کچی ملکو‘‘ (Xochimilco)ہے۔ میکسیکو شہر کے جنوب میں اٹھائیس کلومیٹر کی دور پر واقع زوکچی ملکو کا بیشتر حصہ نہروں پر مشتمل ہے۔ ماضی میں ان نہروں کے درمیان کاشت کاری کی غرض سے بنائے گئے مٹی کے وسیع ٹیلے آج بھی موجود ہیں، جو ان نہروں کے درمیان جزیروں کے مانند نظر آتے ہیں۔ ان ہی خشکی کے ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑے کا نام مقامی افراد نے ’’گڑیوں کا جزیرہ‘‘ رکھا ہوا ہے۔
یہ چھوٹا سا مگر ہمورا سطح کا ٹیلا ’’ٹی شیلو‘‘ نہر کے درمیان واقع ہے، سربریدہ بدن، ہاتھ پیر کٹی ہوئی یا پھر آنکھوں سے محروم سیکڑوں بوسیدہ گڑیوں سے سجے یا اٹے ہوئے اس جزیرے کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ آج سے تقریباً پچاس برس قبل یہاں پر ایک ننھی بچی پراسرار حالات میں ڈوب کر مرگئی تھی اور عین اس جگہ سے جہاں وہ بچی ڈوبی تھی جزیرے کے رکھوالے ’’ڈان جیولین سانتانا بریرا‘‘ کو ایک گڑیا پانی پر بہتی ہوئی ملی تھی، جسے اس نے نکال کر درخت سے ٹانگ دیا تھا۔ کچھ دنوں بعد وہاں سے کشتی میں گزرنے والے کچھ افراد نے محسوس کیا کہ گڑیا انہیں دیکھ کر نہ صرف ہاتھ ہلاتی ہے بلکہ منہ سے بھی کچھ کہتی ہے۔
اس واقعے کے مشہور ہوتے ہی جزیرہ ایک پراسرار حیثیت اختیار کرگیا۔ دوسری جانب جزیرے کے رکھوالے ڈان جیولین سانتانا بریرانے محسوس کیا کہ اسے کوئی ماورائی قوت مزید گڑیائیں لانے اور انہیں درختوں پر لٹکانے کا حکم دے رہی ہیں۔ چناںچہ اس نے اس حکم پر عمل شروع کردیا اور آج جزیرے کے تمام درخت اس کی لٹکائی ہوئی گڑیوں سے بھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔
لڑکی کے ڈوبنے کے پچاس سال بعد حیرت انگیز طور پر سن دوہزار ایک میں عین اسی مقام جہاں لڑکی ڈوبی تھی ڈان جیولین سانتانا بریرا بھی پراسرار طور پر ڈوب کر ہلاک ہوگیا۔ اس واقعے نے جزیرے کو مزید پراسرار بنادیا اور آج صرف باہمت سیاح ہی خشکی کے اس ٹکڑے پر قدم رکھتے ہیں ۔

جن میں سے کچھ سیاحوں نے پرانی، بوسیدہ اور گھورتی ہوئی آنکھوں والی ان گڑیوں میں اپنی لائی ہوئی گڑیائیں بھی لٹکادی ہیں۔ تاہم اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ شام کا اندھیرا پھیلتے ہی درختوں کی خشک شاخوں اور کھردرے تنوں سے لٹکی ہوئی بے ضرر گڑیائوں کی گھورتی ہوئی آنکھیں جزیرے کے قریب سے کشتیوں میں گزرنے والوں کو تیز تیز چپو چلانے پر مجبور کردیتی ہیں۔
٭دی اورٹن پل
The Overtoun Bridge
اسکاٹ لینڈ کی کائونٹی ڈنبرٹن میں ایک چھوٹا سا پرسکون اور سرسبز گائوں ملٹن ہے یہ گائوں مشہور عمارت ’’اوورٹن ہائوس ‘‘ کے قرب میں واقع ہے اور اوورٹن ہائوس اسٹیٹ کا حصہ ہے ۔اس اوورٹن اسٹیٹ گیسٹ ہائوس کے قریب سے دریائے ’’کلیڈ ‘‘ گزرتا ہے ۔

جس سے نکلنے والی ایک نہر کے اوپر اٹھارہ سو پچانوے میں تعمیر کیا گیا ایک معمولی سا خمیدہ پل ہے۔
اس پل کے نیچے نہایت کم مقدار میں پانی بہتا ہے جب کہ نہر کا فرش سخت چٹانی پتھروں اور جھاڑ جھنکاڑ سے اٹا ہوا ہے۔
سن انیس سو پچاس کی دہائی میں یہ پل اس وقت پراسرار حیثیت اختیار کرگیا۔ جب مقامی افراد نے محسوس کیا کہ اس پل سے بہت سے کتے کود کر اپنی جان دے رہے ہیں اور ان کے اس عمل کی بظاہر کوئی وجہ بھی سامنے نہیں آرہی۔ واضح رہے کہ نہر میں مچھلیاں بھی نہیں ہوتیں جا ن دینے یا دوسرے لفظوں میں خودکشی کرنے والے یہ کتے عموماً لمبی تھوتھنی والے ’’لبیراڈوری‘‘ نسل سے تعلق رکھتے تھے کتوں کی یہ نسل زبردست قوت شامہ رکھتی ہے اور تیر بھی سکتی ہے۔

خودکشی کے عمل کا ایک اور پراسرار پہلو یہ بھی ہے کہ مرنے والے تمام کتوں نے اوورٹن ہائوس کی جانب سے آتے ہوئے پل کی دائیں جانب کی دیوار سے نہر میں کودکر خودکشی کی ہے۔اس حوالے سے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سن انیس سو چورانوے میں پل سے ایک شخص نے اپنی کم عمر بچی کو پھینک کر ماردیا تھا اور خود بھی خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی خود کشی میں ناکامی کے بعد اس نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ پل کے نزدیک واقع اوورٹن ہائوس آسیب زدہ ہے اور اسے ایسا کرنے کی ہدایت اوورٹن ہائوس سے آنی والی ایک آواز نے دی تھی۔
واضح رہے کہ ’’کیون موائے‘‘ نام کے اس شخص نے یہ عمل عین اس مقام پر انجام دیا تھا، جہاں سے کتے نہر میں چھلانگ لگا کر خودکشی کرتے ہیں پچاس سال میں لگ بھگ چھے سو سے زائد کتوں کی پراسرار انداز میں خودکشی کے عمل نے ’’اوورٹن پل‘‘ کو انسانوں کے لیے بھی خوف کی علامت بنادیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پل پر سے گزرنے والے ہر شخص کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں عجیب سی سنسناہٹ محسوس ہوتی ہے۔
٭ہوآیا بیکیو جنگل
Hoia Baciu Forest
وسطی اور جنوب مشرقی یورپ کے سنگم پر واقع ملک رومانیہ خوب صورت پہاڑوں، سرسبز قطعہ اراضی، جھیلوں اور جنگلات پر مشتمل ہے۔
رومانیہ کے مرکزی حصے میں تاریخی خطہ ٹرانسلوانیا واقع ہے، جس کے پہاڑ خون آشام بلائوں کی آماج گاہ ہونے کے حوالے سے مشہور ہیں۔ واضح رہے خوف اور دہشت کی علامت ڈریکولا کے کردار کے خالق ’’برام اسٹوکر‘‘ نے ڈریکولا کا مسکن بھی انہی پہاڑوں میں ظاہر کیا ہے۔ دوسری جانب اسی پراسرار خطے میں واقع شہر ’’کلج نکوپا‘‘ اپنے ایک ایسے پراسرار جنگل کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے، جس کے بارے میں مقامی افراد کا خیال ہے کہ یہ جنگل خلائی باسیوں کا زمین پر رابطہ کا مرکز ہے۔
جنگل کا نام ’’ہوآیا بیکیو‘‘ نامی اس چرواہے کی یاد میں رکھا گیا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس گھنے اور تاریک جنگل میں اپنی دو سو بھیڑوں کے ساتھ غائب ہوگیا تھا اور کبھی واپس نہیں آیا تاہم جنگل اس وقت عالمی سطح پر خبروں کی زینت بنا تھا جب اٹھارہ اگست انیس سو اڑسٹھ کو ایک ملٹری ٹیکنیشن ’’امل بارنیا‘‘ نے کام کے دوران حادثاتی طور پر جنگل کے عین اوپر ایک ایسی عجیب و غریب شے کی تصویر اتاری تھی جسے بعد میں تمام حلقوں کی جانب سے نامعلوم اڑن طشتری قرار دیا گیا تھا۔ اسی طرح سن انیس سو ساٹھ ہی کی دہائی اور سن انیس سو ستر کی دہائی میں بھی یہاں پر مقامی افراد نے اڑن طشتریوں کی نقل وحمل کا مشاہدہ کیا تھا۔
اس عرصے میں ماہر حیاتیات ’’الیگزنڈر اسٹف ‘‘ کی کھینچی ہوئی تصاویر بھی نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ خلائی مخلوق کے موجودگی کے علاوہ جنگل کے دوسرے پراسرار اور ناقابل یقین پہلوئوں میں سے ایک جنگل میں داخل ہونے والو ں کا مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونا یا جنگل کے قریب سے گزرتے ہوئے مسافروں کو یہ محسوس ہونا کہ جنگل میں سے کوئی مستقل انہیں دیکھ رہا ہے یا روشنیوں کے ہیولے ان کا تعاقب کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ جنگل کے بعض حصوں میں موجود درختوں کے تنوں اور شاخوں کا انتہائی عجیب وغریب انداز کی وضع وقطع یا شکلوں میں مڑا ہوا ہونا شامل ہے۔
اس کے علاوہ جنگل میں بہت سی ایسی بھی جگہیں ہیں جہاں ان عجیب وغریب تنوں والے درختوں میں گھری دائرے کی شکل میں صرف زمین نظر آتی ہے اور جب بھی اس زمین پر کچھ اگانے کی کوشش کی گئی تو وہاں کچھ بھی کاشت نہیں ہوسکا، حالاں کہ مٹی کے تجزیوں نے ثابت کیا ہے کہ یہاں کی مٹی ہر لحاظ سے قابل کاشت ہے۔
اس کے علاوہ کچھ انتہائی اہم اور اپنی نوعیت کے منفردواقعات میں ایسا بھی ہوا ہے کہ جب کوئی شخص جنگل میں داخل ہونے کے بعد اس کے چند مخصوص حصوں میں پہنچا تو اسے اپنے ماضی کے واقعات لمحہ بہ لمحہ یاد آنا شروع ہوگئے اور وہ جیسے ہی اس حصے سے نکلا تو واقعات کا تسلسل ٹوٹ گیا، بل کہ اس دوران اس کے پاس موجود برقی آلات نے بھی غیرمتوقع انداز کے نتائج دینے شروع کردیے۔
غالباً یہی وجہ ہے کہ کئی موقر رسالوں، ٹی وی کے ریالٹی شوز اور بی بی سی جیسے نشریاتی اداروں کی جانب سے دوسو پچاس ہیکٹر پر پھیلے ہوئے ’’ہو آیا ہیکیو جنگل‘‘ پر پیش کی جانے والی تفصیلات اور پروگراموں میں اسے رومانیہ کا ’’بر مودا ٹرائی اینگل‘‘ کے نام سے بھی لکھا اور پکارا جاتا ہے۔
٭تیرتے پتھر 
Sailing Stones
امریکا کی ریاستوں کیلی فورنیا اور نواڈا میں پھیلی ہوئی ’’موت کی وادی‘‘ اپنے پراسرار ماحول اور انوکھے واقعات کے باعث دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتی ہے شمالی امریکہ کے سب سے خشک اور گرم مقام کا درجہ رکھنے والی یہ وادی لگ بھگ پونے چونتیس لاکھ ایکڑ رقبے پر محیط ہے۔
اس بنجر وبیابان وادی کے شمال مغرب میں ایک علاقہ ’’دی ریس ٹریک‘‘ کے نام سے مشہور ہے اس مقام پر ماضی میں کبھی جھیل ہوا کرتی تھی جو اب خشک ہوچکی ہے۔
اس جھیل کی چٹخی ہوئی خشک سطح پر موجود گھسٹتے اور لڑھکتے پتھر اور ان سے بننے والے نشان ابھی تک عام انسانوں اور سائنس دانوں کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ اپنے مخصوص راستوں پر ہر دو سے تین سال بعد انتہائی معمولی فاصلے پر گھسٹنے والے یہ پتھر بغیر کسی امدادی قوت کے یہ عمل انجام دیتے ہیں۔
چند گرام سے سیکڑوں کلوگرام وزن کے ان منفرد پتھروں کے اس عمل کے پیچھے کون سی قوت کار فرما ہے۔ یہ بات ابھی تک طشت ازبام نہیں ہوسکی ہے۔ اس حوالے سے نہ صرف سائنس داں حیرت میں گم ہیں بل کہ روحانیت اور اسی طرح کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین بھی لاعلم ہیں۔
وادی میں وقوع پذیر ہونے والے اس قسم کے مختلف محیرالعقول جغرافیائی واقعات اور حالات کی کثیر تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی افراد جو کہ اب بہت کم تعداد میں رہ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موت کی وادی میں آنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس دادی میں جب داخل ہوں تو اسے اپنا ممکنہ طور پر آخری سفر سمجھیں۔



____________
راشد صاحب

    Current date/time is Tue Oct 16, 2018 5:22 am