Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


ذبیحہ حضرت اسحاق (ع) یا حضرت اسماعیل (ع)

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

ذبیحہ حضرت اسحاق (ع) یا حضرت اسماعیل (ع)

Post by Admin on Thu Jun 04, 2015 10:44 am

کچھ عرصہ پہلے ایک عسیائی کے پوچھے گئے سوال پر کہ کیا ذبیح حضرت اسحاق علیہ اسلام تھے یا حضرت اسماعیل علیہ اسلام؟ پر میں نے جو جواب دیا تھا وہ یہاں بھی لگا رہا ہوں..
کیا حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے حضرت اسماعیل علیہ اسلام کو قربانی کے لئے پیش کیا یا حضرت اسحاق علیہ اسلام کو؟

اللہ تعالٰی سُوۡرَةُ الصَّافات میں اس قربانی کا ذکر کچھ اس طرح فرماتے ہیں۔



رَبِّ هَبۡ لِى مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ (١٠٠) فَبَشَّرۡنَـٰهُ بِغُلَـٰمٍ حَلِيمٍ۬ (١٠١) فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ ٱلسَّعۡىَ قَالَ يَـٰبُنَىَّ إِنِّىٓ أَرَىٰ فِى ٱلۡمَنَامِ أَنِّىٓ أَذۡبَحُكَ فَٱنظُرۡ مَاذَا تَرَىٰ*ۚ قَالَ يَـٰٓأَبَتِ ٱفۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ*ۖ سَتَجِدُنِىٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّـٰبِرِينَ (١٠٢) فَلَمَّآ أَسۡلَمَا وَتَلَّهُ ۥ لِلۡجَبِينِ (١٠٣) وَنَـٰدَيۡنَـٰهُ أَن يَـٰٓإِبۡرَٲهِيمُ (١٠٤) قَدۡ صَدَّقۡتَ ٱلرُّءۡيَآ*ۚ إِنَّا كَذَٲلِكَ نَجۡزِى ٱلۡمُحۡسِنِينَ (١٠٥) إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ ٱلۡبَلَـٰٓؤُاْ ٱلۡمُبِينُ (١٠٦) وَفَدَيۡنَـٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيمٍ۬ (١٠٧) وَتَرَكۡنَا عَلَيۡهِ فِى ٱلۡأَخِرِينَ (١٠٨) سَلَـٰمٌ عَلَىٰٓ إِبۡرَٲهِيمَ (١٠٩) كَذَٲلِكَ نَجۡزِى ٱلۡمُحۡسِنِينَ (١١٠) إِنَّهُ ۥ مِنۡ عِبَادِنَا ٱلۡمُؤۡمِنِينَ (١١١) وَبَشَّرۡنَـٰهُ بِإِسۡحَـٰقَ نَبِيًّ۬ا مِّنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ (١١٢)


ترجمہ : اے میرے رب! مجھے ایک صالح (لڑکا) عطا کر (۱۰۰) پس ہم نے اسے ایک لڑکے حلم والے کی خوشخبری دی (۱۰۱) پھر جب وہ اس کے ہمراہ چلنے پھرنے لگا کہا اے بیٹے! بے شک میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر کر رہا ہوں پس دیکھ تیری کیا رائےہے کہا اے ابا! جو حکم آپ کو ہوا ہے کر دیجیئے آپ مجھے انشاالله صبر کرنے والوں میں پائیں گے (۱۰۲) پس جب دونوں نے تسلیم کر لیا اور اس نے پیشانی کے بل ڈال دیا (۱۰۳) اور ہم نے اسے پکارا کہ اے ابراھیم! (۱۰۴) تو نے خواب سچا کر دکھایا بے شک ہم اسی طرح ہم اسی طرح نیکو کاروں کو بدلہ دیا کرتے ہیں (۱۰۵) البتہ یہ صریح آزمائش ہے (۱۰۶) اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ ا سکے عوض دیا (۱۰۷) اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں یہ بات ان کے لیے رہنے دی (۱۰۸) ابراھیم پر سلام ہو (۱۰۹) اسی طرح ہم نیکو کاروں کو بدلہ دیا کرتے ہیں (۱۱۰) بے شک وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے (۱۱۱) اور ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی کہ وہ نبی (اور) نیک لوگو ں میں سے ہوگا (۱۱۲)


اب ہم اسی واقعہ کو بائبل میں سے پیش کرتے ہیں۔۔۔


ان باتوں کے بعد یوں ہوا کہ خدا نے ابرہام کو آزمایا اور اسے کہا اے ابرہام! اس نے کہا میں حاضر ہوں(1)۔تب اس نے کہا کہ تو اپنے بیٹے اضحاق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تو پیار کرتا ہے ساتھ لر کر موریاہ کے ملک میں جا اور وہاں اسے پہاڑوں میں سے ایک پر جو میں تجھے بتاؤں گا سوختنی قربانی کے طور پر چڑھا(2)۔تب ابرہام نے صبح سویرے اٹھ کر اپنے گدھے پر چارجامہ کسا اور اپنے ساتھ دو جوانوں اور اپنے بیٹے اضحاق کو لیا اور سوختنی قربانی کے لئے لکڑیاں چیریں اور اٹھ کر اس جگہ کو جو خدا نے اسے بتائی تھی روانہ ہوا(3)۔تیسرے دن ابرہام نے نگاہ کی اور اس جگہ کو دور سے دیکھا(4)۔ تب ابرہام نے اپنے جوانوں سے کہا کہ تم یہیں گدھے کے پاس ٹھہرو۔ میں اور یہ لڑکا دونوں ذرا وہاں تک جاتے ہیں اور سجدہ کر کے پھر تمہارے پاس لوٹ آئیں گے(5)۔ اور ابرہام نے سوختنی قربانی کی لکڑیاں لے کر اپنے بیٹے اضحاق پر رکھیں اور آگ اور چھُری اپنے ہاتھ میں لی اور دونوں اکٹھے روانہ ہوئے(6)۔تب اضحاق نے اپنے باپ ابرہام سے کہا اے باپ! اس نے جواب دیا اے میرے بیٹے میں حاضر ہوں۔ اس نے کہا دیکھ آگ اور لکڑیاں تو ہیں پر سوختنی قربانی کے لئے برہ کہاں ہے؟(7) ابرہام نے کہا اے میرے بیٹے خدا آپ ہی اپنے واسطے سوختنی قربانی کے لئے برہ مہیا کر لے گا۔سو وہ دونوں آگے چلتے گئے(۔ اور اس جگہ پہنچے جو خدا نے بتائی تھی۔ وہاں ابرہام نے قربان گاہ بنائی اور اس پر لکڑیاں چُنیں اور اپنے بیٹے اضحاق کو باندھا اور اسے قربان گاہ پر لکڑیوں کے اوپر رکھا(9)۔اور ابرہام نے ہاتھ بڑھا کر چھُری لی کہ اپنے بیٹے کو ذبح کرے(10)۔ تب خداوند کے فرشتہ نے اسے آسمان سے پکارا کہ اے ابرہام اے ابرہام ! اس نے کہا میں حاضر ہوں(11)۔ پھر اس نے کہا کہ تو اپنا ہاتھ لڑکے پر نہ چلا اور نہ اس سے کچھ کر کیونکہ میں اب جان گیا کہ تو خدا سے ڈرتا ہے اس لئے کہ تو نے اپنے بیٹے کو بھی جو تیرا اکلوتا ہے مجھ سے دریغ نہ کیا(12)۔اور ابرہام نے نگاہ کی اور اپنے پیچھے ایک مینڈھا دیکھا جس کے سینگ جھاڑی میں اٹکے تھے۔ تب ابرہام نے جا کر اس مینڈھے کو پکڑا اور اپنے بیٹے کے بدلے سوختنی قربانی کے طور پر چڑھایا(13)۔ اور ابرہام نے اس مقام کا یہوداہ یری رکھا۔ چنانچہ آج تک یہ کہاوت ہے کہ خداوند کے پہاڑ پر مہیا کیا جائے گا(14)۔ اور خداوند کے فرشتہ نے آسمان سے دوبارہ ابرہام کا پکارا اور کہا کہ(15) خداوند فرماتا ہے چونکہ تو نے یہ کام کیا کہ اپنے بیٹے کو بھی جو تیرا اکلوتا ہے دریغ نہ رکھا اس لئے میں نے بھی اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ (16)میں تجھے برکت دوں گا اور تیری نسل کو بڑھاتے بڑھاتے آسمان کے تاروں اور سمندر کے کنارے کی ریت کی مانند کر دوں گا اور تیری اولاد اپنے دشمنوں کے پھاٹک کی مالک ہو گی(17) اور تیری نسل کے وسیلہ سے زمین کی سب قومیں برکت پائیں گی کیونکہ تو نے میری بات مانی(18)۔۔۔۔۔۔۔(کتاب مقدس۔پیدائش 22 )
گزارش ہے کہ بائبل کے بیان کردہ واقعے کو انتہائی غور سے پڑھا جائے۔ اب میں نیچے اس واقعہ میں بیان ہونے والی باتوں کو چند نکات میں پیش کرتا ہوں۔

اس پورے واقعہ میں جس لڑکے کی قربانی پیش کی جانی ہے اس کا نام پانچ جگہ استعمال ہوا ہے مگر پوری عبارت میں صرف ایک مقام پر یہ اللہ تعالٰی سے منسوب کیا گیا ہے باقی چار جگہ یہ نام کتاب کے مرتب کی طرف سے لیا گیا ہے۔

اس بیٹے کا ذکر حضرت ابراہیم (ع) نے تین جگہ کیا ہے مگر کہیں بھی انہوں نے اس کا ذکر نام سے نہیں کیا۔ ایک جگہ انہوں نے “میں اور لڑکا“ اور دو جگہ انہوں نے اس کے لئے “میرا بیٹا“ کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔

خداوند کے فرشتے نے بھی کسی جگہ “اسحاق“ کا نام استعمال نہیں کیا۔

قربانی کے لئے جو لڑکا لے جایا گیا وہ حضرت ابراہیم (ع) کا اکلوتا بیٹا تھا۔
جس بیٹے کو قربانی کے لئے پیش کیا جانا تھا وہ “لڑکا“ تھا یعنی ابھی بالغ نہیں ہوا تھا۔



اوپر والے تمام پوائینٹس کو ذہن میں رکھیں۔ اب آگے بڑھتے ہیں۔۔۔۔۔

مندرجہ بالا عبارت میں قصہ نگار نے محدود الفاظ ہی خداوند کی طرف منسوب کئے ہیں باقی تمام عبارت قصہ نگار کے اضافی و توضیحی الفاظ پر مشتمل ہے۔ جو الفاظ خداوند کی طرف منسوب ہیں ان میں بھی ہزار سالہ زبانی روایت کے مراحل میں فطری طور پر اور راویوں کے رحجانات و نظریات کے زیرِ اثر حذف و اضافہ ہوتا رہا ہے۔ اس لحاظ سے جو الفاظ خداوند کی جانب منسوب ہیں کیا وہ واقعی درست ہیں اس بات کا اندازہ آئندہ پڑھنے والوں کو ہو جائے گا۔

مندرجہ بالا قصے میں قابلِ لحاظ حد تک کئی تبدیلیاں کی گئیں اس سلسلے میں “انسائیکلو پیڈیا ببلیکا“ میں اس کے متعلق ذیل کی وضاحت کی گئی ہے۔
“یہ بات یقینی طور پر ثابت ہو چُکی ہے کہ جب سے الوہسٹ نے یہ قصہ تحریر کیا اس وقت سے یہ قابلِ لحاظ حد تک تبدیل ہو چُکا ہے۔ یہوسٹ+الوہسٹ یعنی (JE) کے مدیر و مولف نے نہ صرف اس میں آیات 14 تا 18 (جو اصلی عبارت میں موجود نہیں، بلکہ زبانی یادداشتوں پر مشتمل ہے) کا اضافہ کیا، بلکہ آیات 1 تا 14 میں بھی متعدد تبدیلیاں کیں۔۔۔۔ تاہم جس حد تک کوئی رائے قائم کرنا ممکن ہے، دنبے کے متعلق بیان کردہ تفصیلات کو چھوڑ کر، الوہسٹ کے بیان کردہ قصے کے خدوخال اس کی اپنی تصنیف ہیں۔ اس کی طرف اشارے تو فی الحقیقت ان حالات سے ماخوذ ہیں جو روایتی قصے میں پہلے سے موجود ہیں، لیکن ان کا ڈھانچہ خود اسی کا تیار کردہ ہے اور یہ شروع سے آخر تک ایک مثالی انداز میں لکھا گیا ہے۔“


اب آتے ہیں اکلوتے لڑکے کی جانب۔۔۔۔۔ بائبل کتاب پیدائش 16 میں درج ہے کہ جب حضرت اسماعیل علیہ اسلام پیدا ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی عمر 86 سال تھی۔۔

۔۔ اور اسی کتاب پیدائش 21 میں درج ہے کہ جب حضرت اسحاق پیدا ہوئے تب حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی عمر 100 سال تھی۔
قرآن بھی اس بات کو واضح کرتا ہے کہ پہلے حضرت اسماعیل علیہ اسلام پیدا ہوئے جیسا کہ سورہ صافات میں درج ہے اور بعد میں حضرت اسحاق علیہ اسلام۔۔۔۔

رَبِّ هَبۡ لِى مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ (١٠٠) فَبَشَّرۡنَـٰهُ بِغُلَـٰمٍ حَلِيمٍ۬ (١٠١)

ترجمہ : اے میرے رب! مجھے ایک صالح (لڑکا) عطا کر (۱۰۰) پس ہم نے اسے ایک لڑکے حلم والے کی خوشخبری دی (۱۰۱)

وَبَشَّرۡنَـٰهُ بِإِسۡحَـٰقَ نَبِيًّ۬ا مِّنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ (١١٢)
اور ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی کہ وہ نبی (اور) نیک لوگو ں میں سے ہوگا (۱۱۲)


اب انصاف طلب حضرات سے اپیل ہے کہ خود اندازہ لگائیں کہ 14 سال تک اکلوتے حضرت اسماعیل علیہ اسلام رہے یا حضرت اسحاق علیہ اسلام۔۔۔۔۔ کسی بھی لحاظ سے حضرت اسحاق علیہ اسلام کو اکلوتا ثابت کر کے دکھا دو۔۔۔۔


اب اس بیان کی حقیقت بھی ملاحظہ فرماؤ جو اللہ سے ایک مرتبہ منسوب کیا گیا ہے جس میں خداوند نے حضرت اسحاق کا نام لیا اور ایک دوسری جگہ نام لینے کی بجائے اکلوتا لڑکا کہا۔۔۔۔ اب اکلوتا لڑکا حضرت اسحاق علیہ اسلام کبھی رہے ہی نہیں تو اللہ کی طرف ایسا جھوٹ منسوب کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ یعنی کس دھڑلے سے اپنے مطلب کو ثابت کرنے کے لئے اللہ سے جھوٹ منسوب کر دیا گیا۔۔۔


اب آتے ہیں لڑکے والی بات کی جانب۔۔۔۔۔ یہ بات بھی حضرت اسماعیل علیہ اسلام کے لئے ہی صادق آتی ہے کیونکہ وہ 14 سال تک اکلوتے رہے اور 14 سال کی عمر لڑکوں کی ہی ہوتی ہے بالغوں کی نہیں۔۔۔۔۔ جبکہ اس کے برعکس حضرت اسحاق علیہ اسلام کے بارے میں بائبل کی تفسیر کرنے والوں نے عجیب عجیب عمریں لکھیں ہیں جو لڑکے کے ضمن میں آتی ہی نہیں کچھ نے قربانی کے وقت دودھ پیتہ بچہ لکھا کچھ نے 37 سال عمر لکھی کچھ نے 25 سال اور کچھ نے 20 سال اب ان سب عمروں میں سے کوئی ایک عمر مجھے لڑکے کی بتا دیں؟


میں اور بہہہہہہہہہہہہہہہتتتتتتت کچھ لکھ سکتا ہوں اس جھوٹے قصے پر مگر تحریر بہت لمبی ہو جائے گی اربابِ انصاف خود فیصلہ فرما سکتے ہیں۔۔۔۔


ساتھ میں میں نے بایبل کے ریفرنسز لگا دئیے ہیں گو کہ یہ فارسی میں ہیں مگر اردو اور انگلش میں بھی یہ انہی ابواب میں ملیں گے۔۔۔۔











____________
راشد صاحب


    Current date/time is Tue Oct 16, 2018 5:28 am