Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


یہ بھی اِک پہلو ہے حُسنِ یار کی تصویر کا

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

یہ بھی اِک پہلو ہے حُسنِ یار کی تصویر کا

Post by Admin on Mon May 11, 2015 2:47 pm

بھٹو صاحب کو خراجِ عقیدت پیش کرنے لیے ، اُن کی حالیہ برسی پر، جتنے کالم نگار '۔۔۔گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے'۔۔۔ اتنے تو ان کی پھانسی پر بھی گھر سے نہ نکلے تھے۔ بلکہ جولوگ اُس روز اتفاقاً گھر سے نکل گئے تھے، پھانسی کی خبر سنتے ہی گھبرا کر واپس گھر میں گھس گئے اور تا دیر گھر ہی میں گھسے بیٹھے رہے۔ اُس دن گرفتار ہوئے بھی تو 'اصحاب الیمین' (یعنی دائیں بازو والے) صحافیوں کے سرخیل، ہمارے مرشدِ خاص سید سعود حسین ساحرگرفتار ہوئے۔ (غالباً اُن کے ساتھ ہونے کی پاداش میں ایک اور صحافی ضمیر رفیق بھی پکڑے گئے تھے، شاہ جی ہی اس کی تصدیق یا تصحیح کر سکتے ہیں)۔قصہ مختصر یہ کہ اُس روز 'بائیں بازو والے' اپنے اپنے بازو سنبھالے ہوئے 'آزو بازو' ہوگئے تھے۔

سعود ساحرؔ صاحب کا ذکر آیا تو اسی ضمن میں اُن کا سنایا ہوا ایک دلچسپ واقعہ بھی یاد آگیا۔بھٹو صاحب جب اپنے 'ڈیڈی' فیلڈ مارشل ایوب خان کو 'عاق' کرکے اُن (کے کچن اور اُن) کی کابینہ سے باہر آگئے تھے تو ایک روز جنابِ خورشید حسن میر سے فرمایش کی: ''ایوب خان کے شہر میں ایک پریس کانفرنس کرنی ہے''۔ (یعنی 'عارضی دارالحکومت' راولپنڈی میں)۔ خورشید حسن میر نے گھبرا کر پوچھا: ''یہ کیسے ہوگا؟'' شاہ جی نے کہا: ''کریں گے!'' اُس وقت میر جمیل الرحمٰن (جومیرخلیل الرحمٰن مرحوم کے چھوٹے بھائی تھے) روزنامہ 'جنگ' راولپنڈی کے ایڈیٹر اور پریس کلب راولپنڈی کے صدر تھے۔ (یہ صاحب بعد میں 'مساوات' کے ایڈیٹر بھی ہوئے)۔ اُنھوں نے جب یہ سندیسہ سنا تو اپنا فیصلہ سنا دیا:''پریس کلب میں بھٹو نہیں آسکتا''۔

اب نام یاد نہیں آرہا ہے، مگر اُسی زمانے میں کوئی 'افریشیائی' تنظیم بنائی گئی تھی، سعود ساحر صاحب جس کے جوائنٹ سکریٹری تھے۔اسی تنظیم کے تحت پشاور روڈ کے ایک زیر تعمیر مکان میں بھٹو صاحب کی پہلیPublic appearanceکا اہتمام کیا گیا (لاہور میں استقبال اس کے بعد ہوا تھا)۔ اس 'جرم' کے ارتکاب پر 'مجرم' یعنی سعود ساحر کو میر جمیل الرحمٰن نے روزنامہ 'جنگ' سے نکال باہرکیا، جہاں وہ ملازم تھے۔

مگر بھٹو صاحب بالآخر بائیں بازو کے ہو رہے۔ سعود ساحر صاحب 'اپنے بازو' ہوگئے۔بھٹو صاحب کی سیاست کا آغاز اور خود بھٹو صاحب کا انجام اُن تمام لوگوں کے لیے سبق آموز ہے جو آج حکمران ہیں یا آئندہ حکمران ہونے کی خواہش رکھتے ہیں۔ مگر مشکل یہ ہے کہ حکمران صاحبان کبھی سبق نہیں سیکھتے۔اُن حکمرانوں کے انجام سے بھی سبق نہیں سیکھتے، جن کو سبق سکھانے کے لیے وہ خود اپنے ہاتھوں سے اُنھیں اُن کے انجام تک پہنچاآتے ہیں۔

بھٹو صاحب بہت ذہین مانے جاتے تھے۔ مگر ایسی ذہانت کس کام کی جو آندھی طوفان بن کر اُٹھے اور عقل کا چراغ گُلکر دے۔ بھٹو صاحب کو نقصان اُن کی ذہانت و عقلمندی نے پہنچا یا یا اس کے برعکس رویوں نے؟اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی( مگر کب کرے گی؟) بھٹو صاحب کے ساتھ ہوا تو یہ تھا کہ لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا۔تاہم پھانسی کے وقت وہ'منزلِ عشق پہ تنہا پہنچے کوئی تمنا ساتھ نہ تھی'۔کیوں کہ یہ اُن کی 'خوئے دلنوازی' کا فیض تھا کہ ۔۔۔'تھک تھک کر اس راہ کا آخر ایک ایک ساتھی چھوٹ گیا'۔۔۔وہ کسی کو 'آلو' کہتے تھے، کسی کو 'ڈبل بیرل خان' اورکسی کو 'سوہنامنڈا' ۔ان 'خطاب یافتگان' میں سے اصغر خان ابتدا میں اُن کے بہی خواہ تھے۔خان عبدالقیوم خان بعد میں اُن کے وزیر داخلہ ہوئے اور عبد الحفیظ پیرزادہ تو اُنھیں کندھوں پر اُٹھاکر لانے والوں میں سے تھے۔

کندھوں پر تو خیر معراج محمد خان اور مختار رانا نے بھی اُٹھایا ۔ مگریہ دونوں جاں نثار و وفادار بھٹو صاحب کے 'عوامی جمہوری دورِ حکومت' میں مسلسل قید ہی رہے۔ نہ صرف قید رہے بلکہ جیل میں اذیتیں بھی جھیلیں۔مختار رانا کی بینائی جاتی رہی اور معراج محمد خان کے ناخن اُکھیڑے گئے۔ پیپلز پارٹی کے ایک اور بانی رُکن احمد رضا قصوری پر 1974 ء میں قاتلانہ حملہ ہوا جس میں اُن کے والد نواب محمد احمد خان شہید ہو گئے۔ حملہ(1972ء میں قایم کی جانے والی نیم عسکری) 'فیڈرل سیکورٹی فورس' (FSF)نے کیا تھا، جس کے ڈائریکٹر جنرل مسعود محمود نے 'وعدہ معاف گواہ' بن کر عدالت میں انکشاف کیا کہ اس حملے کا (تحریری) حکم خود بھٹو صاحب نے دیا تھا۔ اپنے دورِ حکومت میں مخالفین کو 'فکس اَپ' کردینے کی دھمکیاں بھٹو صاحب کا تکیہ کلام بن گئی تھیں۔ حزب اختلاف کے متعدد رہنما مثلاً ڈاکٹر نذیر احمد، خواجہ رفیق(سعد رفیق کے والد)، عبدالصمد اچکزئی (محمود اچکزئی کے والد)، جے یو آئی کے مولوی شمس الرحمٰن اورانصار المسلمین کے ضامن علی، بھٹو صاحب ہی کے دور میں شہید کیے گئے۔ نہیں معلوم کہ ان تمام کارناموں کواُن کی مثالی ذہانت و طباعی سے جوڑا جاسکتا ہے یا نہیں؟

جسارت، اُردو ڈائجسٹ،زندگی، پنجاب پنچ اور The Sun سمیت متعدد اخبارات و جرائد پر بھٹو صاحب کے 'عوامی جمہوری دور' میں پابندی عائد رہی۔ عدالت سے اُن کا ڈیکلریشن بحال کردیا جاتا مگر بحال ہوتے ہی حکومت کی طرف سے پھر Banلگا دیا جاتا۔ صلاح الدین شہید، سید ذاکر علی، الطاف حسن قریشی اور حسین نقی سمیت کتنے ہی صحافی اور ناشر حکومت پر تنقید شایع کرنے کی پاداش میں پس دیوارِ زنداں دھکیل دیے گئے۔ مزدورتنظیموں، طلبہ تنظیموں اور پیپلز پارٹی سمیت تمام 'سیاسی جماعتوں' میں سے کسی کو بھٹو صاحب کے 'عوامی جمہوری دور' میں جلسے جلوس کی 'جمہوری آزادی' حاصل نہ تھی۔ جلسے صرف 'وزیر اعظم' کے ہوا کرتے تھے۔ ایک بار ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی نے لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسہ کیا تو کندھوں پر لاشیں اُٹھا کر واپس پشاور جانا پڑا۔ پھر'نیپ' پر غداری کے الزام میں پابندی بھی لگا دی گئیاور ولی خان حیدر آباد جیل میں بند کر دیے گئے۔پٹھان نعرے لگانے لگے کہ: ''جیل کا پاٹک ٹوٹے گا ۔۔۔ ولی خان چُوٹے گا''۔

حضرت مولانا مفتی محمودؒ سمیت حزبِ اختلاف کے کئی رہنماؤں کو قومی اسمبلی کے اندر سے 'ڈنڈا ڈولی' کر کے اُٹھایا گیا اور باہر لا کر پھینکا گیا۔ کراچی ائر پورٹ پر پی آئی اے میں جماعت اسلامی کی حمایت یافتہ اجتماعی سودا کار ایجنسی 'پیاسی یونین' نے وفاقی وزیر داخلہ خان عبدالقیوم خان کی صدارت میں سیرت النبیؐ کے جلسے کا انعقاد کیا تو اُس پر پولیس نے دھاوا بول دیا، ایسی زبردست آنسو گیس برسائی گئی کہ اُس کے اپنے وفاقی وزیر داخلہ بھی روتے دھوتے بلکہ آنسو سے منہ دھوتے بھاگے۔ مسلم لیگ کے خواجہ خیرالدین کو قید سے نکال کر سمندر میں ڈبونے کے لیے سندھی مچھیروں کے حوالے کردیا گیا۔ وہ تو اثنائے گفتگو میں جب معلوم ہوا کہ جسے وہ ڈبونے جارہے ہیں وہ 'سید' ہے تو کانپ گئے۔ خواجہ صاحب کو ساحل کے قریب ایک جنگل میں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ خواجہ صاحب وہاں سے کیسے کیسے واپس پہنچے؟ اس کی پوری کہانی اُنھوں نے بعد کو ایک ٹیلی وژن پروگرام میں سنائی۔سندھ میں 'سیدوں' کی بڑی تکریم کی جاتی ہے۔ہمارے ایک سندھی ساتھی نے ایک روز بڑا دلچسپ واقعہ سنایا۔ وہ کراچی سے خیرپور جانے والی بس میں بیٹھے اپنے گاؤں جارہے تھے۔ راستے میں ڈاکوؤں نے بس روک لی۔ سب کو فرداً فرداً لوٹنا شروع کردیا۔بس کی آخری نشست پر اُن کے گاؤں کا ایک ہندو ٹھاکر بیٹھا ہوا تھا۔جب ڈاکو اُس کے پاس پہنچے تو وہ کڑک کر بولا: ''خبردار! مجھے ہاتھ مت لگانا۔ میں سید ہوں''۔
ڈاکو اُس کے پاؤں پڑگئے۔ گھگھیا کر بولے: ''سائیں! معاف کندا''۔(سرکار! معاف کر دیجیے)
ٹھاکر بولا: ''ایسے نہیں معاف کروں گا۔پہلے سب کا لوٹا ہوا مال واپس کرو، تب معافی ملے گی''۔
ڈاکوؤں کو مال واپس کرتے ہی بنی۔ پھر جاکر معافی تلافی ہوئی۔(کالم کاورق تمام ہوا مگرمدح ابھی باقی ہے۔ خیر باقی باقی)۔



____________
راشد صاحب

    Current date/time is Wed Nov 21, 2018 1:23 am