Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


جمھوریت

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

جمھوریت

Post by Admin on Sun May 03, 2015 10:43 am

ایک جملہ تقریباً ہر روز ہی سننے میں آتا ہے... ہر قسم کا میڈیا (میڈیا کی قسمیں ان گنت ہیں نا) یہ راگ ضرور الاپتا رہتا ہے... اور وہ راگ ہے: ’’جمہوریت کو بے شمار خطرات لاحق ہیں۔‘‘ جب پوچھا جاتا ہے جمہوریت کو خطرات کیوں لاحق ہیں؟ جواب دیا جاتا ہے، ملک ان دنوں ان گنت بحرانوں کا شکار ہے، ان بحرانوں کی وجہ سے جمہوریت کا مستقبل خطرے میں ہے... لیکن ہمارے خیال میں یہ بات بالکل اُلٹ انداز میں کہی جا رہی ہے، یہ بات درست، بلکہ درست ترین اندازمیں یوں کہی جانی چاہیے... ’’جمہوریت نے ان گنت بحرانوں کو جنم دیا ہے، خود جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں، اس نے سب کو خطرات سے دو چار کیا ہے۔‘‘ لہٰذا خطرات جمہوریت کو نہیں... اس جمہوریت سے ہم سب خطرات میں گہرے ہوئے ہیں... اور خدشات میں بھی... جب یہ جمہوریت نہیں تھی نا، تو بحران بھی نہیں تھے۔ ہاں! قدرتی آفات ضرور آتی تھیں، لیکن ان کا علاج نہایت آسانی سے کر لیا جاتا تھا، کیونکہ جمہوریت کی رکاوٹیں رکاوٹ نہیں بنتی تھیں... شاید بات اس طرح سمجھ میں نہ آسکے... لہٰذا ہم اسے آسان ترین الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کیوں نہ کر لیں... لیکن پہلے یہ دیکھ لیا جائے کہ آج ہم کن کن بحرانوں کا شکار ہیں؟ 
زبردست ترین بحران تو بجلی کا بحران ہی ہے جو پہلے 6 ماہ میں ختم ہونے والا تھا... پھر 2 سال میں پھر اڑھائی سال میں... لیکن اب کہا جا رہا ہے
اس میں ساڑھے 3 سال لگیں گے... اس حکومت کا ایک سال تو ماشا ء اللہ پو را ہوگیا ہے... اس میں جب ہم ساڑھے 3 سال شامل کریں گے تو و ہ بے چارے ساڑھے 4 سال بن جاتے ہیں... بن ا س لیے جاتے ہیں کہ ان کو بننے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ ویسے حکمرانوں کے بس میں ہوتاتو و ہ اسے کبھی بھی نہ بننے دیتے... اور معاملہ پہلے روز والا ہی چلتا رہتا... یہی کہا جاتا ابھی ہمیں حکومت میں آئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں... لیکن نظامِ قدرت کا مقابلہ فی الحال ان کے بس کی بات نہیں۔ ماہ و سال ان کے روکے نہیں رک سکتے، اس لیے یہی کہنا پڑے گا... کہ ساڑھے 4 سال تک یہی حالات رہیں گے۔ بجلی کا بحران غریب یونہی جاری و ساری رہے گا... بلکہ بے چارہ ہونے کے با وجود یونہی دندناتا رہے گا... ادھر ساڑھے چار سال پورے ہوں گے... ادھر نئے لو گ آنے کے لیے لنگوٹے کس لیں گے... اگرچہ وہ یہ لنگوٹے ایک سال پہلے ہی کس چکے ہیں... ان کے انتظار کے بھی ساڑھے 3 سال باقی ہیں... خیر کوئی بات نہیں... ساڑھے 3 سال کی کیا بات ہے... یہ تو پلک جھپکتے گزر جائیں گے، کیونکہ ان کے گھروں میں کون سا لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے... اب دیکھیں! یہ کب پلک جھپکتے ہیں... ؟ 
لوڈ شیڈنگ ہمارے ملک کا کوئی تنہا بحران نہیں، اس کے ساتھ کئی اور بحران دے رہے ہیں۔ یہ ساتھ خوب نبھا رہے ہیں... ساتھ نبھانے کے اعتبار سے یہ بہت وفا ہیں... مطلب یہ کہ ساتھ نبھانے کی وفا داری تو کوئی ان سے سیکھے... ہاں تو جناب! لوڈ شیڈنگ کے بالکل پڑوس میں واقع ہے گندم کا بحران... گندم کا بحران بھی منہ کھولے ہمیں شکار کرنے کی تاڑ میں رہتا ہے... اور رہے کیوں نہ؟ بے چارے کا شت کاروں کی یہاں کون سنتا ہے... ا ن کے لیے حکمرانوں کے پاس ہمدردی کے دو بول بھی نہیں ہیں... 
اب جب کاشتکاروں کے مسائل ہی حل نہیں ہوں گے تو گندم کے بحران سے نجات کیسے مل سکے گی...؟ دیکھاجائے تو یہ بحران بھی جمہوریت کی پیداوار ہے... جو گندم کو پیدا ہونے ہی نہیں دیتا... بحرانوں کو پیدا ہونے کے لیے کھلی چھٹی دیتا رہتا ہے۔ 
اس کے بالکل متصل پانی کا بحران تشریف فرما ہے... گرمی شروع ہو گئی ہے... ہمارا پڑوسی ملک پہلے ہی تاک میں رہتا ہے... لہٰذا گرمی کا پورا موسم ہم پڑوسی ملک کو دعائیں دیتے نہیں تھکتے... دیکھا جائے تو اس میں قصور پڑوسی ملک کا نہیں... ہماری جمہوریت ہے... آپ اس جمہوریت سے نجات حاصل کر لیں... پھر دیکھیے گا ملک میں کتنا پانی نظر آئے گا... کوئی قلت نہیں رہ جائے گی۔ 
ہمارے ملک میں ایک بحران صاحب اور بھی موجود ہیں... لگے ہاتھوں ان کا بھی ذکرِ خیر ہوجائے... اسے ہم گیس کا بحران کہتے ہیں... یوں تو آج کل تقریباً ہرانسان گیس کا شکار ہے... لیکن یہاں ذکر ہے چولہوں پر جلنے والی گیس کا... یہ اور بات ہے کہ اب گاڑیاں بھی اس گیس کے چکر ہیں رہتی ہیں اور چکراتی ہی نظر آتی ہیں... یہ گیس صاحبہ سردی کے موسم میں تو خاص طورپر ہم پر نظریں جمائے رہتی ہیں۔ کسی صورت رحم کرنے پر تیار نہیں ہوتیں... گرمی کے موسم میں البتہ ان کے تیور کچھ نرم پڑ جاتے ہیں... آپ اگر غور کر یں تو اس بحران کے ڈانڈے بھی جمہوریت سے جا ملیں گے... لگتاہے... یہ سب جمہوریت کا شجرہ نسب ہے۔ 
ایک خوفناک بحران رہ گیا... اس بحران نے تو بچے بچے کو پریشان کر رکھا ہے... کیونکہ ان کا بھی جیب خرچ حدد رجے متاثر ہوا ہے... آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے ہم مہنگائی کے بحرا ن کا ذکر کر رہے ہیں... کہا جا سکتا ہے... یہ مسئلہ وہ مسئلہ ہے... جو سر چڑھ کر بول رہاہے، یہ وہ جنّ ہے جو اب بالکل بے قابو ہو گیا ہے... سب کے سب اس کی کرامات کے قائل ہو چکے ہیں... لیکن افسوس! ہم غور نہیں کرتے، غورکریں تو اس بحران کی تہہ میں یہی محترمہ جمہوریت دبکی نظر آئیں گی... 
آئیے ذرا دیکھیں! ہمارے اپنے یعنی، اصلی اپنے حکمران کس طرح بحرانوں سے نبٹتے تھے... اصل بات تو یہی ہے کہ اس زمانے میں محترمہ جمہوریت کا دور دورہ تھا ہی نہیں... اس کا وجود بھی نہیں تھا، اس کے بارے میں کسی کومعلوم ہی نہیں تھا کہ یہ بھی کوئی طرز ِحکومت ہے... دور کیوں جائیں اس کا وجود تو اب بھی امریکا میں موجود ہے... خیر چھوڑیں...! اس وقت بات اسلامی حکومت کی ہو رہی ہے... اسلامی حکومت اس نام سے نا آشنا تھی... اس طرزِ حکومت سے نا بلا تھی... گویا اسلامی حکومت جمہوریت سے پاک تھی... اسی لیے ان تمام آفات سے بھی پاک تھی... لہٰذا ان کے لیے بحرانوں سے نبٹنا بالکل آسان تھا۔ 
آپ صلی اللہ علیہ وسلّم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ خلیفۂ رسول مقرر ہوئے... اس وقت جتنے خطرات اس وقت آپ کو درپیش تھے، شاید اسلامی حکومت کو کبھی پیش نہیں آئے ہوں گے... یعنی چاروں طرف سے اسلامی حکومت کو خطرات نے گھیر لیا تھا... خطرات منہ کھولے تیار تھے... آپ بس اتنا کریں کہ ان خطرات کو بحران کہہ لیں... حضرت ابو بکر صدیقؓ وہ شخص ہیں... جو کمزور جسم والے ہونے کے با وجود... ان تمام بحرانوں سے ذرا بھی نہیں ڈرے... آپ ان بحرانوں کو خاطر ہی میں نہیں لائے... اسلامی لشکر کے 11 حصّے مقرر فرمائے، یعنی 11 لشکر ترتیب دیے۔ ایک ایک بحران کی طر ف ایک ایک لشکر روانہ فرمادیا... مدینہ منورہ میں خود رہ گئے... کوئی لشکر آپ کی مدد کے لیے نہیں تھا... دشمنوں نے خیال کیا، موقع اچھا ہے... مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کا یہ بہترین موقع ہے... لہٰذا مدینہ منورہ پر حملے کرنے کی تیاری کرنے لگے... حضرت ابو بکر صدیقؓ نے ایک لمحے کی بھی تاخیر نہ کی۔ اپنے ساتھیوں کو لے کر خود ان پر جا پڑے...یعنی اس سے پہلے کہ وہ حملہ آور ہوتے، آپ نے ان پر حملہ کر دیا... دشمن اس حملے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا... ایسا بد حواس ہوا کہ سر پر پیر رکھ کر بھاگا... خلیفۂ رسول نے اسے چھوڑا نہیں، تعاقب کیا اور انہیں خوب نقصان پہنچایا... لشکر کا میاب مدینہ منورہ میں آیا تو خوشی کی لہر دوڑ گئی... اس کے بعد تو گویا مدینہ منورہ کی دھاک بیٹھ گئی... 11 لشکروں نے بالکل معمولی تعداد میں ہوتے ہوئے (جیسا کہ آج افغانستان کے مجاہدین 42 ملکوں کے مقابلے میں بالکل کم تعدا د میں ہیں ) بھی دشمنوں کے وہ پر خچے اڑائے کہ وہ آج تک زخم چاٹ رہا ہے۔ 
آپ نے ملا حظہ فرما یا حضرت ابو بکر صدیقؓ نے بحرانوں کا سامنا کس طرح کیا...؟ بات اصل میں یہ ہے اس وقت جمہوریت نہیںتھی... جمہوریت کے نہ ہونے کی وجہ سے تمام مسلمان ایک جسم کی مانند تھے... ایک دوسرے کے مخالف نہیں تھے، صرف اسلام دشمنوں کے مخالف تھے... جب کہ آج ہم ایک جسم تو کیا ہوں گے... ہزار جسم میں تقسیم ہیں... ہمیں جمہوریت ہی نے تو تقسیم کیا ہے... اس وقت مسلمانوں کی بے مثال کامیابیوں کے بارے میں یورپ کا مفکّر پر وفیسر فلغلی لکھتاہے: ’’ایک نئے مذہب اسلام نے عربوں میں باہمی اتحاد، جذبۂ قیادت اور فتوحات کے لیے زبردست تحریک پیدا کر دی تھی، جبکہ رومی سلطنت اور ایرانی سلطنتیں آپس کی جنگوں سے کمزور ہوچکی تھیں... رومی سلطنت ہی مذہبی اختلافات اٹھ کھڑے ہوئے تھے‘‘ ( جو آج ہمارے اندر ایسے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں کہ ان کا بیٹھنا ممکن ہی نظر نہیں آرہا)۔‘‘ 
دورِ حاضر کا مشہور مصنف ایچ جی ویلز لکھتا ہے: اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ اسلام کاسیلاب ایرانی، رومی، یونانی یا مصری تہذیب کو بہاکر لے گیا تو اس غلط خیال کونکال دو... اسلام کو جو غلبہ حاصل ہواتو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس زمانے کا ایک بہترین معاشرتی اور سیاسی نظام تھا۔ اسلام جہاں کہیں پہنچا... اسے ایسے لوگ نظر آئے جو سیاسی اعتبار سے اپنی اپنی حکومتوں سے نفرت کرتے تھے ( آج ہمارا یہ حال ہے) لوگ لٹے پٹے تھے... مظلوم اور پامال تھے... غیرتعلیم یافتہ اور غیر منظم تھے... جن کی خود غرض اور فاسد حکومتیں ( جیسی آج ہماری ہیں) ان کے ساتھ کوئی ربط نہیں رکھتی تھیں۔ اسلا م نے اس وقت پوری دنیا کو ایسا بہتر نظام دیا جو آج تک کسی نے نہیں دیا... رومی شہنشاہیت کا سرمایہ وارانہ نظام اسلام سے شکست کھا کر پارہ پارہ ہو گیا... ۔‘‘ آپ نے ملاحظہ فرمایا... یہ سب باتیں جمہوریت کی نفی د ر نفی کر رہی ہیں... پروفیسر کلپ کے ہٹی لکھتا ہے: ’’اسلام نے ان قبائل میں ایسا اتحاد پید ا کر دیا تھا کہ اس سے پہلے وہ کبھی متحد نہیں ہوئے تھے۔‘‘ یہ سب دراصل اس لیے تھا کہ مسلمان اس وقت جو کچھ کرتے تھے۔ صرف اور صر ف اللہ کے لیے کرتے تھے... اغراض و مقاصد کے بندے نہیں تھے... آج کی جمہوریت نے ہمیں صرف اور صرف اغراض و مقاصد کے بندے بنا کر رکھ دیا ہے... جمہوریت کے پھل کی کڑواہٹ روز بروز زیادہ ہوتی جارہی ہے... اس کڑواہٹ میں کمی کا دور دور تک کوئی امکان نہیں... اس پودے کو جڑ سے اکھاڑے بنا چارہ نہیں... لیکن حکمرانوں کو یہ بات کون سمجھائے... جمہوریت کو کوئی خطرات لاحق نہیں، اس سے ہمیں خطرات لا حق ہیں۔



____________
راشد صاحب

    Current date/time is Fri Sep 21, 2018 10:35 am