Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


قتل عام شروع

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

قتل عام شروع

Post by Admin on Sun May 03, 2015 4:39 am

مصر میں اخوانیوں کی حکومت کے خاتمے پر ہی فوج نے اکتفا نہیں کیا، بلکہ اخوانیوں کی بیخ کنی اور ان کا قتل عام شروع کردیا۔ فوج، عدالت اور میڈیا نے باہر کی آشیرباد پر ایک منظم منصوبہ بندی کے ساتھ یہ مہم شروع کی کہ اخوان سے وابستہ ہر فرد کو دیوار سے لگایا جائے۔ ان کی تحریک کو ہمیشہ کے لیے مصر سے ختم کردیا جائے اور ان پر اتنی سختی اور تشدد روا رکھا جائے کہ نسلوں تک کوئی اس طرح کی تحریک چلانے کی جرأت نہ کرے۔ مصر میں فوجی بغاوت کچھ اقتدار پرست جرنیلوں کے شوق اقتدار کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ اس تہذیبی جنگ کا ایک حصہ ہے جو تقریباً تمام مسلم ممالک میں لڑی جارہی ہے۔ یہ جنگ مذہب اور لامذہبیت کی ہے۔ یہ جنگ حیا کے داعیوں اور بے حیائی کے دلدادوں کے درمیان کا معرکہ ہے۔ یہ دو تہذیبوں کا ٹکرائو ہے جس میں ایک طرف مغربی تہذیب ہے جو عورت کے آسان حصول کو مقاصد حیات میں سے ایک بہت بڑا مقصد قرار دیتی ہے۔ جس میں عورت عام بازاری اشیاء کی طرح ہر قیمت پر ہر کام کے لیے میسر ہوتی ہے، جبکہ دوسری طرف اسلامی تہذیب ہے، جس میں عورت جنس بازار نہیں ہے، وہ اشرف المخلوقات انسان ہی کی ایک صنف ہے۔
انسان کی زندگی میں اور حیوانات کی زندگی میں واحد فرق ضابطوں کا ہے۔ انسانی زندگی جس طرح اپنے تمام دیگر پہلوئوں میں ضابطوں کی پابند ہے اور اس پابندی میں ہی انسانیت مضمر ہے، اسی طرح انسان کے صنفی تعلقات بھی لازماً ضابطوں کے پابند ہوں گے۔ یہ انسانیت اور انسانی فطرت کا تقاضا ہے، اس لیے اسلام عورت کے احترام اور تکریم پر زور دیتا ہے۔
عورت کی بے لباسی، اس کی توہین اور تحقیر ہے۔ عورت کا آوارگی میں استعمال انسانیت کے ماتھے پر ایک بدنما داغ ہے۔ اسلام اس کو برداشت نہیں کرتا۔ ان دو تہذیبوں میں ٹکرائو دراصل اسی نکتے پر قائم ہے۔ یہ بات پوری ذمہ داری کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ مغربی تہذیب اور سیکولرازم کا اگر اسلام سے تصادم ہے تو محض اسی نکتے پر ہے۔ اس کے علاوہ جتنے بھی عنوانات میں اختلاف نظر آتا ہے، وہ اسی اساسی نکتے سے ہی مربوط ہیں۔ مثلاً تعلیم، ترقی، معیشت، تجارت، سیاست، کسی چیز میں اسلامی تعلیمات اور تصورات انسان کی حقیقی ضرورتوں کی نفی بالکل نہیں کرتیں، بلکہ زندگی کے تمام مراحل میں اسلام مغربی تہذیب سے زیادہ پختہ اور پائیدار ضابطے پیش کرتا ہے۔ 
ایک مثال دیکھیے! کہا جاتا ہے کہ اسلام میں عورت کو تعلیم کا حق نہیں دیا جاتا جبکہ تعلیم ترقی کی بنیاد ہے، حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ اسلامی تعلیمات میں تعلیم کی نفی نہیں، ہاں البتہ مخلوط تعلیم کی نفی ہے اور مخلوط تعلیم بے حیائی اور آوارگی کا سبب ہے۔ اسی طرح اسلام تجارت سے بھی قطعاً منع نہیں کرتا، بلکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بڑے بڑے صحابہ کرامؓ تاجر ہی تھے، لیکن تجارت میں دھوکہ، فراڈ اور ایڈورٹائزنگ کے نام پر عورت فروشی سے منع کرتا ہے۔ عریاں تصاویر اور دیگر اخلاق باختہ طریقے سے تجارت سے منع کرتا ہے۔ اسلام میں مضبوط معیشت ایک اہمیت کی چیز ہے۔ اسلام اس سے انکار نہیں کرتا، لیکن اجارہ داری، ارتکاز دولت اور معاشی ناانصافی سے منع کرتا ہے۔ آج کی سرمایہ دارانہ دنیا میں تقسیم دولت میں جو قباحتیں، جو ظلم و استحصال نظر آتا ہے، وہ اسلامی نظریہ معیشت کی مخالفت کی وجہ سے ہی ہے۔ اسلام بین الاقوامی سیاست اور سفارت کاری سے انکار نہیں کرتا بلکہ اسلام کے بین الاقوامی سفارت کے اصول ہی آج کے منافقانہ اندازِ سیاست سے دنیا کو نجات دلاسکتے ہیں۔ اسلام کے اصولوں میں کھرا پن ہے۔ اندر باہر ایک ہونا ضروری ہے۔ اگرچہ دُشمن کے ساتھ معاہدہ ہو، اس کی پاسداری بھی ایک شرعی فریضہ ہے، جبکہ آج کی بڑی بڑی طاقتیں معاہدات میں درپردہ خیانت ہی کو کامیاب سیاست سمجھتی ہیں۔

تمام مخلص مسلمان اپنے ان عظیم بھائیوں کے حق میں صبح شام دعا کریں۔ یہ صرف اخوانی اور مصری نہیں ہیں، یہ فخر انسانیت ہیں۔ یہ اس دور کے عظیم ترین افراد ہیں۔


یہ سب کچھ ہے اور اسلامی سیاست کے مخالفین کو بھی ایک حد تک اس کا ادراک ہے، لیکن اسلامی نظام سیاست و معیشت سے بیرونی دنیا اور ان سے متأثر مسلمانوں کے لبرل اور سیکولر طبقات خائف کیوں ہیں؟ مصر میں مرسی کی حکومت سے، ترکی میں طیب اردگان کی مثالی خدمات سے اور علی العموم اسلام کے تصورِ سیاست و حکومت سے کس کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے؟ اس کا ایک ہی جواب ہے کہ باقی سب کچھ ٹھیک ہے، بلکہ اسلامی سیاست میں اور بھی بہتر انداز میں ہوسکتا ہے، لیکن مرد و عورت کا اختلاط، آوارگی، عورت کا آسان حصول اور عیاشی کے اڈّے بند ہوجائیں گے، جبکہ مغربی تہذیب میں عیاشی ہی مقصدِ حیات ہے، اس لیے بے حیائی پر پابندی سے سیکولرازم کی دنیا تاریک ہوجائے گی۔ ان کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں رہے گا۔ یہ بات محض قیاس یا بدگمانی نہیں ہے۔ مصر کے سیکولر عناصر نے مرسی حکومت کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار انہی الفاظ میں کیا کہ ان کے آنے سے مصر میں آزادیوں کا گلا گھٹ جائے گا۔ یورپ میں ہر طرزِ فکر، ہر اندازِ زندگی اور لباس کے ہر فیشن کو قبول کیا گیا، حتیٰ کہ ’’بکنی‘‘ جیسے ننگ انسانیت چیز کو بھی عوامی مقامات پر برداشت کیا جاتا ہے، لیکن نقاب کو برداشت نہیں کیا جاتا، کیوں؟ یہ نقاب کسی نے زبردستی عورت کو نہیں پہنایا ہوتا، عورت خود چاہتی ہے کہ نقاب پہنے، لیکن وہ کہتے ہیں کہ نہیں! اس کی اجازت نہیں، کیونکہ اگر اس کا رواج ہوگیا تو ساری عورتیں یہی کریں گی۔ اوباش لوگوں کی آزادی اور عیاشیاں خطرے میں پڑ جائیں گی، اس لیے عورت کی چاہت کے باوجود اس کے پردے میں رہنے کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ اس سے عیاشی اور عورت کے استعمال کے حوالے سے مغربی ذہن کی اصلیت اچھی طرح معلوم ہوتی ہے۔ 
مصر کی مرسی حکومت کا بھی سب سے بڑا قصور یہی ہے کہ اس نے مصر میں سالوں سے جاری عیاشی کے اڈّوں کو ختم کرنے کا ارادہ کرلیا تھا۔ ساحلوں پر آوارگی کے ایسے مناظر مصر میں عرصے سے موجود ہیں جن کی کشش پوری دنیا کے لفنگوں کو مصر آنے پر مجبور کرتی ہے۔ کہنے کو تو وہ تفریحی مقامات ہوتے ہیں، لیکن وہاں تفریح کے نام پر نسوانیت فروخت ہوتی ہے۔ شرم و حیا نیلام ہوتی ہے، انسانیت رُسوا ہوتی ہے۔ ایسے اڈّوں سے وابستہ مصری فوج اور وہاں کا سیکولر طبقہ یہ کیسے برداشت کرے گا کہ وہ مذہب پسندوں کی پابندیوں کا شکار ہوکر عیاشیوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ یورپ اور امریکا کے بین الاقوامی اوباش جو ذائقہ بدلنے کے لیے مصر کا رُخ کرتے تھے، انہیں بھی اپنی رنگینیوں پر پابندی اچھی نہیں لگی، چنانچہ ان سب نے الاخوان المسلمون کو سبق چکھانے کا عزم کرلیا۔ اسی پاداش میں اب تک مصر کی سیکولر عدالت نے683 اخوانیوں کے لیے سزائے موت کے پھندے تیار کرلیے ہیں اور مزید کی کوشش جاری ہے۔ 
یہ 683 مسلمان شرم و حیا اور عفت و طہارت کی فضا کو بچانے کے جرم میں تختہ دار کے سزاوار قرار دیے گئے ہیں۔ دنیا بھر میں جو انسان شرم و حیا اور عفت کو پسند کرتا ہے، اس پر فرض ہے کہ ان لوگوں کے حق میں اپنی حد تک آواز اُٹھائے۔ تمام مخلص مسلمان اپنے ان عظیم بھائیوں کے حق میں صبح شام دعا کریں۔ یہ صرف اخوانی اور مصری نہیں ہیں، یہ فخر انسانیت ہیں۔ یہ اس دور کے عظیم ترین افراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائے۔


____________
راشد صاحب

    Current date/time is Wed Nov 21, 2018 12:23 am