Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


جنوبی ایشیا میں سیاست کے مہروں کی تبدیل

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

جنوبی ایشیا میں سیاست کے مہروں کی تبدیل

Post by Admin on Sun May 03, 2015 4:21 am

’’احمد آباد‘‘ بھارتی صوبہ گجرات کا صدر مقام ہے۔ یہ شہر ایک مسلمان حکمران نے آباد کیا تھا۔ اس نے یہاں نہایت دیدہ زیب مسجدیں تعمیر کروائی تھیں۔ صدیوں تک یہ ایک مسلم اکثریت کا شہر رہا۔ تقسیم ہندکے وقت احمدآباد گجرات کے دوسرے شہروںمیں مسلمانوں نے صنعتی یونٹ قائم کرنے شروع کردیے۔ یوں مسلم آباد ی بھارت کے دوسرے صوبوں کی صوبوں کی نسبت زیادہ سے زیادہ خوشحال ہوتی چلی گئی۔ فی کس آمدنی کی شرح نہایت درجہ بلند ہو گئی۔ 1960ء کی دہائی میں بھارتی جنتا پارٹی کی ماں راشٹر یہ سیوک سنگھ نے یہاں اپنا علاقائی ہیڈ کوارٹر قائم کیا۔ ہندو تعصب کی بدبو کے بھپکے چاروں طرف پھیلنے لگے۔ ملک بھر سے متشدد اور جرائم پیشہ ہندوئوں کے غول پرواز کرتے ہوئے احمد آباد کا رُخ کرنے لگے۔ انہوں نے شہر کا کنٹرول اپنے قصبے میں لے لیا۔ مسلمانوں کی زمنیوں پر قبضے ہونے لگے۔ دکانوں پر جعلی کلیم دھڑا دھڑ مندروں سے نہایت درجہ فسادی فرمان جاری ہونے لگے۔ احمد آباد جو کبھی روح پرور مسجدوں کا شہر تھا وہاں لاوڈ سپیکر پر اذانیں دینے پر پابندی عائد کردی گئی۔
1969ء میں یہ شہر ہندوستان کی تاریخ کے ایک بدترین مسلم کش فسادات کے سیلاب میں بہہ گیا۔ مسلمانوں کے گھر، دکانیں، ملیں تک جلادی گئیں۔ انہیں زندہ آگ میں پھینکا گیا۔ عورتوں کی اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ بچوں کو تیز دھار چھروں سے ذبح کردیا گیا۔ مسجدوں اور مدرسوں کو نذر آتش کردیا گیا۔ فسادات کا یہ دھارا احمد آباد سے نکل کر گجرات کے دوسرے بڑے شہروں اور قصبوں میں بھی پھیل گیا۔ ایک انداز ے کے مطابق 80 ہزار مسلمان مرد، عورتیں اور بچے شہید کردیے گئے۔ اندرا گاندھی اس وقت وزیراعظم تھی۔ اس نے شہر کا دورہ ایسے وقت کیا جب رام کے بالکے مسلمانوں کے خون سے جی بھرکے ہولی کھیل چکے تھے۔ لہو چراغوں میں ڈال کر دیوالی منا چکے تھے۔


وقت کا پہیہ چلتا رہا۔ گجرات میں کشیدگی کو ہوا دینے والے جھکڑ چلتے رہے۔ بادِ سموم نے مسلمانوں کو دوبارہ پرواز کرنے کے قابل نہ چھوڑا۔ ایک اور نسل پروان چڑھ گئی۔ 2002ء آن پہنچا۔ وزیراعلی نرنیدر مودی کی زیرنگرانی دوبارہ بڑے پیمانے پر مسلم کش فسادات شروع کردیے گئے۔ اب کی بار قتل و غارت گری ایک نہایت سفاک منصوبے کے تحت کی گئی۔ باقاعدہ پلاننگ سے اس کی شروعات ہوئی۔ مسلمانوں کی جان، مال اور املاک بھسم کی جانے لگیں۔ راشٹریہ سیوک سنگھ کے غنڈے بھوکے شکاریوں کی طرح گلیوں، محلوں اور بستیوں میں شکار کھیلتے رہے۔ پولیس مودی کی ہدایت پر تھانوں میں بند ہو کر بیٹھ گئی۔ گجرات حکومت نے مرکزی حکومت کی ملٹری بھیجنے کی تجویز کو سرد خانے میں ڈالے رکھا۔ احمدآباد کے علاقے گلبرک میں کانگریس کا رکن پارلیمنٹ احسان جعفری دہائی دیتا رہا۔ اس کا وسیع و عریض گھر لٹے پٹے مسلمانوں کا آخری ٹھکانہ بن گیا۔ ہندوئوں نے اس کے گھر کا گھیرائو کیا۔ پیٹرول چھڑکا اور آگ لگادی۔ احسان جعفری سمیت سارے مسلمان زندہ جل گئے۔ ساری دنیا نریندرمودی کو انسانیت کے قاتل کے طور پر جاننے لگی۔ اس کا ناقابل معافی جرم ملکوں ملکوں چرچا پاگیا۔ انجام کار 2004ء کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے دوبارہ گجرات کا وزیر اعلی بن گیا۔ 2009ء میں اپنی اس اعلیٰ کارگردگی کی بنا پر صوبے کا مالک چن لیا گیا۔ مودی کا درجہ بھارتی جنتا پارٹی میں بلند ہونے لگا۔ راشٹریہ سیوک سنگھ نے اُسے اعلیٰ جوہر رکھنے والے لیڈر کے طور پر اگلی صفوں میں پہنچا دیا۔ 2014ء کے انتخابات 7 اپریل سے شروع ہوئے ہیں اور یہ 12 مئی کو ختم ہوں گے۔ 16مئی کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔


٭ مسلمانوں کے گھر، دکانیں، ملیں تک جلادی گئیں۔ انہیں زندہ آگ میں پھینکا گیا۔ ایک انداز ے کے مطابق 80 ہزار مسلمان مرد، عورتیں اور بچے شہید کردیے گئے۔ ٭ ہماری حکومت کو نئی ہندوسرکار سے باہمی مذاکرات کے وقت نوکیلے لوہے کے پنجے کو ضرور زہن میں رکھنا ہو گا۔ ٭



سارے کا سارا بھارتی میڈیا بڑے صنعت کار اور متعصب ہندو تنظیمیں نریندر مودی کو اگلا وزیراعظم بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ گلاب کے سرخ پھولوں سے لدا ہوا مودی ہر ٹی وی اسکرین پر مسکراہٹیں بکھیر رہا ہے۔ اس کی ہر مسکراہٹ کے پیچھے ان گنت معصوموں کا لہو ہے۔ اس کے لباس سے خون کے بھپکے اُٹھتے ہیں۔ گجرات کا قاتل اب سارے ہندوستان میں مسلمانوں کا شکار کرنے کے لیے راجد ھانی کی طرف چل پڑا ہے۔ وہ گجرات کی تقدیر سنوارنے کے بعد سارے بھارت کا مقدر اجالنے کے لیے نکل کھڑا ہوا ہے۔ اس کی رتھ کے پہیے اقتدار کی شاہراہ کی طرف رواں دواں ہیں۔ انڈین سیاست کا سب سے مکروہ پہلو یہ ہے اس کے لیڈر جب تک مسلمانوں کو لاشوں پر کھڑے نہ ہوں وہ دور سے دکھائی نہیں دیتے۔ 


بی جے پی اور کانگریس کے علاوہ عام آدمی کی پارٹی (عاپ) ملک گیر شہرت کی حامل ہے۔ 80 کروڑ 14 لاکھ ووٹر اپنا ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں۔ یہ انتخابات 35 ریاستوں 543 نشستوں پر ہو رہے ہیں۔ بی جے پی کے 80 میں سے 38، کانگریس کے 72 میں سے 21 اور عام آدمی پارٹی کے 78 میں سے 10 امیدوار نہایت سنگین جرائم کے مقدمات کے ملزم ہیں۔ بھارتی سٹہ باز 5 سے 6 کھرب روپے کا جوا کھیل رہے ہیں۔ الیکشن پر امیدواروں نے 5 کھرب روپے خرچ کیے ہیں۔ 29 فیصد اُمیدوار کروڑ یا ارب پتی ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے سائنس دانوں، ماہرین تعلیم، صحافیوں، سابق ججوں، وکیلوں، ریٹائر بیوروکریٹوں، سماجی کارکنوں، ادیبوں، شاعروں اور ناول نگاروں کو ٹکٹ دیے ہیں۔ اس پارٹی کی عمر صرف ایک سال ہے۔ اس کے سربراہ اروندکجروال نے پچھلے سال دہلی میں کانگریس کے ایک بڑے لیڈر کو شکست دی تھی۔ سروے کے مطابق یہ پارٹی 100 کے قریب نشستیں جیت جائے گی۔ بی جے پی کے بارے میں کہا جارہا ہے وہ سب سے زیادہ سیٹیں جیتے گی۔ کانگریس کے بارے میں رائے عام نا موافق ہے۔ بھارتی معاشی بحران اس کے دور میں اپنے عروج کو پہنچا تھا۔ 2010ء میں شرح ترقی 10 فیصد کی حدود تک جا پہنچی تھی، جو 2014ء میں صرف 4.7 فیصد تک رہ گئی۔ یوں کانگریس کو شکست ہونے کی پیشینگوئیاں ہورہی ہیں۔
بھارت میں مسلمانوں کی کل آبادی 25 کروڑ سے زیادہ ہے۔ ان کی کثیر تعداد اتر پر دیش، بہار، آندھرا پردیش، مدھیہ پردیش، کرناٹک، کیرالہ ، آسام، مہاراشٹرمغربی بنگال، گجرات، راجستھان اور وادی کشمیر میں مقیم ہے۔ اترپردیش کے 80 حلقوں میں 54 میں مسلمانوں کا ووٹ فیصلہ کن کردار ادا کرسکتا ہے۔ بہار میں 40 میں سے 29، مغربی بنگال میں 42 میں سے 28، کرناٹک میں 28 میں سے 15، کیرالہ میں 20 میں سے 14، مہاراشٹر میں 48 میں سے 13، آندھرا پردیش میں 42 میں سے 12، آسام میں 14 میں سے 9 گجرات 26 میں سے 6 اور راجستھان میں 25 میں سے 6 حلقوں میں مسلمانوں کا ووٹ کسی بھی امیدوار کو جتوا یا ہرا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے مسلمان کسی بھی مرکزی قیادت کے نہ ہونے کی وجہ سے اپنی اس بے مثال طاقت کو بھرپور طریقے سے استعمال نہیں کر پاتے۔ یوں پچھلی اسمبلی میں ان کے 5.3 نمایندے ہی پہنچ پائے جو کہ ان کی کل آبادی کا نہایت محدود اثر ظاہر کرتا ہے۔ مسلم ووٹ کی تقسیم کا فائدہ ہمیشہ ہندو اُٹھاتے ہیں جن سے مرکزی اور صوبائی اسمبلیاں بھری رہتی ہیں۔ بھارتی الیکشن کمیشن دنیا کا سب سے بڑا پولنگ ادارہ ہے۔ اس بار اس نے ایک کروڑ 20 لاکھ افراد کی خدمات حاصل کی ہیں۔ 65 لاکھ فوجی ، سپاہی اور رضا کارانتخابات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ملک میں 9 لاکھ 30 ہزار پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔ ہر دو میل کے فاصلے پر ایک پولنگ بوتھ موجود ہے۔ 17 لاکھ جدید پولنگ مشین استعمال ہورہی ہیں۔ 100 ریل گاڑیاں عملے کے نقل و حمل کے لیے چلائی گئی ہیں۔ ہزاروں گاڑیاں اور ایک درجن ہیلی کاپٹر مہیا کیے گئے ہیں۔ 20 کروڑ بھارتی انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے من پسند نمایندوں کی اشتہاری مہم چلا رہے ہیں۔ 9 کروڑفیس بک یا ٹویٹر کے استعمال سے یہ فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل ایسوسی ایشن آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق 543 حلقوں میں سے 150 کے نتائج سوشل میڈیا کی وجہ سے کچھ بھی ہو سکتے ہیں۔ من چلے نوجوانوں کو لبھانے کے لیے بڑے لیڈر مسلسل اپنے ’’اقوال زریں‘‘ اپ لوڈ کرتے رہتے ہیں جو منٹوں میں ملک کے طول و عرض میں پھیل جاتے ہیں۔ اس طرح یہ ٹیکنالوجی بھارتی انتخابات میں ایک بڑا رول پلے کر رہی ہے۔
بی جے پی کو حکومت بنانے کے لیے 272 نشستیں درکار ہیں۔ اس کا الیکشن میں کلین سوئپ کرنا نہایت مشکل نظر آرہا ہے۔ وہ مسلمان ووٹروں کو لبھانے کے لیے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ پارٹی کے مرکزی صدر رام ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ بی جی پی مسلمانوںکی حقیقی خیرخواہ پارٹی ہے۔ وہ مسجدوں اور مدرسوں کی حفاظت کرے گی۔ وہ مسلمانوںکا تعلیمی و سماجی قد بڑھانے کے لیے سخت کاوش کرے گی۔ گجرات اور مہارا شٹر میں بی جی پی نے اپنی حکومت کے آخری دنوں میں گجراتی اور مراٹھی زبان کے علاوہ اردو میں امتحان دینے کی سہولت بھی متعارف کروائی ہے۔
نریندرمودی نے انتخابات میں مسلمانوں کے دسترخوان پر کھانا کھایا، پانی پیااور یوں خود کو ان کا نمک خوار ظاہر کرنے کا ڈھونگ رچایا۔ اس موقع پر اس نے کچھ یوں گل افشانی کی: ’’ہم مسلمانوں کو مواقع دینے اور قومی دھارے میں لانے کے لیے ہر دم کوشاں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنے پائوں پر کھڑے ہوں۔ زندہ رہنے کے لیے سہارے تلاش نہ کریں۔ انہیں اپنا سہارا خود بننا ہوگا۔ عنقریب مسلمان بچے نوکری تلاش کرنے والے نہیں بلکہ نوکری دینے والے بن جائیں گے۔‘‘ بی جی پی نے کچھ بڑے مسلمان تاجروں، صنعت کاروں اور صحافیوں کو اپنے نرغے میں لے لیا ہے۔ وہ اپنی تقریروں میں بی جی پی کی اصل شکل دکھانے کی بجائے اس کی نہایت دل کش تصویر کشی میں لگے ہوئے ہیں۔ صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ موقع پرست عناصر بی جی پی کے لہو میں ڈوبی آستینوں کو دھو رہے ہیں۔ وہ مسلم کش فسادات کا دھواں اپنی پھوکوں سے اُڑا رہے ہیں۔ وہ مسلمانوں کی جلی ہوئی ہڈیوں کو زمین میں گہرا دبا کر اوپر افہام و تفہیم کی مٹی ڈال رہے ہیں۔ ان میں انڈیا ٹو ڈے کا ایڈیٹر اور ممتاز انگریز رائٹر ایم جے اکبر پیش پیش ہے۔ اکبر کبھی بی جی پی کی مسلم دشمنی پر اپنے قلم سے اَنگارے اور منہ سے شعلے نکالا کرتا تھا۔ اب انگارے بجھ چکے ہیں۔ اور شعلے سرد ہو گئے ہیں۔
بی جی پی کی حکومت بننا اور مودی کا وزیراعظم کی نشست پر براجمان ہونا جنوبی ایشیا کے لیے ایک بالکل نیا منظر نامہ لائے گا۔ بھارتی مسلمانوں کے لیے مجموعی طور پر ایک خطرناک دشمن کو سخت تنقید کا ہدف بناتا رہا ہے۔ اس کا خیال ہے حکومت وقت پاکستان کے بارے میں ضرورت سے زیادہ نرم رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ بی جی پی نے گزشتہ سال ممتاز کشمیری راہنما افضل گرو کی پھانسی کو سراہا تھا۔ اس نے پاکستانی پارلیمنٹ کی اس ضمن میں قرار داد مذمت پر شدید تنقید کی تھی۔ بی جی پی نے کانگریس کو پاکستان کے ساتھ تعلقات توڑ لینے اور امن قائم کرنے کی ہر کوشش کو معطل کرنے کا حکم جاری کیے تھے۔ پچھلے سال اگست میں لائن آف کنٹرول پر پاک بھارت کشیدگی کے دنوں میں بی جی پی اور مودی نے اپنی زہریلی زبان سے پاکستان پر بمباری کی تھی۔ لوک سبھا اور جلسے جلوسوں میں ’’کرش پاکستان‘‘ کے نعرے سننے کو ملے تھے۔ کئی دہائیوں سے یہ پارٹی پاکستان دشمنی کو مستقل اپنی بنیاد بنائے ہوئے ہے۔
بی جی پی کی ماں راشٹریہ سیوک سنگھ ہر سال بھارت میں ایک خوف ناک درندے شیوا جی مرہٹے کا جنم دن مذہبی جوش و خروش کے ساتھ مناتی ہے۔ چند صدیوں پہلے یہ مہارا شٹر میں ظلم و جبر کا ایک استعارہ ہوا کرتا تھا۔ یہ مسلمانوں کا بدترین دشمن تھا۔ افضل خان نامی ایک نہایت جری اور بہادر جرنیل نے شیوا جی کو شکست پر شکست دی۔ شیوا جی کا اقتدار ختم ہونے پر آگیا۔ اس نے افضل خان کو تنہا ایک پہاڑی پر مذاکرات کی دعوت دی۔ شیوا جی اور افضل خان نہتے وہاں پہنچ گئے۔ شیوا جی نے مسکراتے ہوئے اپنے مہمان کو گلے لگایا۔ ہاتھ پر چڑھائے ہوئے نوکیلے لوہے کے پنجے سے افضل خان کا دل باہر نکال کر پھنک دیا۔ شیوا جی اور اس کے ’’تاریخ مذاکرات‘‘ اب بی جی پی اور راشٹر یہ سیوک سنگھ کے راہنما اصول ہیں۔ نریندرمودی اسی سکول آف تھاٹ پر یقین رکھتا ہے۔ ہماری حکومت کو نئی ہندوسرکار سے باہمی مذاکرات کے وقت نوکیلے لوہے کے پنجے کو ضرور زہن میں رکھنا ہو گا۔

    Current date/time is Fri Sep 21, 2018 10:28 am