Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


آرزوئے آشیا ں یا قیدِ قفس / تین گرما گرم جوتے / نامراد بجٹ

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

آرزوئے آشیا ں یا قیدِ قفس / تین گرما گرم جوتے / نامراد بجٹ

Post by Admin on Wed Apr 22, 2015 5:04 pm

ہر سال ماہِ جون 3 گرما گرم جوتے قوم کے سرپرپڑتے ہیں: ایک سخت ترین موسم کا، دوسرانہ ختم ہونے والی لوڈشیڈنگ کا، تیسرا بجٹ کا۔ موسم کی گرمی کو کیا کہیے کہ اسے بدلناکسی کے اختیارمیں نہیں۔ گرمی آنی ہے تو آکر رہے گی۔ درجۂ حرارت 40 سے اوپر جانا ہے تو جا کر رہے گا۔ 50 تک بھی چلا جائے تو کوئی کیا کرسکتا ہے سوائے اس کے کہ دفترمیں ہے تو آس پاس والوں پر غصہ نکالے۔ گھر میں ہے تو بیگم اور بچوں پر نزلہ گرائے۔ بازار میں ہے تو دکاندار گاہک سے اور گاہک دکاندار سے جھگڑے۔ بس میں چڑ ھے تو کنڈیکٹر کی نگاہِ خونخوار کا شکار ہو۔ رکشے ٹیکسی میںبیٹھے تو ڈائیور کے رحم و کرم پر ہو۔ دکاندار سے قیمت اور ڈرائیور سے کرایے میں کمی کی سفارش کرنا بھی وبالِ جان ہوجاتا ہے۔ فوراً ہی یہ سننے کو ملتاہے: ’’بابو! زیادہ دماغ خراب نہ کر، گرمی سے پہلے ہی دماغ خراب ہے۔‘‘ پس اگر چوٹی سے ایڑی تک پسینہ بہہ رہاہے توبہنے دیجیے۔ زیادہ گرمی لگے 
تومیری طرح گنگنایے ؎ 
قہر ڈھاتی ہے جون کی گرمی… 
خوف آتاہے اس مہینے سے
ہم غریبوں کے واسطے یاربّ 
بھیج ٹھنڈی ہوا مدینے سے 
فیض لدھیانوی کا یہ شعر کسی عقل پرست کے سامنے پڑھ دیا تو کہنے لگے: ’’شعر غلط ہے۔ مدینہ میں تو یہ موسم اور زیادہ گرم ہوتا ہے۔ وہاں سے ٹھنڈی ہوا کیسے آئے گی۔‘‘ اب ایسے بوجھ بجھکڑ کو کو ن سمجھائے کہ یہ تو عشق و محبت کی بات ہے۔ فیض لدھیانوی عاشقِ رسولؐ تھے، اس لیے موسم کی قہرمانی کا ذکر کرتے کرتے بھی انہیں ٹھنڈ کے لیے مدینہ یاد آیا کہ شہرِ نبی کا ذکر ہی سرور افزا ہے۔ ہوا کی تو بات ہی کیا ہوگی اگر نصیب ہوجائے۔ 
خیر!یہ تو احوال تھا جون کی گرمی کا۔ لوڈ شیڈنگ کے بارے میں ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے یہ پورے سال کچھ یوں ہوتی ہے جیسے سوسنار کی۔ جون میں بالکل ویسی ہوتی ہے جیسے ایک لوہار کی۔ پورے سال تویہ حال رہتا ہے کبھی کبھی محکمہ بجلی کو عوام پر رحم آہی جاتا ہے تو یہ یاد دلانے کے لیے ہم آپ سے بل وصول کرنے کے لیے اسی جہان میں موجود ہیں، دن میں دوچا ر بار بجلی بھیج دیتے ہیں۔ آخر ہزار سے 10 ہزار تک کے بلو ںکی وجہ ِ جواز موجود رہنی چاہیے، مگر جون میں کیا ہوتا ہے… ایسا لگتا ہے محکمہ بجلی اپنے افسران، کارکنان، عمارتوں، کھمبوں اور تاروں سمیت سالانہ چھٹیاں منانے کسی اور سیارے پر چلاگیا ہے۔ بتی بند، پانی کی موٹر بند، پنکھا بند… بقول کسے 
اوپر پنکھا سوتا ہے … نیچے منا روتا ہے 
صرف میٹر وہ واحد چیز ہے جو بجلی نہ ہوتے بھی اس موسم میں پوری تیزی سے مصروفِ کاررہتا ہے اور آپ کوخوش خبری دیتا ہے بجلی ہو نہ ہو، بل تو لامحالہ دینا ہی پڑے گا۔ ہم آپ سنتے رہتے ہیں فلاں گرمی سے بے ہوش، فلاں جاں بحق۔ یہ اسی لیے کہ ایک طرف گرمی، دوسری طرف لوڈ شیڈنگ… اسے کہتے ہیں دو آتشہ … مرے پہ سود رے… یک نہ شد دو شد … وغیرہ وغیرہ

جب یہ بجٹ عوام کا ہے نہیں تو انہیں کیوں سنایا جاتا ہے؟ یہ انہی کو مبارک ہو جنہوں نے اسے تیار کیا ہے۔ یہ انہی کا ہے اور اُنہی کے لیے بنا ہے۔ اس سے عوام کا کچھ بنا ہے نہ کبھی بنے گا۔


اب تیسری چیز جو ان سب سے زیادہ سخت ہے اور جس کی کڑواہٹ پورا سال روح و جاں میں زہر گھولتی رہتی ہے، وہ نامراد ’’بجٹ‘‘ ہے۔ اِدھر جون آیا اور اُدھر وزیرِ خزانہ موصوف ایک مشینی انداز میں گویا ہوتے ہیں۔ سب کو معلوم ہوتا ہے انہوں نے کیا کہنا ہے، پھر بھی سب اسے سننا چاہتے ہیں۔ یہ ایک عجیب سی راگنی ہوتی ہے جسے سنتے ہی محسوس ہوتا ہے جو لوگ ملک کو غریب، مفلس اور قلاش کہتے ہیں وہ پاگل ہیں۔ جن کا خیال ہے یہاں اکثریت غریبوں کی ہے وہ جھوٹے ہیں۔ جو ملک کو معاشی لحاظ سے کمزور سمجھتے ہیں، وہ احمق ہیں۔ یہاں تو دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں اور مزید بہیں گی۔ یہاں ہر ادارہ ترقی کررہا ہے اور مزید کرے گا۔ تمام اہداف ترقی کی بلندیوں کوچھور ہے ہیں۔ معیشت ’’ماؤنٹ ایورسٹ‘‘ کی طرح بلندتر درجے پر جارہی ہے۔ زرِمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں۔ برآمد ات کا دور دورہ ہے۔ درآمدات کم سے کم ہوگئی ہیں۔ کبھی یہاں پریشان حال لوگ ہوا کرتے تھے، اب تو ہر کوئی خو ش و خرم گھوم رہا ہے۔ کبھی غریب طبقہ بھی تھا۔ اب ڈھونڈے نہیں ملتا، اسی لیے بجٹ میں اس کا کوئی حصہ رکھنے، اسے کوئی ریلیف دینے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ جو ہے ہی نہیں اسے کیا پوچھنا۔ اگر اِکّا دُکّا غریب رہ بھی گئے ہیں تو کل کلاں انہوں نے مر ہی جانا ہے، اسی لیے بجٹ میں کبھی یہ سنائی نہیں دیتا کہ آٹا، چینی، دال چاول، تیل، گھی، گیس اور بجلی جیسی چیزیں جو ہرخاص و عام بندے کی ضرورت ہیں، سستی کردی گئی ہیں۔ 
ہاں! یہ سننے میں آتا ہے فلاں فلاں غیرملکی مصنوعات سستی کردی گئی ہیں۔ فلاں فلاں اشیا پر ڈیوٹی کم کردی گئی ہے۔ اسبابِ تعیش کی فراہمی آسان بنادی گئی ہے۔ غرض ہر وہ کام کیا جاتا ہے جس سے امیر ترین لوگوں کو فائدہ ہو، کیونکہ ملک میں درحقیقت ایک ہی طبقہ ہے، وہ ہے امراء اور سرمایہ داروں کا۔ انہی کے لیے ملک بنا ہے، انہوں نے ہی اسے بنایا تھا۔ وہی یہاں رہنے کا حق رکھتے ہیں، اس کی پیداوار، محصولات اور ذرائع آمدن پر پورا پورا حق صرف اور صرف انہی کا ہے۔ ہر چیز ان کے مفادات کے تابع رہے گی۔ اگر ان کا مفاد دال چاول مہنگا کرنے میں ہے تو مہنگا ہو کر رہے گا۔ انہیں پٹرول سستا ہونے سے فائدہ ہوتا ہے تو پیٹرول سستا ہوجائے گا۔ غیرملکی مشینری پر کسٹم ڈیوٹی کم کرنا ان کے لیے مفیدِ صحت ہے تو ایسا کرنا بھی ضروری ہوجائے گا۔ باقی رہے عوام تو وہ ہیں ہی کالانعام، یعنی ’’مانند مویشیاں و ڈھور ڈنگر۔‘‘ ان کی کسی کو کیا پڑی ہے؟ اگر پڑی ہو تب بھی کوئی کیا تیر مارے گا؟ اپنا جی ہی ہلکان کرے گا۔ آخر ہمدرد والے حکیم محمد سعید نے کیا کرلیا؟ مطب کے دروازے پر زندگی کی بازی ہار گئے۔ تکبیر والے صلاح الدین نے کسی کا کیا بگاڑ لیا؟ مفت میں جان سے گئے۔ ان گنت علماء کو قتل کیا گیا۔ 
کون پوچھنے والا ہے؟ کچھ بہی خواہانِ قوم فلاحی ادارے بنانے میں لگے۔ کیا حاصل ہوا؟ یہ پابندی… وہ پابندی، آج تک زیرِ عتاب ہیں۔ کامیاب تو وہی ہے جو پیسہ بنائے۔ چاہے اس نے منتخب حکومت کو لات مار کر گرایا ہو۔ 9 سال تک قوم کو ذلیل و رُسوا کرکے بھی جب وہ جائے گا تو اسے گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا۔ 5 سال تک سیاسی پارٹی اور حکومت کی صدارت کے عہدے بیک وقت سنبھال کر قوم کو دونوں ہاتھوں، دونوں پیروں سے لوٹنے اور دانتوں سے چبانے والا بھی معزز و محترم ہے۔ اس پر کوئی مقدمہ نہیں، کوئی الزام نہیں۔ وہ اسی ملک میں شاہانہ زندگی بسر کررہا ہے۔ پس جب یہ بجٹ عوام کا ہے نہیں تو انہیں کیوں سنایا جاتا ہے؟ یہ انہی کو مبارک ہو جنہوں نے اسے تیار کیا ہے۔ یہ انہی کا ہے اور انہی کے لیے بنا ہے۔ اس سے عوام کا کچھ بنا ہے نہ کبھی بنے گا۔ یہ آرزوں کا نشیمن نہیں، قفسِ خاردار ہے جو غریب کی امیر تک رسائی ناممکن کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ طلسم سامری ہے جو عوام کو محکومی کی نیند سلانے کے لیے ہر سال پڑھ پڑھ کر پھونکا جاتا ہے۔ اس سحر کے اثرات سے جو باہر آتا ہے، وہ غائب ہوجاتا ہے یا مار دیا جاتا ہے۔ بقول اقبال ؎ 
خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر 
پھر سلادیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری 
ہے وہی سازِ کہن مغر ب کا جمہوری نظام 
جس کے پردوں میں نہیں غیر از نوائے قیصری 
دیوِ استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب 
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری 
مجلسِ آئین و اصلاح و رعایات و حقوق 
طبِّ مغرب میں مزے میٹھے، اثر خواب آوری 
اس سرابِ رنگ و بو کو گلستاں سمجھا ہے تو 
آہ اے ناداں قفس کو آشیاں سمجھا ہے تو


____________
راشد صاحب

    Current date/time is Wed Nov 21, 2018 12:23 am