Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


غربت کی لکیر کے فقیر

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

غربت کی لکیر کے فقیر

Post by Admin on Wed Apr 22, 2015 4:59 pm

آج کل ہمارے ملک میں چینلوں پر اور اخبارات میں غربت کی لکیر کا ذکر بہت سننے میں آرہا ہے... غربت کی لکیرکا مؤد بانہ یا مہذبانہ نام ’’خطِ غربت‘‘ ہے... میں اس کے کلیے سے واقف نہیں... نہ جانے غربت کی یہ لکیر کہاں سے شروع ہوتی ہے... ؟ یعنی اس لکیر کی زد میں کون آتا ہے، کون نہیں آتا؟ یا پاکستان کے کتنے فیصد لوگ خط ِ غربت کے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں؟ اور کتنے فیصد لوگ خط ِ غربت کے اوپر...؟ اب ظاہر ہے کچھ فیصد ایسے بھی ہوں گے جو اس لکیر پر بھی زندگی بسر کررہے ہیں اور شاید ہم اس طبقے کو متو سط طبقہ کہتے ہیں... اب کوئی کب اس خط کے نیچے چلاجاتا اور کب کوئی اوپر آجاتا ہے... اس بارے میں بھی کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا، کیونکہ ہمارے پاکستان میں حالات کبھی بھی ایک جیسے نہیں رہتے... حالات بھی شاید خطِ غربت کے حسا ب سے ہی اپنی گزر بسر کر تے ہیں... ایک بات البتہ یقین سے کہی جا سکتی ہے... ہمارے ملک کے حکمران اور سیاست دانوں کا تعلق خطِ غربت سے دور کا بھی نہیں ہے... انہیں تو معلوم ہی نہیں، خطِ غربت ہو تا کیا ہے... یا یہ بھی کوئی ایسی چیز ہے جس کے بارے میں معلوم ہونا ضرور ی ہے... جی نہیں! ان کا کبھی خطِ غربت سے واسطہ نہیں پڑا... اور جب تک وہ حکومت میں ہیں یا جب تک سیاست میں ہیں، واسطہ پڑنے کے امکانات دور دور تک نظر نہیں آتے، بلکہ وہ واسطہ پڑنے سے بالکل بے نیاز ہیں... جی ہاں! ان کی شان ِ بے نیازی کا طرئہ امتیا ز یہی ہے انہیں معلوم ہی نہیں، خط غربت کہتے کسے ہیں
... ’’خط امارت‘‘ سے ضرور یہ لوگ واقف ہیں، لیکن مقابلے کی حدتک... یعنی کون کتنا خط ِامارت سے اوپر ہے اور کون کتنا خط ِ امارت سے نیچے ہے... خیر! خط امارت کایہاں کیا ذکر...کہ با ت صرف خط ِ غربت کی ہو رہی ہے... 
ویسے سچ بات یہ ہے کہ میر ا جی چاہتا ہے... پورے ملک کے اوپر ایک خط کھینچ دیا جائے... اس خط کا نام ہو خط غربت... اور پاکستان کے تمام لوگ اس خط کے نیچے زندگی بسر کریں۔ کوئی اس خط سے اوپر دیکھنے کی بھی جرأت نہ کرے... جہاں کوئی ذرا سا سر اُبھارنے کی کوشش کرے... غربت کی یہ لکیر وہیں اس کاسر دبا دے... خط ِغربت کے اوپر ایک شخص بھی نظر نہ آئے... آپ سوچ بھی نہیں سکتے... اس وقت پاکستان کا کیا حال ہوگا؟ اس صورت میں پاکستان کیا چیز ہوگا؟ پوری دنیا میں پاکستان کی واہ واہ ہو جائے گی... دنیا بھر کے لوگ پاکستان کی مثالیں دیتے نہیں تھکیں گے دیکھو... ! یہ ہے وہ پاکستان... جس میں کبھی خطِ غربت کے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کو پوچھا تک نہیں جاتا تھا... یہ کیسا انقلاب آگیا... کہ خطِ غربت کے اوپر کوئی رہا ہی نہیں... سب کے سب نیچے آگئے... اس وقت آپ دیکھیے گا... پاکستان میں سب کے سب لوگ خوش حال ہوں گے، خو ش ہوں گے، مطمئن ہوں گے اور آپس کی جنگیں پر لگا کر اڑ جائیں گی گے... دہشت گردی اپنی جڑیں خود چھوڑ دے گی اور بے ننگ ونام ہو کر رہ جائے گی... اور یہ شعر الاپتی سنائی دے گی... لو وہ بھی کہہ رہے ہیں، بے ننگ ونام ہے یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں 
ویسے کوئی زیادہ دور کی بات نہیں... بس صرف 1400 سال پہلے کی ہے... ہم ذرا سا سر ابھار کر جھانکیں تو آپ کو تمام مسلمان خط ِغربت کے نیچے زندگی گزارتے صاف نظر آئیں گے... اور اتنے خوش باش نظرآئیں گے کہ کیا کبھی کوئی قوم نظر آئی ہوگی... جی ہاں! دیکھ لیں... ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں تھاجو خط غربت کے اوپر رہ رہا ہو... یوں لگتا ہے... 
یہ لو گ جانتے ہی نہیں... زندگی گزارنے کے لیے کسی خط کی بھی ضرورت ہوتی ہے... ان کے ہاں تو کسی خط کا تصور ہی نہیں تھا... یہ تصور تو آج کی پیداوار ہے... یہ خط تو آج کے لوگوں کا پیدا کردہ ہے... جو لوگ حکومت کے ایوانوں میں بیٹھے ہیں، جو جانتے ہی نہیں غربت زدہ لوگ کس طرح زندگی بسر کرتے ہیں، یہ خط تو ان کا پیدا کردہ ہے... یہ تفریق تو ہے ہی انہی کے دم سے... چھوڑیے! میں بات کر رہا تھا، ان لوگوں کی جواس لکیر کے فقیر نہیں تھے... غربت کی لکیر کے فقیر تو ہم لوگ ہیں... جو اسی لکیر کو پیٹتے رہتے ہیں... یہ جانتے ہوئے بھی کہ لکیر پیٹنے کا کبھی کوئی فائدہ ہواہے نہ ہوگا... 
بات ہو رہی تھی، ان لوگوں کی... جنہوں نے اس لکیر کو کبھی پیدا ہی نہیں ہونے دیا تھا... وہ جانتے ہی نہیں تھے... غربت کی لکیر کہتے کسے ہیں، بلکہ اس دور میں تو اس نام نے جنم بھی نہیں لیا تھا... یہ نام نئی دنیا کا دیا ہوا ہے... اغراض کی دنیا کا... اغراض کے بندوں کا... اغراض کی جمہوریت کا... اغراض کے حکمرانوں کا... غربت کی لکیر کا ذکر کرکے یہ لوگ ہمارے احسا سات پر ڈاکے ڈالتے ہیں... یہ کہتے ہیں... یہ ہے وہ تحفہ جو ہم نے تمہیں دے دیا ہے... ا ب رہیے اس کے نیچے دب کر... 
آپ خود دیکھ لیں، ا س بات کو... اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا... ہم سب کے ووٹوں سے اقتدار میں آنے والے لوگ غربت کی لکیر کو جانتے تک نہیں... انہیں معلوم ہی نہیں کہ ہم جن کے ووٹوں سے یہاں تک پہنچے ہیں... وہ کس حال میں ہیں...؟ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں... یا لکیر کے اوپر... انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں۔ وہ تو بس یہ کہتے اور بغلیں بجاتے نظر آتے ہیں... : ’’جہاں رہو... خوش رہو... ہمیں ووٹ دیتے رہو اور ووٹ لینے کے بعد کون کسی کا۔‘‘ 
اخبار ات کی اطلاعات کے مطابق، یعنی تحقیقا ت کی روشنی میں ملک کے 50 فیصد لوگ خط ِغربت کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں... ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کا کام چلتا ہی ان سے ہے... یعنی ان کے خط غربت کے نیچے رہنے سے ہی ان کے ایوان اقتدار قائم ہیں... خط ِ غربت کو پھلانگ کر جس روز یہ 50 فیصد لوگ اوپر آگئے... اوپر والوں کو آٹے دال کا بھائو بالکل معلوم ہو جائے گا... آٹے دال کے بھائو سے یہ لوگ اس طرح ناآشنا ہیں جس طرح خط ِغربت کے نیچے بسرکرنے والے ان کی اصل زندگیوں سے ناآشنا ہیں... یہ وصف تو صرف اسلامی نظام میں ہے... اسلامی نظام ایسے کسی خط ِغربت کونہیں مانتا... اس میں کوئی ایسا خط نہیں ہے... نہ خطِ امارت کو مانتا ہے... کیونکہ... ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز … نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز …!!'



____________
راشد صاحب

    Current date/time is Fri Sep 21, 2018 6:08 am