Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


بحر اوقیانوس

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

بحر اوقیانوس

Post by Admin on Mon Mar 02, 2015 5:34 am

بحر اوقیانوس دوسرا بڑا سمندر ہے جو سطح زمین کے 5/1 حصے کو گھیرے ہوئے ہے۔ اس ‏کا انگریزی نام اٹلانٹک اوشن (‏Atlantic Ocean‏) یونانی لوک کہانیوں سے لیا گیا ہے۔ ‏اٹلانٹک کا مطلب "اطلس کا بیٹا" ہے۔ یہاں یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ دراصل عربی میں، --- اوقیانوس --- Ocean یا بحر ہی کو کہا جاتا ہے، لیکن اردو میں عموما اوقیانوس سے مراد Atlantic Ocean لی جانے لگی ہے لہذا یہاں "بحر اوقیانوس" کو Atlantic Ocean کے متبادل کے طور استعمال کیا گیا ہے۔ اور عربی میں بھی اگر اسکی اصل الکلمہ تلاش کی جاۓ تو تانے بانے ایک یونانی لفظ Okeanos تک لے جاتے ہیں کہ جس سے عربی کا اوقیانوس ماخوذ ہے، اور پھر Okeanos کی ماخوذیت بذات خود ایک اسطورہ (دیومالائی داستان یا افسانے) تک جاتی ہے کہ جہاں د گا ئیا (Gaia) اور دیوتا یورنس (Uranus) کی جفت گیری سے ایک بیٹا پیدا ہوا جسکا نام Oceanus تھا۔

بحر اوقیانوس




‏ اس بحر کا حوض انگریزی کے حرف ‏S‏ کی شکل میں شمالا جنوبا لمبائی میں پھیلا ہوا ہے۔ ‏اس کو استوا مخالف رو قریبا 8 درجے شمالی عرض بلد پر شمالی اوقیانوس اور جنوبی ‏اوقیانوس میں تقسیم کرتی ہے۔ اس کو مغرب میں شمالی و جنوبی امریکہ اور مشرق میں یورپ ‏و افریقہ نے گھیرا ہوا ہے۔ یہ بحر شمال میں بحر منجمد شمالی اور جنوب میں آبنائے ڈریک ‏کے ذریعہ بحر الکاہل سے ملا ہوا ہے۔ بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل کے درمیان ایک ‏مصنوعی رابطہ نہر پانامہ کے ذریعے قائم کیا گیا ہے۔ مشرق میں بحر اوقیانوس اور بحر ہند ‏کو تقسیم کرنے والا خط 20 درجے مشرقی نصف النہار ہے جو کیپ اگلہاس سے انٹارکٹکا تک ‏ہے۔ بحر اوقیانوس کو بحر منجمد شمالی سے ایک خط علیحدہ کرتا ہے جو گرین لینڈ سے ‏شمال مغربی آئس لینڈ اور پھر شمال مشرقی آئس لینڈ سے سپٹسبرگن کی انتہائی جنوبی نوک ‏تک اور پھر شمالی ناروے میں شمالی کیپ تک جاتا ہے۔
بحر اوقیانوس زمین کے قریبا 20٪ حصے کو گھیرے ہوئے ہے اور پھیلاؤ میں صرف بحر ‏الکاہل سے چھوٹا ہے۔ اپنے ملحقہ سمندروں سمیت اس کا رقبہ تقریبا 106400000 مربع ‏کلومیٹر (41100000 مربع میل) اور ان سمندروں کے بغیر اس کا رقبہ تقریبا 82400000 ‏مربع کلومیٹر (31800000 مربع میل) ہے۔ ملحقہ سمندروں کے ساتھ‍ اس کا حجم 354700000 ‏مکعب کلومیٹر (85100000 مکعب میل) اور ان کے بغیر اس کا حجم 323600000 مکعب ‏کلومیٹر (77640000 مکعب کلومیٹر) ہے۔
بحر اوقیانوس کی اوسط گہرائی ملحقہ سمندروں سمیت 3332 میٹر (10932 فٹ) اور ان کے ‏بغیر اوسط گہرائی 3926 میٹر (12881 فٹ) ہے۔ اس کی سب سے زیادہ گہرائی پورٹو ریکو ‏گھاٹی میں ہے جہا ں اس کی گہرائی 8605 میٹر (28232 فٹ) ہے۔ بحر اوقیانوس کی چوڑائی ‏متغیر ہے۔ اس کی کم سے کم چوڑائی برازیل اور لائیبیریا کے درمیان 2848 کلومیٹر (1770 ‏میل) اور زیادہ سے زیادہ سے چوڑائی ریاستہائے متحدہ امریکہ اور شمالی افریقہ کے درمیان ‏‏4830 کلومیٹر (3000 میل) ہے۔
بحر اوقیانوس کا ساحل کٹا پھٹا ہے اور بہت سی کھاڑیوں، خلیجوں اور سمندروں میں پھیلا ہوا ‏ہے جن میں بحیرۂ کیریبین، خلیج میکسیکو، خلیج سینٹ لارنس، بحیرۂ روم، بحیرۂ اسود، بحیرۂ ‏شمال، بحیرۂ لیبریڈور اور بحیرۂ نارویجن-گرین لینڈ شامل ہیں۔ بحر اوقیانوس میں موجود جزائر ‏میں جزائر فارو، گرین لینڈ، آئس لینڈ، راکال، جزائر برطانیہ، آئر لینڈ، فرنینڈو ڈی نورونہا، ‏ازورز، جزائر میڈیرا، کانریز، کیپ وردے، ساؤ ٹامے اور پرنسیپی، نیوفاؤنڈ لینڈ، برمودا، ‏ویسٹ انڈیز، اسینشن، سینٹ ہیلینا، ٹرینڈاڈ، مارٹن واز، ٹرسٹن ڈا کنہا، جزائر فاک لینڈ، جزیرۂ ‏جنوبی جارجیا شامل ہیں۔

ثقافتی اہمیت: ماورائے اوقیانوس کا سفر امریکا مےں مغربی تہذیب کے فروغ کا باعث بنا ہے،اس کے علاوہ شمالی امریکااوریورپ کے مابین بحرِ اوقیا نوس کے لئے The Pond (تالاب) کی اصطلاح ثقافتی اور جغرافیائی صورت اختیار کر گئی ہے،چنانچہ اکثر امریکی،یورپ خصوصاً اہلِ برطانیہ کے لئے "across The pond"(تالاب پار) کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ ثقافتی اہمیت: ماورائے اوقیانوس کا سفر امریکا میں مغربی تہذیب کے فروغ کا باعث بنا ہے،اس کے علاوہ شمالی امریکااوریورپ کے مابین بحرِ اوقیا نوس کے لئے The Pond (تالاب) کی اصطلاح ثقافتی اور جغرافیائی صورت اختیار کر گئی ہے،چنانچہ اکثر امریکی،یورپ خصوصاً اہلِ برطانیہ کے لئے "across The pond"(تالاب پار) کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔




    Current date/time is Wed Nov 21, 2018 4:36 am