Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


وہ تیس سیکنڈ (پاکستانی ایٹم بم کی ان کہی داستان)

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

وہ تیس سیکنڈ (پاکستانی ایٹم بم کی ان کہی داستان)

Post by Admin on Fri Oct 23, 2015 4:54 am

آج 28 مئی، یومِ تکبیر ہے۔ آج سے ٹھیک سولہ سال پہلے، پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کرکے برصغیر میں طاقت کا توازن برابر کردیا۔ لیکن اس کارنامے میں کئی ایسے نام بھی آتے ہیں جن سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ یہ تحریر ایسے ہی کرداروں اور واقعات کا تعارف پیش کرتی ہے۔
’’اگر ہندوستان ایٹم بم بناتا ہے تو ہم گھاس کھائیں گے، بھوکے رہ لیں گے لیکن اپنا ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔‘‘
یہ تاریخی الفاظ اس وقت کے وزیر خارجہ، جناب ذوالفقار علی بھٹو نے 1965ء میں مانچسٹر گارجیئن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہے۔ اگرچہ قیام پاکستان کے فوراً بعد دوسرے درپیش مسائل کے پیش نظر کسی کو اس طرف دھیان دینے کا موقع نہ ملا، لیکن بھارت 1954ء سے ہی ’’ہومی بھابھا‘‘ کی سربراہی میں اپنا نیوکلیائی تحقیقی پروگرام شروع کرچکا تھا۔ 1954ء میں اُس وقت کے بھارتی وزیر اعظم، مشہور زمانہ ایٹمی سائنسدان نیلز بوہر سے ملنے کوپن ہیگن بھی گئے۔
بہرحال، 1948ء میں جب قائد اعظم کی درخواست پر پروفیسر ڈاکٹر رفیع محمد چودھری پاکستان منتقل ہوئے، تو گورنمنٹ کالج لاہور میں ’’ہائی ٹینشن لیبارٹری‘‘ کی بنیاد رکھ کر انہوں نے پاکستان میں نیوکلیائی سائنس کی بنیاد رکھ دی تھی۔ یہیں سے فارغ ہونے والے، آپ کے قابل شاگردوں کی ایک بڑی تعداد نے آگے چل کر ایٹم بم بنانے میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ آپ کے براہ راست شاگردوں میں ڈاکٹر اشفاق احمد (سابق چیئرمین، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی))، پروفیسر طاہر حسین (سربراہ شعبہ طبیعیات، گورنمنٹ کالج لاہور)، ڈاکٹر این ایم بٹ (پی اے ای سی)، ڈاکٹر جی ڈی عالم (پی اے ای سی اور کے آر ایل)، ڈاکٹر احسن مبارک (پی اے ای سی)، ڈاکٹر حمید اے خان (پی اے ای سی)، ڈاکٹر انعام الرحمن (پی اے ای سی)؛ اور پھر بالواسطہ شاگرد مثلاً ڈاکٹر طاہر حسین اور ڈاکٹر اشفاق احمد کے شاگرد، جن میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند (ایٹمی دھماکہ کرنے والی ٹیم کے سربراہ)، ڈاکٹر جے اے مرزا (سابق چیئرمین کے آر ایل) اور ڈاکٹر ایم ایم بیگ (نیسکوم کے سابق رکن) شامل ہیں۔ یہ تمام لوگ وہ ہیں جو کسی تعریف کے محتاج نہیں۔
تاہم پاکستان نے ’’ایٹم برائے امن‘‘ کے پروگرام کے تحت 1955ء میں پر امن مقاصد کیلئے ایٹمی توانائی حاصل کرنے کیلئے ڈاکٹرنذیر احمدکی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی۔ کمیٹی کے مشورے پر 1956ء میں اعلیٰ اختیاراتی ’’اٹامک انرجی کونسل‘‘ قائم کی گئی جو گورننگ باڈی اور اٹامک انرجی کمیشن پر مشتمل تھی۔ ڈاکٹر نذیر احمد کو پاکستان اٹا مک انرجی کمیشن کا پہلا سربراہ مقرر کیا گیا۔ کمیشن کے مقاصد میں ایٹمی توانائی کے حصول کی منصوبہ بندی، تابکار مواد کا حصول، نیوکلیائی تحقیق سے متعلق ادارے کا قیام اور پاور ری ایکٹر (ایٹمی بجلی گھر) کی تعمیر شامل تھے۔
کمیشن کو توانائی کے حصول اور تحقیقی پروگرام میں صبرآزما مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ ملک میں تربیت یافتہ سائنسدانوں اور انجینئروں کا فقدان تھا۔ بہر حال، جب ایوب خان اقتدار میں آئے تو دسمبر 1958ء کی ایک سرد شام، ایوب کابینہ کے اجلاس میں معدنیات اور قدرتی وسائل کے وزیر، ذوالفقار علی بھٹو نے تقریر کرتے ہوئے کہا: ’’اگر دنیا میں یہودی بم ہوسکتا ہے، عیسائی بم ہوسکتا ہے، ہندو بم ہوسکتا ہے تو اسلامی بم کیوں نہیں۔‘‘
اس وقت ایوب خان نے اپنے نوجوان وزیر کی اس بات کو سنجیدگی سے نہ لیا؛ لیکن اس سے اندزہ ہوتا ہے کہ بھٹو، ہندوستان میں اس حوالے سے جاری پیش رفت سے آگاہ تھے۔ 1960ء میں ڈاکٹر عشرت حسین عثمانی (ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی) کو پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کا چیئرمین، اور پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام (واحد نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنسدان)کو صدر کا مشیر برائے سائنسی امور مقرر کیا گیا۔ ان دونوں صاحبانِ علم و دانش نے مل کر اس راستے میں حائل مشکلات دور کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔
آئی ایچ عثمانی نے ’’پنسٹیک‘‘ (پاکستان انسٹیٹیوٹ فار نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی) کی بنیاد رکھی جہاں امریکہ سے ’’ایٹم برائے امن‘‘ پروگرام کے تحت ملنے والا، پانچ میگاواٹ کا تحقیقی ری ایکٹر نصب کیا گیا۔ ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے ڈاکٹر عبدالسلام کے ساتھ مل کر نیوکلیائی سائنس اورانجینئرنگ میں افرادی قوت تیار کرنے کا جامع منصوبہ بنایا۔ چنانچہ 1960ء سے 1976ء کے دوران تقریباً چھ سو ذہین پاکستانی طالب علموں کو منتخب کرکے بیرون ملک تربیت کیلئے بھیجا گیا۔ عشرہ 1960ء کے اواخر میں ان کی اکثریت جب نیوکلیائی سائنس میں پی ایچ ڈی کی ڈگریوں اور عملی تربیت سے لیس ہوکر وطن واپس آئی تو اس میدان میں پاکستان کے پاس قابل افراد کی کوئی کمی نہ رہی۔
1963ء میں ذوالفقار علی بھٹو وزیر خارجہ بن گئے۔ اکتوبر 1965ء میں بھٹو صاحب کی ملاقات، ویانا میں منیر احمد خان سے ہوئی۔ منیراحمد خان اُس وقت عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ری ایکٹر ڈویژن میں سینئر افسر کی حیثیت سے کام کررہے تھے۔ منیر اے خان نے بھٹو صاحب پر زور ڈالا کہ پاکستان کوایٹم بم بنانے کیلئے سنجیدگی سے سوچنا چاہئے۔
دسمبر 1965ء میں، جب ایوب خان لندن کے دورے پر تھے، تو بھٹو صاحب نے منیر احمد خان کے ساتھ صدر کی ایک ملاقات کا اہتمام کیا۔ منیر احمد خان نے صدر کو اس پر قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی کہ اب پاکستان کواپنے دفاع کیلئے ایٹم بم بنانا چاہئے․․․ مگر وہ ناکام رہے۔ تب بھٹو صاحب نے منیر احمد خان کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا ’’آپ پریشان نہ ہوں، ہماری باری بھی آئے گی۔‘‘
20 دسمبر 1971ء کو جب ذوالفقار علی بھٹو نے ٹوٹے پھوٹے پاکستان کا اقتدار سنبھالا، تو گویا انہیں اپنا یہ عہد پورا کرنے کا موقعہ بھی مل گیا۔ انہوں نے 9 فروری 1972ء کے روز نامور پاکستانی ایٹمی سائنسدانوں کا ایک اجلاس، ملتان میں منعقد کیا۔ منیر احمد خان کو ویانا سے بلا کر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کا نیا چیئرمین مقرر کرتے ہوئے، بھٹو صاحب نے سائنس دانوں کو یہ ہدف دیا کہ انہیں جلد سے جلد ایٹم بم چاہئے۔
عہدہ سنبھالنے کے دو مہینے کے اندر اندر ہی منیر احمد خان نے ایٹم بم بنانے کا ایک تفصیلی منصوبہ، تحریری طور پر بھٹو صاحب کے سامنے پیش کردیا۔ اس منصوبے میں کئی ایک نئی تجربہ گاہوں اور تحقیقی اداروں کے قیام کی تجویز دی گئی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ کینیڈا اور فرانس سے نیوکلیئر پروسیسنگ پلانٹ خریدنے کے معاہدے بھی کئے گئے۔ شومئی قسمت کہ جب پلانٹ کی تنصیب کا وقت آیا، تو مئی 1974ء میں ہندوستان نے ’’مسکراتا بدھا‘‘ (Buddha Smiles) کے نام سے، پوکھران (راجستھان) میں ایٹمی دھماکے کردیئے۔
جواباً پاکستان نے بھی ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر پابندی سے متعلق بین الاقوامی معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط کرنے سے انکار کردیا، جس کی وجہ سے یہ معاہدہ بھی منسوخ ہوگیا۔
(یوں لگتا ہے جیسے ہندوستانی حکومت نے اپنے اوّلین ایٹمی دھماکوں کو گوتم بدھ سے منسوب کرکے بدھ ازم کا مذاق اُڑایا تھا؛ کیونکہ بدھ مت کی تعلیمات میں عدم تشدد اور امن کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔)
ہندوستان کے ایٹمی دھماکوں کے فوراً بعد پاکستان کی سلامتی کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے ضروری تھا کہ پاکستان کے پاس بھی اپنے دفاع کیلئے ایٹم بم ہو۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کی وجہ سے قوم کے حوصلے بھی پست تھے۔ اور قوم کا حوصلہ بلند کیلئے ضروری تھا کہ جلد از جلد کوئی خوشخبری سنائی جاتی۔ چنانچہ ایٹمی پروگرام پر کام کی رفتار تیز کردی گئی۔
فروری 1975ء میں منیر احمد خان نے ذوالفقار علی بھٹو سے ایک منصوبے کے تحت 450 ملین ڈالر (45 کروڑ ڈالر) منظور کروائے۔ اس منصوبے کے تحت پلوٹونیم اور یورینیم کی کھدائی اور کان کنی کا ایک پلانٹ؛ اور ڈیرہ غازی خان میں یورینیم کچدھات کو یورینیم ہیگزا فلورائیڈ (UF-6) گیس میں تبدیل کرنے کا ایک پلانٹ لگایا گیا۔ (یورینیم ہیگزا فلورائیڈ گیس کو بعد ازاں یورینیم کی افزودگی میں استعمال کیا جاتا ہے۔) اکتوبر 1974ء میں ’’کہوٹہ پروجیکٹ‘‘ کے نام سے سینٹری فیوج تکنیک کے ذریعے یورینیم افزودگی کیلئے سائنسدانوں کا ایک گروپ تشکیل دیا گیا؛ جس کی سربراہی سلطان بشیر الدین محمود کو سونپی گئی۔
چکلالہ ایئربیس کے نزدیک، دوسری جنگ عظیم کے دوران بنائی گئی فوجی بیرکوں میں، جو تب تک خستہ حال ہوچکی تھیں ’’ایئرپورٹ ڈیویلپمنٹ ورک شاپ‘‘ کے نام سے کام کا آغاز کیا گیا۔ بقول سلطان بشیر الدین محمود، شروع میں عمارتیں بنانے سے زیادہ توجہ کام کو سر انجام دینے اور اسے خفیہ رکھنے پر دی گئی۔
جولائی 1976ء میں جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اس منصوبے کی سربراہی دی گئی تو اُس وقت تک سینٹری فیوج مشین کا ڈیزائن اور پروسیس پلانٹ کا کام مکمل ہوچکا تھا۔ شروع میں پلوٹونیم سے بم بنانے کا منصوبہ تھا، لیکن 1974ء میں ایک نیا واقعہ رونما ہوگیا۔
پاکستانی نژاد سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو، جو بنیادی طور پر دھات کاری کے ایک ماہر (میٹالرجسٹ) تھے، 1972ء میں ’’فزیکل ڈائنامکس ریسرچ لیبارٹری‘‘ (ایف ڈی او)، ایمسٹرڈیم میں ملازمت ملی۔ یہ کمپنی ’’یورینکو‘‘ نامی یورینیم افزودگی پلانٹ کیلئے سینٹری فیوج مشینیں بنانے کا کام کرتی تھی۔ یہاں ابتداء میں خان صاحب کو دو سینٹری فیوج مشینوں ’’CNOR‘‘ اور ’’SNOR‘‘ پر کام کرنے کام موقع ملا۔ جلد ہی خان صاحب نے یہاں اپنا اعتماد قائم کرلیا۔ کئی دوسری زبانوں میں مہارت کے باعث خان صاحب کو متعدد خفیہ دستاویزات ترجمہ کرنے کا موقع بھی ملا۔ ڈاکٹر خان وہاں کام کے دوران اپنے نوٹس بھی تیار کرتے رہتے۔ ستمبر 1974ء میں ڈاکٹر خان نے بھٹو صاحب کا خط لکھ کر اپنی خدمات پاکستان کیلئے پیش کیں۔
جنوری 1976ء میں ڈاکٹر خان نے پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن میں شمولیت اختیار کرلی۔ شروع میں انہیں کہوٹہ پروجیکٹ میں ریسرچ ڈائریکٹر کی ملازمت ملی۔ تاہم، جلدی ہی انہیں یہاں کام کرنے کے انداز اور صورتحال سے اختلاف ہونے لگا۔ اس پر بھٹو صاحب نے اس گروپ کو اٹامک انرجی کمیشن سے الگ کرکے ایک خودمختار ادارہ بنانے کی منظوری دے دی؛ جس کی سربراہی خان صاحب کو سونپی گئی۔
یوں ’’پروجیکٹ 706‘‘ کے خفیہ نام سے 31 جولائی 1976ء کو اسلام آباد سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر، کہوٹہ کے مقام پر ’’انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز‘‘ (ای آر ایل) کے قیام کا آغاز ہوا۔
کہوٹہ پروجیکٹ میں کام کرنے والے قابل ترین سائنسدانوں کی ایک ٹیم کی خدمات — جس میں جی ڈی عالم، جے اے مرزا اور انور علی شامل تھے — ای آر ایل منتقل کردی گئیں۔ 1976ء کی آخری ششماہی میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی کیفیت یہ تھی کہ بھٹو صاحب کے زیر نگرانی دو متوازی راستوں پر ایٹم بم تیار کرنے کی جدوجہد شروع ہوچکی تھی: ایک طرف ری پروسیسنگ پلانٹ کیلئے سفارتی محاذ پر جنگ لڑی جارہی تھی تو دوسری جانب سہالہ میں یورینیم انرچمنٹ پلانٹ پر نہایت تیز رفتاری سے کام شروع ہوچکا تھا۔

    Current date/time is Wed Oct 24, 2018 3:45 am