دوستو مرزا صاحب نے 8 اپریل 1905 کو ایک اشتہار شائع کیا اس میں لکھا کہ (آج رات تین بجے کے قریب خدا کی پاک وحی مجھ پر نازل ہوئی جو ذیل میں لکھی جاتی ہے - تازہ نشان کا دھکا - زلزلة الساعه ... مخلوق کو اس نشان کا ایک دھکا لگے گا وہ قیامت کا زلزلہ ہوگا) "مجموعہ اشتهارات جلد 3 صفحہ 522 "۔

مرزا صاحب کو اس زلزلہ کی اتنی خوشی تھی کہ 18 اپریل 1905 کو ایک اور اشتهار جاری کیا اس میں لکھا کہ (النداء من وحى السماء یعنی ایک زلزلہ عظیمہ کی نسبت پیش گوئی بار دوم وحی الہی سے، اس میں لکھا کہ (9 اپریل 1905 کو پھر خدا تعالى نے مجھے ایک سخت زلزلہ کی خبر دی ہے جو نمونہ قیامت اور ہوش ربا ہوگا) آگے لکھا کہ (میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ زلزلہ عظيم الشان حادثہ ہوگا جو محشر کو یاد دلادےگا ) "مجموعه اشتهارات جلد 3 صفحات 525 - 526 "۔

مرزا صاحب کو اس پر بھی چین نہ آیا 29 اپریل 1905 کو پھر تیسری بار زلزلہ کے بارے میں اشتهار شائع کیا ، اسمیں بھی سخت تباہی کی خبر دی اور لکھا کہ (خدا نے اسکا نام بار بار زلزلہ رکھ دیا ہے) "مجموعه اشتهارات جلد 3 صفحہ 535 ).
مرزا صاحب نے زلزلہ آنے کی خوشی میں اپنا گھر چھوڑ دیا اور ایک باغ میں جاکر خیمے لگا دیےاور اپنے مریدوں سے بھی کہا کہ وہ بھی کچھ دنوں کے لئے یہاں خیمے لگا لیں (ايضا صفحہ 540۔

مگر افسوس کے زلزلہ نہیں آیا اور مرزا صاحب دھکے پے دھکا کھاتے رہے ، یہ دھکا ایسا تھا کہ کچھ عرصے کیلیۓ مرزا
صاحب نے زلزلہ کا اشتهار دینا بھی بند کر دیا اور اسکا نام لینے سے انکی جان نکلنے لگی ، دس گیارہ مہینے خیریت سے گزر گۓ ،
نہ کوئی زلزلہ آیا نہ کوئی اشتهار شائع ہوا اور لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔

ابھی لوگوں کے اس سکھ پر چند ہی دن گزرے تھے کہ مرزا صاحب نے پھر 2 مارچ 1906 کو ایک اشتهار شائع کر کیا اور اسمیں اپنی یہ وحی بیان کی (آج یکم مارچ کو صبح کے وقت پھر خدا نے یہ وحی میرے پر نازل کی جسکے یہ الفاظ ہیں زلزلہ آنے کو ہے اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ وہ زلزلہ جو قیامت کا نمونہ ہے وہ ابھی نہیں آیا بلکہ آنے کو ہے (مجموعه اشتهارات جلد 3 صفحہ 548۔

مرزا صاحب کے مسلسل اشتهارات سے انکے مخالفین پر تو کیا اثر ہوتا خود قادیانیوں میں چھ میگوئیاں ہونے لگیں کے اگر واقعی کسی زلزلے نے آنا ہے اور اس زلزلے نے مرزا صاحب کی سچائی کا نشان بننا ہے تو وہ آتا کیوں نہیں ؟ کیا یہ زلزلہ مرزا صاحب کی زندگی
میں آ جاۓ گا ؟ اگر نہیں آیا تو مرزا صاحب کے بارے میں کیا راۓ قائم کی جاۓ گی ؟
مرزا صاحب کو جب اپنے مریدوں کے یہ سوالات پہنچے تو انہوں نے کہا فکر نہ کرو زلزلہ میری زندگی میں ہی آے گا ، مرزا صاحب ان دنوں "ضميمه براهين احمديه" لکھ رہے تھے اس میں انہوں نے لکھا (اب ذرا کان کھول کر سن لو کہ آیندہ زلزلہ کی نسبت جو میری پیش گوئی ہے اسکو ایسا خیال کرنا کہ اسکے ظہور کی کوئی بھی حد مقرر نہیں کی گئی یہ خیال سراسر غلط ہے کیونکہ بار بار وحی الہی نے مجھے اطلاع دی ہے کہ وہ پیش گوئی میری زندگی میں اور میرے ہی ملک میں اور میرے ہی فائدہ کیلیۓ ظہور میں آئیگی)
"ضميه براهين احمديه حصه پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 258 "۔

اور اسی کتاب "ضميمه براهين احمديه" کے صفحہ 253 پر مرزا صاحب نے صاف صاف الفاظ میں یہ بھی لکھ دیا کہ (آیندہ زلزلہ کی نسبت جو پیش گوئی کی گئی ہے وہ کوئی معمولی پیش گوئی نہیں اگر وہ آخر کو معمولی بات نکلی یا میری زندگی میں اسکا ظہور نہ ہوا تو میں خدا کی طرف سے نہیں )
دوستو مرزا صاحب نے صاف صاف لکھ دیا کہ یہ زلزلہ اگر انکی زندگی میں نہ آیا تو مرزا صاحب خدا کی کی طرف سے نہیں۔

آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ مرزا صاحب نے اپنی کتاب " براهين احمديه حصہ پنجم" 1905 میں لکھنی شروع کی اور اسکا "ضمیمہ" اسکے بعد لکھا یہ کتاب 15 اکتوبر 1908 (یعنی مرزا صاحب کے فوت ہونے کے تقریباً پانچ مہینے کے بعد) شائع ہوئی ، اب میں تمام احمدی قادیانی حضرات سے سوال کرتا ہوں کہ کیا براهين احمديه حصه پنجم کی یہ عبارت لکھنے کے بعد مرزا صاحب کی زندگی میں کوئی زلزلہ آیا تھا؟؟ اگر نہیں آیا تھا اور یقیناً نہیں آیا تھا تو آپ ہی بتائیں کہ مرزا صاحب پر آنے والی زلزلہ کی بار بار وحی شیطانی نہیں تو اور کیا تھی؟
اگر یہ وحی الله کی طرف سے ہوتی تو ضرور پوری ہوتی ..
میں قادیانیوں سے ایک بار پھر دست بستہ عرض کرتا ہوں کہ وہ مرزا صاحب کی اس عبارت کو پھر غور سے پڑھیں (آئندہ زلزلہ کی نسبت جو پیش گوئی کی گئی ہے وہ کوئی معمولی پیش گوئی نہیں اگر وہ آخر کو معمولی بات نکلی یا میری زندگی میں اسکا ظہور نہ ہوا تو میں خدا کی طرف سے نہیں) ...ضميمه براهين احمديه میں یہ بات لکھنے کے بات مرزا صاحب کی زندگی میں کوئی زلزلہ نہیں آیا اور مرزا صاحب بقلم خود جھوٹے ٹھہرے اور انہوں نے خود فیصلہ دے دیا کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں۔