Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا دن

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا دن

Post by Admin on Mon Jun 15, 2015 7:52 am

اب تو یوم دفاع اور یوم فضائیہ اکٹھا ہی منالیا جاتا ہے، لیکن ایک زمانے میں یوم فضائیہ 7ستمبر کو منایا جاتا تھا۔ جنگ ستمبر میں فضائیہ نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا اور دفاع وطن میں اُن کا حصہ بہت زیادہ ہے۔ اس اہم یوم کے ساتھ ہی7ستمبر کا دن ہمارے دینی عقائد کے حوالے سے بھی بہت ہی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ آج سے38سال قبل اسی روز پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا اور اس کے لئے آئینی ترمیم کی گئی۔ یہ پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کا دور وزارت تھا جنہوں نے دینی قائدین اور عوام کے مطالبے پر عقیدہ ¿ ختم نبوت کے حوالے سے کئی روز تک بحث کرائی اور قادیانیوں کو بھی اُن کے دفاع کا موقع دیا گیا جو وہ نہ کر سکے۔ چنانچہ اسمبلی نے1974ءکے سال میں7ستمبرکو آئین میں ترمیم کر کے قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا اور ختم نبوت پر عقیدہ لازم قرار دیا گیا اب شناختی کارڈ اور پاسپورٹ تک کے حصول کے لئے مسلمان کو یہ حلف دینا ہوتا ہے کہ وہ حضور نبی اکرمﷺ کو پیغمبر آخر الزمان مانتے ہیں۔ مرزائیوں، قادیانیوں کو اقلیت قرار دلانے کی ترمیم کا سہرا جہاںوزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے سر بندھا وہاں دینی رہنماﺅں اور مسلمانان پاکستان کی قربانیوں کو بھی نہیںبھلایا جا سکتا۔ اس عقیدے کے تحفظ کے لئے نوجوانوں نے سینے پر کلمہ طیبہ لکھ کر گولیاں کھائیں اور جام شہادت نوش کیا۔ 1953ءکی تحریک ختم نبوت کو بھی نہیں بھلایا جا سکتا جب لاہور میں جزوی مارشل لاءبھی لگایا دیا گیا تھا۔



اس سلسلے میں اب ایک کتاب بھی منظر عام پر آئی ہے۔ ”سیف چشتیائی“ کے نام سے شائع ہونے والی یہ کتاب گولڑہ شریف کے پیر مہر علی شاہ کے دلائل پر مبنی ہے اور ثقہ علماءکرام اور دینی حلقوں کی رائے ہے کہ پیر مہر علی شاہ کے دلائل قطعی ہیںاور یہ بہت ہی معتبر کتاب ہے۔ اس سلسلے میں1900ءکا واقعہ بھی بتایا جاتا ہے جس کے مطابق اس وقت کی ریاست بہاولپور میں ایک مسلمان خاتون نے عدالت میں خلع کے لئے دعویٰ دائر کیا اور درخواست کی کہ اس کو اس کے شوہر سے خلع دلایا جائے کہ وہ خود مسلمان ہے لیکن اس کا شوہر مرزائی ہو گیا ہے اور مرزائی چونکہ مسلمان نہیں اس لئے اس(خاتون) کا نکاخ خود بخود فسخ ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں بات پھیلی تو پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف سے چل کر بہاولپور پہنچے اور مرزائیوں کے غیر مسلم ہونے کے بارے میں دلائل دیئے اور پھر یہ اعزاز پیر مہر علی شاہ اور اس مسلمان خاتون کو حاصل ہوا کہ عدالت نے دلائل سے اتفاق کیا۔ عورت کو خلع دے کر قرار دیا کہ مرزائی مسلمان نہیں اس لئے کسی مسلمان عورت کا اس کے نکاح میں رہنا بھی جائز نہیں۔ برصغیر میں اس فیصلے کو پہلا فیصلہ کہا جا سکتا ہے۔



پیر مہر علی شاہ نے دلائل دیئے، کامیابی حاصل کی، ان کے علاوہ دوسرے علماءکرام اور مشائخ عظام بھی جدوجہد کرتے رہے خصوصاً مجلس احرار اسلام نے نمایاں کام کیا اور باقاعدہ ختم نبوت کے حوالے سے انجمن تحفظ ختم نبوت بنا کر جدوجہد کی۔ پھر یہی انجمن آل پاکستان مجلس تحفظ ختم میں تبدیل ہوئی۔ علامہ سید ابو الحسنات اس کے پہلے متفقہ صدر ہوئے۔ یوں تمام مکاتب فکرنے علامہ ابو الحسنات اور مولانا عطاءاللہ شاہ بخاری جیسے جید علماءکرام کی قیادت میں طویل جدوجہد کی۔ اسی کے نتیجے میں1953ءمیں جزوی مارشل لاءلگا۔ مولانا مودودی، علامہ ابو الحسنات، مولانا عبدالستار نیازی، امین الحسنات، سید خلیل احمد قادری اور دیگر رہنمایان دین کو گرفتار کیا گیا۔ موت کی سزاﺅںکا حکم سنایا گیا، ان بزرگوں کے استقلال میں رتی بھر فرق نہیں آیا اور ان کی ثابت قدمی نے بھی مزید راہ ہموار کی۔ یہ سفر جو بہاولپور کی ایک عدالت میں پیر مہر علی شاہ کے دلائل اور مجسٹریٹ کے فیصلے سے شروع ہوا تھا 1974ءمیں مکمل ہوا۔



اس قومی اسمبلی میں جو1970ءکے عام انتخابات کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی۔ اگرچہ یہ انتخابات پورے ملک میں ہوئے، لیکن بدقسمتی سے اس پوری اسمبلی کا ایک بھی اجلاس منعقد نہ ہو سکا۔ ملک کے دو ملک بن گئے اور سابقہ مغربی پاکستان نیا پاکستان بنا، جس کی اسمبلی 1970ءوالے انتخابات میں منتخب ہونے والے اراکین پر مشتمل تھی اور پہلے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو تھے جو ابتدا میں عبوری دور کے لئے صدر بنے اور پھر 1973ءمیں متفقہ طور پر آئین منظور کرا کے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا۔ اس اسمبلی میں مولانا مفتی محمود اور مولانا شاہ احمد نورانی جیسے بھاری بھر کم علماءموجود تھے تو میاں محمود علی قصوری جیسے بڑے وکیل بھی تھے۔ ان حضرات نے تو1973ءکے آئین کی تدوین اور منظوری کے وقت بھی کوشش کی کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دلایا جائے لیکن حالات کی مجبوری نے یہ کام اس وقت نہ ہونے دیا تاہم1974ءمیں وہ وقت آ گیا جب ذوالفقار علی بھٹو مان گئے تاہم انہوں نے بہت ہی جمہوری طرز عمل اختیار کیا اور قومی اسمبلی میں باقاعدہ بحث کرائی گئی۔ ہمیں اتنا یاد ہے کہ غالباً اس وقت کے قادیانی خلیفہ کو بھی ایوان میں دلائل دینے کا موقع دیا گیا تھا۔ بہرحال قریباً پانچ روز کی بحث کے بعد قومی اسمبلی نے یہ ترمیم منظور کر لی اور قادیانیت کو غیر مسلم عقیدہ قرار دیتے ہوئے قادیانیوں کو اقلیت قرار دے دیا گیا۔ آج7ستمبر کا دن اس یادگار دن کا عکس ہے جب ذوالفقار علی بھٹو کو یہ سعادت نصیب ہوئی اور آج بھی بھٹو کے شدید ترین مخالف اُن کو اس کا کریڈٹ ضرور دیتے ہیں۔



ہمارے دوست اور ان سے بھی زیادہ محبت کرنے والے احسن ضیاء(مرحوم) کے بھائی ضیاءکھوکھر نے ہمیں اس حوالے سے چند ماہ پہلے گولڑہ شریف میں ہونے والی ختم نبوت کانفرنس کا واقعہ سنایا، وہ کہتے ہیں، گولڑہ شریف میں ہر سال ختم نبوت کانفرنس منعقد کی جاتی ہے، جو عرس کے موقع پر ہوتی ہے۔ گزشتہ کانفرنس کے وقت سید یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے اور ان کو مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو کیا گیا۔ اس موقع پر سید یوسف رضاگیلانی نے خوبصورت بات کی اور کہا قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے جمہوریت کا سفر شروع کیا تھا۔ پیر مہر علی شاہ نے1900ءمیں دینی عقائد کے تحفظ کا سفر شروع کیا اور یہ سفر74سال بعد مکمل ہوا اور سعادت ذوالفقار علی بھٹو کو ملی کہ ان کے دور میں ان کی قیادت میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا گیا اور 1973ءکے آئین میں1974ءمیں ترمیم ہوئی۔



قارئین یہ7ستمبر1974ءکا دن تھا ہماری دینی تنظیمیں اپنے رہنماﺅں اور زعماءکرام کی جدوجہد کو یاد کر رہی ہیں۔ فضائیہ1965ءکی جنگ میں اپنے جوانوں کی کارکردگی پر خراج تحسین وعقیدت پیش کر رہی ہے۔ بہرحال اس روز ذوالفقار علی بھٹو کو بھی یاد رکھئے اور اُن کی مغفرت کے لئے بھی دُعا کیجئے کہ اُن کے دور اور اُن کی قیادت اور رضا مندی سے تحریک ختم نبوت کامیاب ہوئی اور آج کے روز آئینی ترمیم منظور ہو گئی۔ ٭


    Current date/time is Wed Jun 20, 2018 10:05 pm