Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


سکھ مت، ہندومت اور اسلام: ایک تقابلی مطالعہ

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

سکھ مت، ہندومت اور اسلام: ایک تقابلی مطالعہ

Post by Admin on Thu Jun 04, 2015 10:56 am

گرنتھ صاحب جو سکھوں کی مقدس کتاب اور گرو کی حیثیت سے تسلیم کی جاتی ہے اس کے افکار و نظریات کیا ہیں؟ گرنتھ جو مختلف گرووٴں کے مجموعہ کا کلام ہے کس حد تک تحریف سے محفوظ رہا ہے؟ آےئے !اس حقیقت کو براہ راست گرنتھ صاحب سے جانے۔

گرنتھ صاحب کی تربیت نہ مضمون وار ہے نہ گرو وار، نہ زمان و مکان کے لحاظ سے بلکہ صرف راگوں کے اعتبار سے ہے۔ ایک راگ کی دھن پر جتنا کلام ہے وہ اس کے تحت اکھٹا کر دیا گیا ہے۔ ( انگریزی ترجمہ ج1، دیباچہ ص17)

گروگرنتھ منظوم کلام پر مشتمل ہے اس میں سکھوں کے چھ گرو صاحبان کا کلام درج ہے۔ گرونانک،گروانگر، گرو امرداس، گرو رام داس، گروارجن اور نویں گرو تیغ بہادر۔ سکھ وِدوان اس امرکو تسلیم کرتے ہیں کہ موجودہ گرو گرنتھ کی تالیف کی ابتداء سکھوں کے پانچویں گرو ارجن نے کی تھی۔ لیکن اس کے مرتب ہونے کے زمانے سے متعلق سکھ ود وانوں میں کافی اختلاف ہے۔

مشہور سکھ مورخ گیانی گیان سنگھ جی کے نزدیک ارجن نے 1616 بکرمی میں مرتب کروایا ) تاریخ گرو خالصہ 481) اور گیانی لال سنگھ کے نزدیک 1660 سے1661بکرمی تک مرتب کروایا تھا (تواریخ گرو خالصہ پنتھ داس) جبکہ سردار جی جی سنگھ کی تحقیق کے مطابق گرو گرنتھ 1648 بکرمی میں مرتب ہوا (پیرا چین بیڑاں 148) ۔

ان حوالوں سے واضح ہوتا ہے کہ اس کے مرتب ہونے کے زمانے کے متعلق اختلافات پایا جاتا ہے۔ گرو ارجن سے قبل گرو بانی کی ناگفتہ حالت کو سکھ ودوان تسلیم کرتے ہیں کہ دوسرے لوگوں نے بابا جی کے نام پر کئی شبدبنا دےئے تھے۔ اس کی اصل وجہ ہے کہ نانک کی وفات کے بعد ان کے نام لیوا کہلانے والے ان کے عقائد وخیالات سے دور چلے گئے تھے۔ چنانچہ اس سلسلے میں سردار جی جی سنگھ نے نہایت ہی واضح الفاظ میں یہ حقیقت تسلیم کی ہے کہ گرو ارجن کے زمانے تک سکھوں کے عقائد میں بہت تبدیلی آچکی تھی اور سکھوں نے بابا جی کے عقائدپسِ پشت ڈال کرخود ان کوخدا قرار دینا شروع کیا تھا۔ (پنجابی ساہت جون 1945 مئی 1946) خود گروارجن نے اور ان کے ساتھی بھائی گرو داس جی نے نمایاں حصہ لیا تھا چنانچہ ارجن نے نانک کے عقیدے کے بر خلاف یہ کہنا شروع کیا کہ ”گرونانک ہر سوئے" (گرنتھ ۔ راگ گونڈ محلہ 5 / 865) یعنی نانک ہی خدا ہیں۔ حالانکہ نانک نے اپنے بارے میں صاف صاف کہا تھا کہ ”ہم آدمی ہاں اکی ادمی مہلت مہت نہ جانا“ (گرنتھ راگ دھنا سری محلہ1/ 660) پس اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ گروارجن کے زمانے میں سکھوں کے عقائد بہت حد تک تبدیل ہوچکے تھے۔ اس تبدیلی کا اثر نانک کے کلام پر پڑنا قدرتی امر تھا۔

ارجن کے ذریعے مرتب ہونے کے بعد بھی اس تحریف کا سلسلہ ختم نہ ہوا چنانچہ اس وقت تک جتنے بھی گرنتھ کے قلمی نسخے پائے جاتے ہیں۔ نسخے بھی آپس میں نہیں ملتے۔ کسی میں کوئی شبد کم یا کوئی زیادہ۔ کسی میں کوئی شبد ایک گرو کے نام سے اور کسی میں وہی شبد کسی دوسرے کی طرف۔ یہ تمام گڑبڑ گرنتھ کے نقل نویسوں کی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک ودوان کا کہنا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے نقل نویس گرنتھ صاحب کو محض بانی کا ایک مجموعہ خیال کرتے تھے۔ شبدوں کی ترتیب میں رد و بدل کرنا کوئی عیب نہیں سمجھتے تھے۔ (پراچین بیڑاہ)

گرنتھ صاحب کے راویوں کی بھی کچھ مشکوک ہے۔ گرو ارجن نے اور بھی کچھ مختلف لوگوں سے بانیاں جمع کی اور جس شبد کو مناسب جانا اسے گرنتھ میں درج کروایا۔ لیکن کس فرد سے کون سے شبد حاصل کئے گئے؟ اور وہ شبد اس تک کیونکر پہنچے؟ ان تمام باتوں کا نہ تو گرنتھ صاحب سے کوئی پتہ چلتا ہے نہ کوئی دوسری جگہ اس امور پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ غرض گرو گرنتھ صاحب میں درج شدہ کلام کی صحت خود سکھ ودوانوں کے نزدیک مشکوک ہے (پراچین بیڑاہ 418)

گرنتھ صاحب میں سکھ گرو کے علاوہ اور لوگوں کا کلام بھی شامل ہے جسے عام طور پر بھگت بانی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ مسلمان صوفیہ سے گرونانک کی ملاقاتیں و طویل گفتگو خود گرنتھ صاحب و جنم ساکھیوں سے ثابت ہیں۔ نہ صرف گرنتھ صاحب کی زبان و خیالات پر تصوف کا گہرا اثر ہے بلکہمشہور صوفی بابا فرید کا کلام، گرنتھ صاحب کی بھگت بانی کا جزء ہے۔ (ملاحظہ ہو: ہندوستانی تہذیب پر اسلام کا اثر۔ ص 169)

اب سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا گرنتھ میں درج شدہ بھگت بانی ان بھگتوں کی اپنی بیان کردہ ہے؟ اس بارے میں الگ الگ خیالات ہیں۔ مثال کے طور پر یہاں دو بانی کو لے لیجئے ایک فرید کی بانی اور دوسی نام دیو کی بانی۔ فرید کی بانی کو اگر لیا جائے تو سب سے پہلے یہ فرید کون تھے؟ بعض کا خیال ہے کہ یہ فرید باوا شکر گنج تھے(شبارتھ گرنتھ 489) اور (پراچین بیڑاں439)

اس کے علاوہ بعض کا خیال ہے کہ فرید کے نام پر شیخ ابراہیم (برہم) کی ہے (مہان کوش 2429، میکالف اتہاس II، نانک پرکاش مسمیاوت 1038)

اب رہی نام دیو کی بانی۔ نام دیو بھگت مہاراشٹر میں گزرے ان کی اصل بانی مراٹھی زبان میں تھی۔ ایک سکھ ودوان کا خیال ہے کہ جتنے ابھنگ نام دیو کے ظاہر کئے جاتے ہیں وہ ان کے نہیں ہیں (پراچین بیڑاں)

الغرض نام دیو کی بانی بھی اپنی اصل حالت میں ارجن تک نہیں ملی۔ گرنتھ صاحب میں نام دیو بانی ان کی اپنی تصنیف کردہ نہیں ہے بلکہ ترجمہ کی شکل میں ہے۔ (ستگور بنا مہور کچی 89)

تو یہ بھگت بانی کی صحت کا حال۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھگت بانی ارجن نے کیونکر حاصل کی؟ اس بارے میں بھی متضاد خیالات ہیں:

(۱) یہ بھگت بانی موہن جی کی پوتھی میں موجود تھی وہاں سے درج کیا تھا (تواریخ گرو خالصہ 776 پراچین بیڑاں 39)

(2) سکھ کتب میں ہے کہ یہ بھگت بانی ارجن نے بھگتوں کے عقیدت مندوں سے زبانی سن کر درج کروائی تھی (میکالف اتہاسI/ ص 20)

(3) سکھوں کا ایک طبقہ ایسا ہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ یہ ارجن نے نہیں درج کی ہے بلکہ ان کی وفات کے بعد ان کے دشمنوں نے (پرتھی چنو) نے ان کی منشا کے خلاف درج کرائی تھی (گروداس درشن 98 دستگور بناں ہور کچی 33۔ رسالہ پنجابی دنیا جولائی 1950)

مشہور سکھ مصنف گیانی گیان سنگھ نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ گرو ارجن نے بھگت بانی میں کئی جگہ تبدیلیاں کی ہیں۔ (تواریخ گرو خالصہ چھاپہ پتھر 205۔ رسالہ سنت سپاہی اپریل 1952 )

جن بھگتوں کا کلام گرنتھ میں درج ہے ان کی تعداد اور ان کے بیان کردہ عقائد و خیالات کے بارے میں سکھ ودوانوں میں اختلاف ہے۔ بعض ودوان اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ بھگت بانی میں بیان کردہ عقائد و خیالات سکھ گروصاحبان کے بیان کردہ کلام سے مختلف ہے۔ (گرومت فلاسفی 454، گرو مت سدھانت76) اور اس کے برعکس کے نزدیک بھگتوں کے بیان کردہ بانی سکھ گرو کے عقائد کے عین مطابق ہے۔ (بھگت بانی مترجم 7)

ذیل میں چند ایک ایسے شبد بھگت بانی میں پیش کر رہے ہیں۔ جن سے اس امر کی وضاحت ہوتی ہے کہ بھگت بانی میں تضاد پایا جاتا ہے۔ اس کے لئے ملاحظہ کیجئے (گروگرنتھ راگ مالی گوڑا 988) اس بھگت بانی میں کچھ ایسے شبد ہیں جو اوتار پوجا کی تائید کرتے ہیں اور جن میں رام و کرشن کو خدا کا درجہ دیا گیا ہے اور اس کے برعکس بھگت بانی میں ایسے شبد بھی موجود ہیں جن میں رام و کرشن کی الوہیت کو رد کیا گیا ہے۔ (گرنتھ راگ گوڑی کبیر 338۔ راگ گونڈ نامدیو 875)

گرنتھ میں گرو اور بھگتوں کے کلام کے علاوہ بھاٹوں کا کلام بھی ہے۔ جو گرنتھ صاحب کے آخر میں شامل ہے۔ یہ بھاٹ کون تھے؟ اس میں شدید اختلاف ہے۔ اکثر سکھ مصنفین کا خیال ہے کہ یہ ویدوں کے اوتار تھے۔ مشہورسکھ بزرگ بھائی گرو داس جی نے انہیں بھکاریوں میں شامل کیا ہے۔ (وارہ بھائی گروداس، وارہ 15 پوڑی 6) ایک خیال یہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ گروصاحبان کے خاندانی بھاٹ تھے جو ان کی خوشی کے تقاریب میں مدح سرائی کیا کرتے تھے۔ (پراچین بیڑاں ص43) ان بھاٹوں کی تعداد 12,14,17 اور 11 بتائی گئی ہے۔ بھاٹوں کی بانی میں بیان کردہ مضمون سکھ گرو صاحبان کی مدح سرائی ہے جن میں انہوں نے بے حد مبالغے سے کام لیا ہے۔ ایک سکھ ودوان کا کہنا ہے کہ بھاٹوں کے بیان کردہ سوئیے (کلام) کا سدھانت بہت ادنیٰ ہے۔ اور سکھ مذہب کے خلاف ہے۔ اور بھاٹوں کی کوئی تاریخ نہیں ملتی۔(ست گرو بناں ہور کچی 250)

گرنتھ صاحب کے مطالعہ میں جہاں بھاٹوں کے کلام میں شرک کی تعلیم پائی جاتی ہے اور بھگت بانیوں میں متضاد باتیں ملتی ہیں۔وہیں ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ عقائد ونظریات کی نہ صرف چھاپ نظر آتی ہے بلکہ اسلام، قرآن ، اللہ، مسلمان، نماز وغیرہ الفاظ کا بھی تذکرہ ملتا ہے۔ یہ ہے ان کتب کی حقیقت جو یہاں بیان کی گئی ہے وہی سکھوں کے نزدیک دائمی گرو کی حیثیت سے مانی جاتی ہے اور اس کی پرستش اور پوجا کی جاتی ہے۔ گرو دواروں میں گرنتھ صاحب اونچے مقام پر ریشمی غلاف میں رکھا جاتا ہے اور لوگ دور و قریب سے اسے سجدہ کرتے ہیں اس سے دعائیں مانگی جاتی ہیں اور مختلف تقریبات کے موقعے پر اس کا طواف کیا جاتا ہے۔خدا کے سوا کسی اور خدا کے مخالف ہونے کے باوجود سکھ ،گرنتھ صاحب کی پرستش کرتے اور گرنتھ کے بعض دوسرے حصوں کا روزانہ ورد اور کسی موقع پر کھنڈ پاٹھ۔ ان کے یہاں عبادت کی یہی معروف شکل ہے۔ اس پوری کتاب کو اب سکھ دنیا میں گرو کا زندہ مظہر خیال کرکے پوجا جاتا ہے۔

ہم یہ دیکھتے ہیں کہ نانک اور بعد کے گرو کے عقائد و نظریات ایک دوسرے کی ضد ہے اور اس طرح کے مشرکانہ تصورات کو تسلیم کرنے کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ خود گرنتھ مشتبہ قرار پائے۔ کیونکہ اسے سب سے پہلے گرو ارجن نے مرتب کیا اور بعد میں گرو گوبند سنگھ نے اس میں اپنے والوں گرو تیغ بہادر کی بانیوں کا اضافہ کر کے اسے مکمل کیا۔ لہٰذا جن لوگوں نے نظر یات نانک کے عقائد وہ نظریات کے بالکل برعکس ہوں ان کے ہاتھوں میں نانک کی تعلیمات کیسے محفوظ رہ سکتی ہے۔ اور اگر وہ ان کی تعلیمات کو مرتب کریں تو اس نظریہ کو کس طرح مستند قرار دیا جاسکتا ہے؟ پھر اس طرح کی چیزوں کو جو گرونانک کی تعلیمات سے ٹکراتی نظر آتی ہیں، گرنتھ صاحب کا صحیح جز مان لیا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ گرنتھ صاحب اہم ترین اور سب سے بنیادی مسئلہ میں بھی متضادرہنمائی کرتا ہے۔ وہ توحید کی بھی دعوت دیتا ہے اور ساتھ ساتھ شرک کی بھی۔ اوراگر یہ مان لیا جائے کہ اس طرح کے دو ہے غلط طریقے سے گرنتھ میں شامل کر دئے گئے ہیں تو گرنتھ صاحب محفوظ و مستند نہیں رہتا ،نہ اس کی موجودہ صورت خدائی کتاب کی رہتی ہے۔

اس کتاب کی حقیقت بیان کرنے کا مقصد جہاں یہ تھا کہ گرنتھ کی حقیقت کو اجاگر کیا جائے، وہیں پر یہ بتانا بھی مقصود تھا کہ ہم کیسے جانیں کہ فلاں کتاب خدائی کتاب ہے اور فلاں فلاں خدائی قانون ہے۔

اس کے پہچان یہ ہے:

l وہ صاف اور صریح الفاظ میں خود اعلان کرے کہ وہ خدا کی کتاب ہے اور اس میں جو قانون ہے وہ خدا کا قانون ہے۔

l اس میں کوئی بات علم و عقل کے خلاف نہ ہو۔

l وہ نسل، رنگ، وطن زبان و پیشہ کی بنیاد پر انسانوں میں تفریق کا روادارنہ ہو۔

l وہ انسان کی ہمہ جہتی ارتقاء کا ضامن ہو۔

l وہ انسانوں کا جملہ مسائل حیات کا حل ہو۔

l اس کے مطابق فرد و سماج اور ریاست کی تعمیر و تشکیل ہو کر یہ ثابت ہوگیا ہوکہ وہ قابل عمل نظام ہے۔

l وہ کسی خاص دور میں نہیں ہر دور میں قابل عمل و مسائل حیات کا حل ہو۔

l وہ صاف اور صریح الفاط میں اعلان کرے کہ اللہ کی رضا اس کی پیروی میں ہے۔

l وہ محفوظ و مستند شکل میں موجود ہو۔

یہ دس کسوٹیاں ہیں، جائزہ لے کر دیکھئے کون سا مذہب ان پر پورا اترتا ہے۔

جین مت خالق کائنات کا انکار کرتا ہے اس لئے وہ اس فہرست سے خارج ہے۔ اور بدھ مت صراحةً خدا کا انکار نہیں کرتا مگر وہ خدا اور اس قانون سے بے نیاز ہوکر زندگی کے دکھوں کا علاج کرنا چاہتا ہے۔ پھر یہ دونوں مذاہب ترک دنیا کے قائل ہیں۔ اس لئے مسائل حیات کے حل کے لئے کوئی نظام زندگی نہیں دیتے۔ ہندو مت کی بنیادی کتاب وید یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ وہ خدا کی طرف سے ہے اس منتروں کے ہر مجموعے کے ساتھ اس رِشی کا نام ہوتا ہے جس نے اسے رچا ہے۔ اور اس میں متضاد باتوں کے ساتھ ساتھ فحش باتوں کا ذکر بھی ملتا ہے۔ لہذا یقینی طور پر اس کے مرتب ہونے کے بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا ہے۔ اور جہاں سمرتیوں کا قانون ہے اسے خدائی نہیں مانا جاسکتا۔ 

سمرتیوں میں باہم شدید اختلاف پایا جاتا ہے مزید یہ کہ ان کے قوانین منصفانہ ہیں نہ متوازن اور نہ آج کے پیچیدہ مسائل کا حل۔ اونچ نیچ، چھوت چھات کا مہلک ناسور سمرتیوں کے قانون کا نتیجہ ہے۔

بائیبل جس شکل میں آج موجود ہے اس کا حال بھی یہی ہے۔ عہد نامہ عتیقOld Testament اس بات کا دعوی نہیں کرتا کہ وہ خدائی کتاب ہے یہی حال نیا عہد نامہ New Testament یعنی انجیلوں کا ہے۔ دونوں کے الفاظ و مضامین سے واضح ہے کہ وہ خدا کا نہیں انسانوں کے مرتب کردہ ہیں۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے ہیں کہ بائیبل کے مختلف صحیفوں و انجیلوں کو کن لوگوں نے کب مرتب کیا۔ جہاں عہد نامہ عتیق یعنی تورات کا بنیادی قانون قرآن سے ملتا ہے لیکن تفصیلی قانون آج کے پیچیدہ مسائل کے حل کے پہلو سے بے سود ہیں اور انجیلیں صرف اخلاقی تعلیمات پر مشتمل ہیں۔ ضابطہ حیات قانون سے یکسر خالی۔

بدقسمتی سے اس وقت مذہبی کتابیں جس شکل میں موجود ہیں ان میں بہت سی باتیں علم و عقل کے خلاف اور تہذیب سے گری ہوئی ہیں اور قیاس و گمان پر مبنی خیالات کا اظہار کرتی ہیں۔ صرف قرآن اس سے پاک ہے۔ قرآن کے علاوہ کوئی بھی مذہبی کتاب محفوظ و مستند شکل میں آج موجود نہیں ہے نہ وید نہ بائیبل نہ مہاویر سوامی نہ گوتم بدھ کی تعلیمات اور نہ ہی گروگرنتھ جس کی حقیقت یہاں پیش کی گئی ہے۔ قرآن پاک ہی ایک ایسی کتاب ہے جو سراسر علم حقیقت پر مبنی ہے اس کا مصنف وہ ہے جو تمام حقیقتوں کا علم رکھتا ہے اور یہ واحد کتاب ہے جو کتاب الٰہی ہونے کا دعویٰ رکھتی ہے اور صاحب مشکوک کو چیلنج بھی کرتی ہے کہ

”اگر تمہیں اس امر میں شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے یہ ہماری ہے یا نہیں تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنا لاوٴ ،اپنے سارے ہم نوائی کو بلالو، ایک اللہ کو چھوڑ کر جس جس کی چاہو مدد لے لو اگر تم سچے ہو تو یہ کام کر کے دکھاوٴ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا اور یقیناً کبھی نہیں کرسکتے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر جو مہیا کی گئی ہے منکرین حق کے لئے۔(القرآن 22:2)



”یہ ایک پیغام ہے تمام انسانوں کے لئے اور اس لئے بھیجا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ لوگوں کو خبردار کردیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں اللہ بس ایک ہی ہے اور جو عقل رکھتے ہیں وہ ہوش میں آجائیں(القرآن 52:14)



قرآن تمام نوع انسانی کے لئے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ وہ مکمل ضابطہ حیات ہے لہٰذا اس کے حصول کی ذمہ داری ہر فرد پر یکساں عائد ہوتی ہے


____________
راشد صاحب

    Current date/time is Thu Aug 16, 2018 7:33 pm