Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


حضرت گنگوہیؒ کا محاسبہ قادیانیت

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

حضرت گنگوہیؒ کا محاسبہ قادیانیت

Post by Admin on Thu Jun 04, 2015 10:37 am

مولانا رشیدؒ احمد گنگوہی علمائے دیوبند کے پیرومرشد ہیں۔ حدیث اور تصوف میں سب سلسلے آپ تک پہنچتے ہیں۔ آپ ایک ممتاز محدث‘ فقیہہ اور صوفی تھے۔ آپ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے خلیفہ اجل اور دارالعلوم دیوبند کے سرپرست تھے۔

آپ نے مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں پر جب کفر کا فتویٰ دیا تو مرزا قادیانی نے آپ کو خوب کوسا۔ انجام آتھم وغیرہ کتب میںہمیں آپ کا تذکرہ ملتا ہے۔ مرزا قادیانی آپ کے فتوےٰ کفر اور اس کی خاطرخواہ تشہیر کا خود اعتراف کرتا ہے۔ آپ کی ردقادیانیت کے سلسلہ میں عظیم الشان خدمات کا ممتاز محقق مولانا عبدالحق بشیر منظلہ نے اس طرح تذکرہ کیا ہے۔

خود حضرت گنگوہیؒ نے بھی مرزا قادیانی اور کے حواریوں کی طرف سے کیے گئے اس مناظرہ اور مباحثہ کا ذکر فرمایا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔
مرزا غلام احمد (قادیانی) کے مریدوں نے مجھ سے مناظرہ کا تقاضا کیا تھا۔ میں نے قبول کر لیا کہ یہ مناظرہ سہارن پور میں تقریری طور پر جلسہ عام میں ہو لیکن انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
(مفادضہ نمبر ۷۱‘ ص ۲۴)
یعنی مرزا صاحب کی کوشش یہ تھی کہ یہ مباحثہ تحریری ہو تاکہ بحث کو طول دے کر اور ادھ ادھر کی خارجی بحثیں چھیڑ کر جان چھڑا لی جائے اور اصلی حقائق کو لوگوں کی نظروں سے اوجھل کر دیا جائے جبکہ مولانا گنگوہیؒ کا تقاضا یہ تھا کہ بحث تحریری کی بجائے تقریری ہو تاکہ ہر خاص و عوام اس سے افادہ بھی کر سکے اور حقیقی بھی فوری طورپر عوام کے سامنے آ جائے لیکن مرزا صاحب اس پر آمادہ نہ ہو سکے اور انکار کر دیا اور تقریری مناظر کی صورت میں بھی ان کی کوشش یہ تھی کہ کسی خفیہ مقام پر ہو‘ عام نہ ہو تاکہ عام لوگوں کے سامنے ان کی حقیقت واضح نہ ہو جائے۔ مرزا صاحب کی انہی مکاریوں کی وجہ سے حضرت گنگوہیؒ مرزا صاحب کے بارے میں فرماتے ہیں کہ
(مرزا قادیانی) بڑا چالاک ہے کہ اشتہار مناظرہ کا دیتا ہے اور جب کوئی مقابل ہوتا ہے تو لطائف الحیلسے ٹال دیتا ہے۔
(مفاوضہ نمبر ۶۲‘ ص ۱۴)

مناظرہ کا دوسرا چیلنج:

مولانا گنگوہیؒ نے جب تقریری مناظرہ پر اصرار فرمایا تو مرزا صاحب مجبور و بے بس ہو گئے۔ لہٰذا انہوں نے مجبوراً تقریری چیلنج قبول کر لیا اور عجیب و غریب شرائط عائد کر دیں تاکہ یہ مناظرہ نہ ہو سکے۔ چنانچہ مولف تاریخ احمدیت رقم طراز ہیں۔

نیز حضور (مرزا قادیانی) نے پیر سراج الحق سے فرمایا کہ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہیؒ کو لکھ دیا جائے کہ اچھا ہم بطریق تنزل تقریری مباحثہ منظور کرتے ہیں مگر اس شرط پر کہ آپ تقریر کرتے جائیں اور دوسرا شخص آپ کی تقریر لکھتا جائے اور جب تک ایک کی تقریر ختم نہ ہو دوسرا فریق یا کوئی اور دوران تقریر نہ بولے پھر دونوں تقریریں شائع ہو جائیں لیکن بحث لاہور میں ہو۔ کیونکہ لاہور علوم و فنون کا مرکز ہے۔ پیرصاحب نے حضرت اقدس (قادیانی) کا یہ پیغام مولوی صاحب کو بھیج دیا۔ وہاں سے جواب آیا کہ تقریر صرف زبانی ہو گی۔لکھنے یا کوئی جملہ نوٹ کرنے کی کسی کو اجازت نہ ہو گی اور حاضرین میں سے جس کسی کے جی میں جو آئے گا وہ رفع اعتراض و شک کے لیے بولے گا۔ میں لاہو رنہیں جاتا۔ مرزا صاحب بھی سہارنپور آ جائیں اور میں بھی سہارنپور آ جاﺅں گا۔ حضرت اقدس (مرزا قادیانی) نے فرمایا کہ سہارنپور میں مباحثہ کا ہونا مناسب نہیں ہے۔ سہارنپور والوں میں فیصلہ کرنے یا حق و باطل کی سمجھ نہیں ہے۔
(تاریخ احمدیت جلد اول ص ۲۰۴)

قطع نظر اس سے کہ مناظرہ کا یہ طریقہ اصولی تھا یا غیراصولی؟ آپ اس پورے مضمون پر غور کیجیے کہ مرزا صاحب کن حیلوں اور بہانوں سے مناظرہ اور مباحثہ سے گریز کے لیے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔

مناظرہ کا تیسرا چیلنج:

مولف ”تاریخ احمدیت“ لکھتے ہیں۔
کہ حضرت اقدس (مرزا قادیانی) کا یہ سفر چونکہ تمام حجت کی غرض سے تھا۔ اس لیے حضور نے لدھیانہ سے۶۲مارچ ۱۹۸۱ءکو ایک اشتہار کے ذریعہ تمام مشہور علماءبالخضوص مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی‘ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی‘ مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی‘ مولوی عبدالرحمن صاحب لکھنو کے والے‘ مولوی شیخ عبداللہ صاحب تبتی‘ مولوی عبدالعزیز صاحب لدھیانوی اور مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری کو تحریری مباحثہ کاچیلنج دیا اور لکھا کہ میرا دعویٰ ہرگز قال اللہ و قال الرسول کے خلاف نہیں۔
(تاریخ احمدیّت ص ۰۰۴جلد اول)

مناظرہ کا چوتھا چیلنج:

مولف ”تاریخ احمدیت“ ہی لکھتے ہیں کہ
حضرت اقدس (مرزا قادیانی) نے خدا کے نشان کی یوں تکذیب دیکھی تو آپ نے (۶ ستمبر ۴۹۸۱ءکو ایک اشتہار کے ذریعہ حاشیہ ۲ ص ۹۴۱) تین بڑے علماء(شیخ محمد حسین صاحب بٹالوی‘ مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی اور مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو انعامی چیلنج دیا۔ الخ
(تاریخ احمدیت ج ۱ ص ۳۲۳)

مناظرہ کا پانچواں چیلنج:

مولف ”مجدد اعظم“ رقم طراز ہیں کہ

اربعین نمبر ۲ آپ (مرزا قادیانی) نے ۷۲ ستمبر ۰۰۹۱ءکو شائع فرمایا۔ یہ بجائے اشتہار کے ایک خاصا رسالہ ہے۔ اس میں بھی آپ نے اپنے دعویٰ مسیحیت و مہددیت کو دلائل سے ثابت کیا ہے۔ اس رسالہ میں جو بات خصوصیت سے قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ اس میں آپ نے اپنے وہ الہامات جمع کیے ہیں۔ جن میں آپ کو خدا کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ آپ مجدد اور مامور من اللہ ہیں اور مسیح بن مریم مر چکے ہیں اور آپ ہی مسیح موعود اور مہدی ہیں پھر علماءاور مشائخ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں اس قسم کا تصفیہ اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ جب دلوں سے بکلی فساد دور ہو جائے اور دہشت آپ لوگوں کا ارادہ ہو جائے کہ خدا کی گواہی کے ساتھ فیصلہ کر لیں اور اس طریق میں(مشہور) مولوی جیسے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی‘ مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی‘ مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی‘ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی اور مولوی پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی ایک تحریری اقرارنامہ بہ ثبت شہادت پچاس معزز مسلمانان کے اخبار کے ذریعہ اشتہار کر دیں۔ الخ
(مجدداعظم ج ۲ ص ۱۷۷)

یہاں یہ بات یقینا محتاج تبصرہ نہیں کہ مرزا صاحب چالیس مشہوراور ذمہ دار مولویوں سے کم کے ساتھ مناظرہ کرنے کے لیے تیار نہیں اور چالیس جید‘ معتبر‘ مشہور اور ذمہ دار علماءکی بھی مرزا صاحب کے ہاں کوئی حیثیت نہیں جب تک کہ پچاس معزز آدمی ان علماءکے بارے میں گواہی نہ دیں اور اس گواہی کی بھی مرزا صاحب کے ہاں کوئی حیثیت نہیں جب تک کہ یہ اخبار میں اشتہار کے ذریعہ نہ ہو اور یہ فرار کی ایسی انوکھی واردات ہے جس کی مثال فن مناظرہ کی تاریخ میں کہیں نہیں ملے گی لیکن قطع نظر ان تمام باتوں کے حضرت گنگوہیؒ کو مناظرہ کا چیلنج یہاں بھی موجود ہے۔

مولانا گنگوہیؒ کو مباہلہ کا چیلنج:

مناظرہ کے علاوہ مرزا قادیانی نے جن علماءکو مباہلہ کا چیلنج دیا ان میں بھی مولانا گنگوہیؒ کا نام باقاعدہ موجود ہے۔ چنانچہ ۸۹۸۱ءمیں مرزا قادیانی نے انجام آتھم مرتب کی جس میں علماءکرام کو مباہلہ کا چےلنج دیا گیا۔ چنانچہ مولف ”تاریخ احمدیت“ لکھتے ہیں کہ
چونکہ خداناترس علماءاور سجادہ نشین ابھی تک آپ کے مفتری و کذاب ہونے کی رٹ لگا رہے تھے۔ اس لیے حضور (قادیانی) نے خدا کے حکم سے اسی سال (۸۹۸۱ءمیں) ہندوستان کے تمام قابل ذکر مخالف عالموں اور سجادہ نشینوں کانام لے لے کر ان کو مباہلہ کی فیصلہ کن دعوت دی۔
(تاریخ احمدیت جلد ۱‘ ص ۸۴۵)

اور جن علماءکے نام حاشیہ میں دیئے گئے ہیں ان میں حضرت گنگوہیؒ کا نام بھی موجود ہے۔
(تاریخ احمدیت جلد ۱‘ ص ۳۵۵)

یہ تمام تاریخی حقائق و شواہد اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ مولانا گنگوہیؒ نے مرزا قادیانی کی خلاف بڑی شدومد کے ساتھ کفر کا فتویٰ دیا۔ چونکہ برصغیر میں حضرت گنگوہیؒ کا فتویٰ مسلم سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے مولانا فتوے کے معاملے میں انتہائی محتاط تھے۔ جب تک کسی مسئلہ کی تمام حقیقت و صورت کا علم نہہو جاتا فتویٰ جاری نہ فرماتے۔

یہی معاملہ مرزا قادیانی کے بارے میں ابتداءپیش آیا۔ مولانا نے یکلخت فتویٰ کفر سے گریز کیا۔ جب اس کا کچھ حال معلوم ہوا تو اس کے دجال‘ کذاب اور گمراہ ہونے کے فتوے جاری کیے لیکن جب اس کے دعوﺅں کے تمام نشیب و فراز کھل کر سامنے آ گئے تو مولانا نے اپنافتویٰ کفر اشتہار کی صورت میں شائع فرما کر پورے ملک میں تقسیم کرا دیا۔

مولانا گنگوہیؒ کے خلاف مرزا قادیانی اور اس کی امت کا ردعمل:

مولانا گنگوہیؒ نے جب قادیانی نظریات کی کھل کر مخالفت کی اور اس کے خلاف کفر وارتداد کا کھلا فتویٰ جاری فرمایا تو مرزا قادیانی اور اس کی امت بدزبانی پر آئی۔ چنانچہ مرزا صاحب ایک مقام پر لکھتے ہیں۔
مولوی رشید احمد گنگوہی اٹھا اور ایک اشتہار میرے مقابل نکالا اور جھوٹے پر لعنت کی اور تھوڑے دنوں بعد اندھا ہو گیا۔ دیکھو اور عبرت پکڑو۔
(نزول مسیح ص۲۲ روحانی خزائن ص ۹۰۴‘ جلد ۸۱)

دوسرے مقام پر مرزا صاحب لکھتے ہیں۔

اخرھم الشیطان الاعمی والغول الاغوی یقال لہ رشیداحمد الجنجوھی ھو شقی کالامروھی ومن الملعونین۔
ان میں سے آخری شخص وہ شیطان‘ اندھا اور گمراہ دیو ہے جس کو رشید احمد گنگوہی کہتے ہیں اور وہ (مولانا احمد حسنؒ امروہی کی طرح شقی اور ملعونوںمیں سے ہے۔
(انجام آتھم ص ۲۵۲ روحانی خزائن جلد ۱۱)

مولانا گنگوہیؒ کے بارے میں مرزا صاحب کی زبان ملاحظہ فرمایئے اور اندازہ کیجیے کہ مرزا صاحب مولانا گنگوہیؒ کے بارے میں کس قدر مخالفت اور دشمنی کا اظہار کر رہے ہیں اگر مولانا گنگوہی نے مرزا قادیانی کے خلاف فتویٰ کفر جاری نہ کیا ہوتا تو مرزا صاحب کی طرف سے اتنی شدید مخالفت اور دشمنی کا اظہار بعید تھا۔

نیز مولف ”تاریخ احمدیت“ نے اپنے غم و غصہ کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے۔ لکھتے ہیں۔
جو معاند علماءیا گدی نشین اپنی مخالفت پر بدستور قائم رہے۔ انہیں اپنے جرم کی پاداش میں ان سزاﺅں میں سے کسی نہ کسی سزا کو بھگتنا پڑا۔ چنانچہ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی پہلے اندھے ہوئے پھر سانپ کے ڈسنے سے مرے۔
(تاریخ احمدیت جلد ۱‘ ص ۰۵۵)

قطع نظر اس سے کہ اس واقعہ کی اصل حقیقت کیا ہے؟ دو چیزوں کی وضاحت تو بخوبی ہو گئی۔ ایک تو یہ کہ مولانا گنگوہیؒ نے مرزا قادیانی کے خلاف کفر کا فتویٰ دیا اور بڑی شدومد کے ساتھ دیا اور دوسرا یہ کہ وہ اپنے فتویٰ کفر پر آخری دم تک قائم و دائم رہے اورآخری وقت تک پھر انہوں نے مرزا قادیانی کے بارے میں اپنے موقف میں لچک پیدا نہیں کی اور نہ اپنے فتویٰ کفر سے رجوع کیا۔ ان تمام ناقابل تردید حقائق اور واقعات کے بعد حضرت گنگوہیؒ پر یہ الزام دینا کہ انہوں نے فتویٰ کفر جاری نہیں کیا سراسر بددیانتی‘ تعصب اور ہٹ دھرمی ہو گی۔ جو لاعلاج امراض ہیں۔ خداتعالیٰ ان مہلک بیماریوں سے ہرایک مسلمان کو محفوظ رکھے اور حق سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
ہمارے دم سے ہے سب گرمئی میخانہ
ارے ساقی یہ رونق پھر کہاں جب ہم نہیں ہوں گے
(فتویٰ امام ربانی بر مرزا غلام احمد قادیانی ص ۹۷ تا ۵۸)

قادیانی اعتراف

اس دوران پیر سراج الحق ؒصاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا قادیانی) سے عرض کیا کہ سب لوگوں کی نظر مولوی رشید احمد گنگوہی کی طرف لگ رہی ہے (یہ مولانا گنگوہیؒ کی علمیت و عظمت اور فیصلہ کن شخصیت ہونے کا کھلا اعتراف ہے۔ بشیر) اگر حکم ہو تو مولوی رشید احمد صاحب گنگوہیؒ کو لکھوں کہ وہ مباحثہ کے لیے آمادہ ہوں۔ چنانچہ (مرزا قادیانی کی اجازت سے) مولوی رشید احمد صاحب کو خط لکھا گیا تو مولوی رشید احمد صاحب نے اس خط کے جواب میں لکھا کہ میں بحث کو مرزا صاحب سے منظور کرتا ہوں لیکن تقریری اور زبانی۔ تحریری مجھے منظور نہیں اور یہ بحث (کسی خفیہ مقام پر نہیں بلکہ) جلسہ عام میں ہو گی










____________
راشد صاحب







    Current date/time is Wed Jun 20, 2018 10:02 pm