Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


جہنم سے پہلے جہنم ۔ قادیانی خلیفوں کا عبرت ناک انجاممجھے یقین ہے کہ اگر قادیانی

Share
avatar
Shah Khan

Posts : 12
Join date : 01.04.2015

جہنم سے پہلے جہنم ۔ قادیانی خلیفوں کا عبرت ناک انجاممجھے یقین ہے کہ اگر قادیانی

Post by Shah Khan on Wed Jun 03, 2015 4:42 pm

اس بانی کفر کی موت کے بارے یقینا سب کو علم ہے ،
مجھے یقین ہے کہ اگر قادیانی زندیق اپنے مرزا جی کے کافرانہ عقائد، توہین انبیاء اکرام و اکابرین ملت میں لکھی اس کی گستاخانہ تحریریں کھلے ذہن کے ساتھ پڑھیں اور پھراس کے ہولناک انجام سےعبرت حاصل کریں تو کانوں کو ہاتھ لگا کرقادیانیت کو خیرباد کہہ دیں۔ مرزا قادیانی کی بیت الخلا میں دردناک موت کے بارے تو اکثرمسلمان اورخود قادیانی حضرات بھی خوب جانتے ہیں۔

یہاں میں مرزا جی کے خلیفوں کی عبرت انگیز اموات کا وہ حال درج کر رہا ہوں جس سے سب مسلمان تو شاید آگاہ نہ ہوں لیکن ہاں ہرقادیانی ضرور واقف ہے۔ شاید میرے یاد دلانے پران کے دلوں کے قفل کھل جائیں۔

[align=center] حکیم نور الدین ، [/align]

مرزا غلام قادیانی کے آنجہانی ہونے کے بعد اس کا پہلا خلیفہ حکیم نورالدین تھا جو خود مرزا جی کی روایت کے مطابق ایسا غلیظ شخص تھا کہ مدتوں نہیں نہاتا تھا۔ یہ بدبخت گھوڑے پرسوار تھا کہ گھوڑے کے بدکنے سے نیچے گرتے ہوئے پاؤں رکاب میں پھنسا بیٹھا اور پھر گھوڑا سرپٹ دوڑتا ہوا خلیفہ جی کو گھسیٹتا اوراس کی ہڈیاں چٹخاتا رہا۔ خلیفہ زندہ تو بچ گیا مگرزخم ناسور کی شکل اختیار کرکے جان لیوا ہوئے اور یوں خلیفہ اول صاحب بسترِ مرگ پرایڑیاں رگڑتے رگڑتے دنیا میں ہی عذاب الہی جھیلتے ہوئے جہنم کو سدھارے۔ حکیم نورالدین کے اس انجام کے بعد ممکنہ جانشین مولوی محمد علی لاہوری کو خلافت نہ ملی۔

[align=center]مرزا بشیر الدین محمود [/align]

مرزا قادیانی کی بیوی نے اپنے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود کو زبردستی خلیفہ بنوا دیا۔ اکھنڈ بھارت کےخواب دیکھنے والا بدترین گستاخ قرآن و رسالت مرزا بشیر جنسی تعلقات کا دلدادہ اورانتہائی عیاش جوان تھا، جسے خلافت ملنے پر مرزا قادیانی کے وفادار ساتھی مولوی محمد علی لاہوری نے جماعت قادیان چھوڑ کراپنا لاہوری مرزائی فرقہ بنا لیا۔ مرزا بشیرنے خلیفہ بنتے ہی ایسی گھناؤنی حرکتیں کیں کہ خود شرم بھی شرما گئی۔ اسن کی قصرخلافت نامی رہائشگاہ دراصل قصرِ جنسی جرائم تھی جہاں عینی شاہدین کے مطابق صرف عقیدتوں کا خراج ہی بھینٹ نہیں چڑھا بلکہ مختلف حیلے بہانوں سے یہاں عصمتیں بھی لٹتی رہیں۔ ربوہ کے قصرمحمود میں اس عیاش خلیفہ نے صرف قادیانی نوجوان لڑکیوں کی عصمتیں ہی برباد نہیں کیں بلکہ یہ ملعون ایسا پلید ترین جنسی بھیڑیا تھا جس کی جنسی ہوس سے اس کی اپنی سگی بیٹی بھی محفوظ نہ رہی۔ اس خلیفہ کے جنسی جرائم کے بارے قادیانی جماعت کے لوگوں کے تبصرے، حلفیہ بیانات، مباہلے اورقسمیں موجود ہیں۔ خدائے برتر ایسے ظالم انسان کو کبھی معاف نہیں کرتے چنانچہ اس خلیفہ ثانی کی زندگی کا خاتمہ بھی ایسے دردناک حالات میں ہوا کہ اس فالج زدہ ابلیس کو زندگی کے آخری بارہ سال بسترمرگ پر ایڑیاں رگڑتے اور مرتے دیکھ کرقادیانی لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے تھے۔ اس ملعون کی شکل و صورت پاگلوں کی سی بن چکی تھی اور وہ سر ہلاتا رہتا منہ میں کچھ ممیاتا رہتا تھا۔ اکثر یہ مجنون اپنے بال اور داڑھی نوچتا رہتا اور اپنی ہی نجاست ہاتھ منہ پرمل لیا کرتا تھا۔ بہت لوگ ان حالات و واقعات کےعینی شاہد ہیں۔ ایک لمبا عرصہ اذیت ناک زندگی بسترمرگ پرگزارنے کے بعد جب یہ گستاخ قرآن و رسالت، جہنم کو سدھارا تواس کا جسم بھی عبرت کا اک عجب نمونہ تھا۔ ایک لمبےعرصہ تک بستر مرگ پر لیٹے رہنے کی وجہ سے لاش مرغ کے چرغے کی طرح اس قدر اکڑ چکی تھی کی ٹانگوں کو رسیوں سے باندھ کر بمشکل سیدھا کیا گیا۔ چہرے پرپڑی لعنتیں چھپانے کیلئے ماہرین سے خصوصی میک اپ کروایا گیا۔ اور پھرعوام الناس کو دھوکہ دینے کے لیے مرکری بلب کی تیزروشنی میں لاش کواس طرح رکھا گیا کہ چہرے پر لعنت زدہ سیاہی نظر نہ آئے۔ لیکن قادیانی توساری اصل حقیقت سے آشنا تھے

[align=center] مرزا ناصر احمد [/align]

مرزا بشیرکی موت کے بعد مورثی وراثت اور چندوں کے نام پر لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھنے کی خاطر اسی کا بڑا بیٹا مرزا ناصراحمد گدی نشین ہوا۔ یہ تیسرا خلیفہ گھوڑوں کی ریس کا بڑا شوقین تھا۔ اس کے اسی شہنشاہی شوق نے ربوہ میں گھڑ دوڑ کے دوران ایک غریب شخص کی جان بھی لی۔ اس مرزا ناصر کی موت بھی ایک جنسی مریض کی داستان ہوس ہے۔ ہوس زدہ خیلفہ جی نے اڑسٹھ سال کی بوڑھی عمر میں فاطمہ جناح میڈیکل کی ایک ستائیس سالہ طالبہ کو یہ کہتے ہوئے اپنے عقد میں لے لیا کہ ’’ آج دولہا اپنا نکاح خود ہی پڑھائے گا ‘‘۔ ازدواجی تعلقات میں جسمانی طور پر ناکام ٹھہرنے کے بعد بوڑھے دولہا نے اپنے ناکارہ و ناقابل مرمت اعضاء میں نئی جوانی بھرنے کے لیے دیسی کشتوں کا بے دریغ استعمال شروع کر دیا اور پھر کشتوں کے راس نہ آنے پرخود ہی کشتہ ہو گیا۔ مرنے سے پہلے اس تیسرے قادیانی خلیفہ کاجسم پھول کرکپا ہو گیا۔ کشتوں کا ناگ ایسا ڈسا کہ آناً فاناً خدائے قہارکے قہرکی گرفت میں، کشتوں ہی کی آگ میں جھلس کر، محمدی بیگم کے ناکام عاشق، اپنے دادا مرزا غلام قادیانی کے پاس ملک عدم کو سدھارگیا ۔مرزا ناصر نے پاکستان کی قومی اسمبلی میں قادیانیوں کا نمائندہ اور خلیفہ کی حیثیت سے اپنے کفریہ عقائد اور مقاصد کا بتایا تو پاکستان کی حکومت نے متفقہ فیصلہ سے ان کو کافر قرار دیا ۔

[align=center]مرزا طاہر احمد [/align]

مرزا ناصر احمد کی موت کے بعد مرزا طاہر احمد گدی نشین ہوا تو اس کا سوتیلا بھائی مرزا رفیع احمد خلافت کو اپنا حق سمجھتے ہوئے میدان میں آ گیا۔ جب اسکی بات نہ مانی گئی تو وہ اپنے حواریوں سمیت سڑکوں پر آ گیا۔ لیکن ان باغیوں کو بزور قوت گھروں میں دھکیل دیا کر خلافت پر قبضہ کر لیا گیا۔ جماعت قادیان کا چوتھا خلیفی مرزا طاہراحمد انتہائی آمرانہ مزاج کا حامل تھا۔ اس کی فرعونی عادات نے نہ صرف اسے بلکہ پوری قادیانی جماعت کو دنیا بھر میں ذلیل و خوار کیا۔ اپنی زبان درازی ہی کی وجہ سے وہ پاکستان سے بھاگ کر لندن میں اپنے گورے آقاؤں کے ہاں پناہ گزین ہوا۔ اس کے دور خلافت میں اس کے ہاتھوں غیر تو کیا کسی قادیانی کی بھی عزت محفوظ نہیں تھی ۔ اس نے نظریں ملا کر بات نہ کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔ مرزا طاہر ہومیو پیتھک ڈاکٹر کہلوانے کے شوقین تھا اور اس کا یہی شوق انسانوں کے لیے مصیبت کا باعث بن گیا۔ مرزا طاہرکی خواہش تھی کہ قادیانی عورتیں صرف لڑکے ہی پیدا کریں جن میں ذات پات یا نسل کا کوئی لحاظ نہ ہو۔ مرا طاہر قادیانیوں کو’’ نر نسل ‘‘ پیدا کرنے کی گولیاں تو دیتا رہا مگر یہ ڈاکٹر اپنی بیوی کو لڑکا نہ دے سکا اور اس کے اپنے ہاں تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ اس خبطی کے ذہنی توازن کا یہ حال تھا کہ امامت کے دوران عجیب و غریب حرکتیں کرتا، کبھی باوضو تو کبھی بے وضو ہی نماز پڑھا دیتا۔ رکوع کی جگہ سجدہ اور سجدہ کی جگہ رکوع اورکبھی دوران نمازہی یہ کہتے ہو ئے گھر کوچل دیتا کہ ٹھہرو، میں ابھی وضو کر کے آتا ہوں۔ غرضیکہ اپنے پیشرؤں کی طرح مرزا طاہرکی بھی بڑی مشکل سے جان نکلی۔ پرستاروں کے دیدار کے لیے جب لاش رکھی گئی تو چہرہ سیا ہ ہونے کے ساتھ ساتھ لاش سے اچانک ایسا بدبودار تعفن اٹھا کہ پرستاروں کو فوراً کمرے سے باہر نکال دیا گیا اورلاش بند کرکے تدفین کے لیے روانہ کر دی گئی۔ لوگوں نے یہ عبرتناک مناظر براہِ راست قادیانی ٹی وی پربھی دیکھے۔

[align=center]مرزا مسرور احمد [/align]

تازہ ترین خبروں کے مطابق موجودہ خلیفہ مرزا مسرور بھی ایک پراسرار بیماری میں مبتلا ہے اور قادیانی قیادت نے اپنے اگلے خلیفہ کی تلاش شروع کر دی ہے۔ خلیفہ مسرور لندن میں اور کنیڈا کے درمیان قادیانیوں کی محفلوں میں جاتا رہتا ہے ، پاکستان نہین آسکتا ، اور انشاء اللہ یہ بھی اسی طرح ذلیل و خوار ہو گا ، جس طرح اس کے پیروکار اور رھبر ذلیل ہوئے ،




اس مضمون کیلئے ایک سابقہ قادیانی ، نومسلم سید منیر بخاری صاحب کی تحریر سے مدد لی گئی


    Current date/time is Tue Oct 16, 2018 4:36 am