Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


جھولی پھیلاکر بھیک مانگ

Share
avatar
Shah Khan

Posts : 12
Join date : 01.04.2015

جھولی پھیلاکر بھیک مانگ

Post by Shah Khan on Wed Jun 03, 2015 4:12 pm

تحریک ختم نبوت 1974ء ایک ایسی تحریک ہے جس میں خلوص، محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، یہ ایک ایسا مسئلہ تھا جس میں کسی عالم یا غیر عالم کا فرق نہ تھا، کوئی جاہل اور پڑھا لکھا الگ نہ تھے، بلکہ سب نے مل کر اس کے لیے کوششیں کیں، قربانیاں دیں اور ایک ایسی تحریک چلائی جس نے پوری اُمت مسلمہ کو بیدار کردیا، ایک ایسے فتنہ کے متعلق جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش میں مصروف تھا، ایک ایسا فتنہ جس Aنے خود ساختہ ایک نیا مذہب لانے کی کوشش کی۔ سلام ہے اُن غیرت مند مسلمانوں پر جنہوں نے اپنے دن رات کی انتھک محنت، کوشش اور خلوص سے اس فتنہ کا راستہ روکا اور مسلمان قوم کو ایک شعور دیا۔
اس سلسلہ میں ہر شخص اپنی جگہ پر ایک ہیرا ہے، ہر شخص نے اپنی بساط کے مطاق کوشش کی اور اپنا حصہ اس عظیم مقصد میں شامل کیا۔ انہی میں سے ایک شاعر بھی تھے، جن کا نام دنیا شورش کاشمیری کے نام سے جانتی ہے۔
انہوں نے اپنے اشعار میں مسلمانوں کو بیدار کرنے کی تعلیم دی، ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر دیگر مسلمانوں کے ساتھ مل کر کام کیا اور اپنی جھولی پھیلاکر ختم نبوت کی حفاظت کی بھیک مانگی۔ اسی واقعہ کا ایک اقتباس یہاں پر نقل کیا جاتا ہے، اُمید ہے کہ قارئین کو اللہ کے ان نیک بندوں کی فکر اور غم کا کچھ اندازہ ہوسکے گا۔ اور پتہ چلے گا کہ اصل عزت تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور وہی عزت والا ہے جس نے اللہ کے لیے اپنے آپ کو مٹادیا ہو۔ ملاحظہ کیجیے:
جب ۱۹۷۴ء کی تحریکِ ختم نبوت چلی تو دورانِ تحریک آغا شورش کاشمیریؒ اپنے پیارے دوست مولانا تاج محمودؒ کے ساتھ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ملے۔ اس ملاقات کی روداد ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ ۲۹ اکتوبر ۱۹۷۹ء میں موجود ہے جو مسٹر بھٹو کی اپنی بیان کردہ ہے۔ مسٹر بھٹو کہتے ہیں:
شورش اپنے دوست مولانا تاج محمودؒ کے ساتھ میرے پاس آئے۔ شورش نے چار گھنٹے تک مسئلہ ختم نبوت اور قادیانیوں کے پاکستان کے بارے میں عقائد و عزائم پر گفتگو کی۔ شورش نے باتوں کے دوران انتہائی جذباتی ہوکر میرے پاؤں پکڑ لیے ۔ شورش کی عظمت کو دیکھ کر میں نے اسے اٹھاکر گلے سے لگالیا، مگر وہ ہاتھ ملاکر پیچھے ہٹ گیا اور کہنے لگا:
’’بھٹو صاحب! ہم جیسی ذلیل قوم کسی ملک نے آج تک پیدا نہیں کی ہوگی۔ ہم اپنے نبی ﷺ کے تاج و تخت ختم نبوت کی حفاظت نہ کرسکے۔
پھر شورش نے روتے ہوئے میرے سامنے اپنی جھولی پھیلاکر کہا:
بھٹو صاحب! میں آپ سے اپنے اور آپ کے نبی ﷺ کی ختم المرسلینی کی بھیک مانگتا ہوں۔ آپ میری زندگی کی تمام خدمات اور نیکیاں لےلیں، میں خدا تعالیٰ کے حضور خالی ہاتھ چلاجاؤں گا۔ خدا کے لیے محبوبِ خدا ﷺ کی ختم نبوت کی حفاظت کردیجیے۔ اسے میری جھولی نہ سمجھیے، بلکہ فاطمہؓ بنت محمدﷺ کی جھولی سمجھ لیجیے۔
(عشق نبویﷺ کے ایمان افروز واقعات، ص:۲۶۹، حافظ مومن خان عثمانی)ؔ


    Current date/time is Wed Jun 20, 2018 10:07 pm