Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


آئینہ مرزائیت

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

آئینہ مرزائیت

Post by Admin on Sun May 17, 2015 4:56 am

خدا کے دشمن ، خدا کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے دشمن ، عامة المسلمین کے دشمن ، ننگ دین و ننگ وطن مرزائی ٹولے کی ناپاک و مکروہ سازشوں سے پردہ اٹھتا ہے۔ ان کو ان ہی کی اپنی تحریروں کے آئینوں میں دیکھیے اور خدارا سوچئے اور فیصلہ کیجیے کیا یہ ہمارے دوست ہیں یا بد ترین دشمن ؟ کیا یہ دل آزار اور اشتعال انگیز تحریریں مسلمانوں کے لیے قابل برداشت ہیں اور امت مسلمہ ایسے لوگوں کو گوارا کر سکتی ہے؟

دعویٰ خدائی

میں نے اپنے تئیں خدا کے طور پر دیکھا ہے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں وہی ہوں اور میں نے آسمان کو تخلیق کیا ہے۔ (آئینہ کمالات، صفحہ 564، مرزا غلام احمد قادیانی )

خدا نمائی کا آئینہ میں ہوں ۔ (نزول المسیح، ص 84)

ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں، جو حق اور بلندی کا مظہر ہو گا ، گویا خدا آسمان سے اترے گا ۔ (تذکرہ ط 2،ص 646،انجام آتھم ص 62)

مجھ سے میرے رب نے بیعت کی ۔ ( دافع البلاء، ص6)

نبوت کے دعوےٰ

پس مسیح موعود (مرزا غلام احمد ) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے ۔ اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں ،ہاں! اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی ۔ (کلمہ الفصل ،صفحہ 158،مصنفہ مرزا بشیر احمد، ایڈیشن اول )

گویا "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ " کے معنی ان کے نزدیک ہیں " لا الہ الا اللہ مرزا رسول اللہ "(نعوذ باللہ ) جو دوبارہ قادیان میں آیا ہے۔

آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کے تین ہزار معجزات ہیں ۔ (تحفہ گولڑویہ، صفحہ 67،مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی )

میرے معجزات کی تعداد دس لاکھ ہے۔ (براہین احمدیہ، صفحہ 57، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی )

انہوں نے (یعنی مسلمانوں نے) یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے …ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی … قدر کو ہی نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے ورنہ ایک نبی تو کیا میں تو کہتا ہوں ہزاروں نبی ہوں گے ۔ (انوار خلافت، مصنفہ بشیر الدین محمود احمد، صفحہ 62)

ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔(بدر5مارچ، 1908ء)

میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا اور میرا نام نبی رکھا ۔ (تتمہ حقیقة الوحی 68)

اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے یہ کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے ضرور کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے، کذاب ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں ۔ ( انوار خلافت، صفحہ 65)

یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے ۔ (حقیقة النبوة، مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد، خلیفہ قادیان ،ص 228)

مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا ، میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں ۔ بد قسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیوں کہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔(کشتی نوح، صفحہ 56، طبع اول قادیان 1902ء)

تمام انبیاء کا مجموعہ

دنیا میں کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا ۔ میں آدم ہوں ۔ میں نوح ہوں ، میں ابراہیم ، میں اسحاق ہوں ، میں یعقوب ہوں ، میں اسماعیل ہوں ۔ میں داود ہوں ، میں موسیٰ ہوں ، میں عیسیٰ ابن مریم ہوں ، میں محمد صلی الله علیہ وسلم ہوں ۔( تتمہ حقیقة الوحی ، مرزا غلام احمد، ص 84)

نبوت مرزا غلام احمد قادیانی پر ختم

اس امت میں نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں ہیں ۔ (حقیقة الوحی ، مرزا غلام احمد صفحہ391)

حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کی توہین

آں حضرت صلی الله علیہ وسلم عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھالیتے تھے حالانکہ مشہو رتھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔ (مکتوب مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ اخبار الفضل 22فروری1924ء )

مرزا قادیانی کا ذہنی ارتقاء آں حضرت صلی الله علیہ وسلم سے زیادہ تھا ۔ ( بحوالہ قادیانی مذہب صفحہ266، اشاعت نہم مطبوعہ لاہور )

اسلام محمد عربی کے زمانہ میں پہلی رات کے چاند کی طرح تھا اور مرزا قادیانی کے زمانہ میں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہو گیا ۔ (خطبہ الہامیہ صفحہ 184)

مرزا قادیانی کی فتح مبین آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کی فتح مبین سے بڑھ کر ہے ۔ (خطبہ الہامیہ صفحہ 193)

اس کے یعنی نبی کریم صلی الله علیہ وسلم لیے چاند گرہن کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لیے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو انکار کرے گا ۔ (اعجاز احمدی مصنفہ غلام احمد قادیانی ص 71)

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(قاضی محمد ظہور الدین اکمل) اخبار بدر نمبر 43، جدل 2قادیان 25اکتوبر1906ء)

دنیا میں کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا ۔ (حقیقة الوحی، ص 89 از مرزا غلام احمد قادیانی )

اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد کو اتارا، تا کہ اپنے وعدہ کو پورا کرے۔ (کلمہ الفصل، ص 105، از مرزا بشیر احمد )

سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا ۔ (دافع البلاء، کلاں تختی ص 11، تختی خورد ص 23، انجام آتھم ص 62)

مرزائیوں نے 17جولائی 1922ء کے ( الفضل) میں دعویٰ کیا کہ یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے، حتیٰ کہ محمد رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے ۔

نمبر11مرزا غلام احمد لکھتے ہیں : خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا ہی وجود قرار دیا ہے۔ ( ایک غلطی کا ازالہ، صفحہ نمبر10)

نمبر12منم مسیح زماں و منم کلیم خدا منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

ترجمہ ! میں مسیح ہوں، موسی کلیم اللہ ہوں اور محمد اور احمد مجتبیٰ ہوں ۔ (تریاق القلوب ص 5، مصنفہ غلام احمد قادیانی )

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین

آپ کا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام )خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں ، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا ۔( ضمیمہ انجام آتھم ، حاشیہ ص ۷ مصنفہ غلام احمد قادیانی )

مسیح (علیہ السلام ) کا چال چلن کیا تھا ، ایک کھاوٴ پیو ، نہ زاہد ، نہ عابد، نہ حق کا پرستار ، متکبر ، خود بین ، خدائی کا دعویٰ کرنے والا ۔ (مکتوبات احمدیہ، صفحہ نمبر 21 تا 24 جلد 3)

یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے، شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے ۔(کشتی نوح حاشیہ، ص 75 مصنفہ غلام احمد قادیانی )

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو ۔اس سے بہتر غلام احمد ہے۔ (دافع البلاء ، ص 20)

عیسیٰ کو گالی دینے ، بد زبانی کرنے اور جھوٹ بولنے کی عادت تھی اور چور بھی تھے ۔ ( ضمیمہ انجام آتھم ص 6,5)

یسوع اس لیے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکتا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور خراب چلن ، نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتدا ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے، چناں چہ خدائی کادعویٰ شراب خوری کا ایک بد نتیجہ ہے۔ (ست بچن ، حاشیہ ، صفحہ172، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی )

حضرت علی  کی توہین

پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑ، اب نئی خلافت لو ۔ ایک زندہ علی ( مرزا صاحب ) تم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی (حضرت علی ) کو تلاش کرتے ہو۔ (ملفوظات احمدیہ ، 131جلد اول )

حضرت فاطمہ الزاہرا کی توہین

حضرت فاطمہ  نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں ۔ ( ایک غلطی کا ازالہ، حاشیہ ص 9،مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی )

حضرت امام حسین کی توہین

دافع البلاء میں ص 13پر مرزا غلام احمد نے لکھا ہے میں امام حسین  سے بر تر ہوں ۔

مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے، کیوں کہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ (اعجاز احمدی صفحہ69)

اور میں خدا کا کشتہ ہوں اور تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے، پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے ۔(اعجاز احمدی صفحہ81)

کربلا ئیست سیر ہر آنم
صد حسین از در گر یبانم

میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے ۔ میرے گریبان میں سو حسین پڑے ہیں ۔ (نزول المسیح ص 99مصنفہ مرزا غلام احمد )

اے قوم شیعہ ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے، کیوں کہ میں سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں سے ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے ۔ (دافع البلاء ص 13، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی )

تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا ورد صرف حسین ہے…کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔ ( اعجاز احمد ی ص82، مصنفہ مرزا غلام احمد )

اس عبارت میں مرزا صاحب نے حضرت حسین کے ذکر کو "گوہ" کے ڈھیر سے تشبیہ دی ہے۔

مکہ اور مدینہ کی توہین

حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق بڑا زور دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو بار بار یہاں نہ آئے مجھے اس کے ایمان کا خطرہ ہے ۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا، تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے، پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا ؟ آخر ماوٴں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے، کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں،(مرزا بشیر الدین محمود احمد، مندرجہ حقیقت الروٴیا ، ص 46)

قرآن شریف میں تین شہروں کا ذکر ہے یعنی مکہ اور مدینہ اور قادیان کا ۔ (خطبہ الہامیہ ،ص 20حاشیہ)

مسلمانوں کی توہین

کل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا اور میری دعوت کی تصدیق کر لی، مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔ (آئینہ کمالات، ص 547)

جو دشمن میرا مخالف ہے وہ عیسائی ، یہودی ، مشرک اور جہنمی ہے۔ (نزول المسیح، ص 4، تذکرہ 227)

میرے مخالف جنگلوں کے سور ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں ۔(نجم الہدیٰ ،ص 53،مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

جو ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں ۔ ( انوارالاسلام ،ص 30،مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

اسلام کی مقدس اصطلاحات کا ناجائز استعمال

ام المومنین کی اصطلاح کا استعمال مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کے لیے کیا جاتا ہے ۔یہ اصطلاح حضرت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے لیے مخصوص ہے۔

سیدةالنساء کی اصطلاح بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی بیٹی کے لیے استعمال کی جاتی ہے ،حالاں کہ حدیث پاک کی رو سے یہ اصطلاح صرف خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لیے مخصوص ہے۔

دین اسلام کی توہین

قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کی نبوت کے بغیر دین اسلام لعنتی ، شیطانی ، مردہ اور قابل نفرت ہے ۔ (ضمیمہ براہین پنجم، ص 183، ملفوظات، ص 127،جلد1)

تمام مسلمان کافر ہیں

جو شخص مجھ پر ایمان نہیں رکھتا وہ کافر ہے۔(حقیقة الوحی نمبر163، از مرزا غلام احمد قادیانی )

کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد ) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔(آئینہ صداقت ص 35، مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان )

تحریک احمدیت اسلام کے ساتھ وہی رشتہ رکھتی ہے جو عیسائیت کا یہودیت کے ساتھ تھا ۔ (محمد علی لاہور، قادیانی، مباحثہ راولپنڈی، ص 240)

ہر ایک ایسا شخص جو موسی  کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا ،یا عیسیٰ  کو مانتا ہے مگر محمدصلی الله علیہ وسلم کو نہیں مانتا اور یا محمد صلی الله علیہ وسلم کومانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر، بلکہ پکاکافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔(کلمة الفصل، ص 110۔ مرزا بشیر احمد ایم اے )

کافرانہ دعوے

مجھے مسیح اور مہدی بنایا گیا ۔(نجم الہدیٰ حاشیہ ص 78)

نوٹ ! یہ دعویٰ مرزا صاحب کی اکثر کتب میں موجود ہے۔

خدا نے اپنے الہامات میں میرا نام بیت اللہ رکھا ہے۔ (تذکرہ ط 2 ،ص 35، حاشیہ اربعین، ص4، ص 16)

خدا تعالیٰ نے اپنے الہام اور کلام سے مجھے مشرف فرمایا ۔ (تریاق القلوب، ص 155، ط ربوہ ، قادیان، ص 136)

اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے امت کے لیے محدث ہو کر آیا ہے ۔ (ازالہ اوہام، ص176، حمامة البشریٰ ،ص 53)

وہ مسیح موعود جو آخری زمانہ کا مجدد ہے وہ میں ہی ہوں ۔ (حقیقة الوحی، ص194، انجام آتھم، ص75)

ان کو کہ، کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آوٴ! میری پیروی کرو تا کہ خدا بھی تم سے محبت کرے ۔ ( مرزا قادیانی کا الہام ) (مندرجہ حقیقة الوحی، ص 82، مطبوعہ لاہور1953)

اور مجھ کو فنا کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے ۔ (خطبہ الہامیہ ،ص 23)

قادیانیوں کا مسلمانوں سے جدا مذہب

ورنہ حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) نے فرمایا ہے کہ ان کا (یعنی مسلمانوں کا) اسلام اور ہے اور ہمارا اور ان کا خدا اور ہے اور ہمارا اور ، ہمارا حج اور ہے اور ان کا حج اور اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔ (اخبار الفضل 21اگست1917ء تقریر بنام طلبا (طلبا کو نصائح) )

یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے، آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم، صلی الله علیہ وسلم ، قرآن ، نمازروزہ ، حج ، زکوة، غرض آپ نے بتا یا کہ ایک ایک چیز میں ان سے اختلاف ہے۔ ( 30جولائی1931ء الفضل، تقریر خلیفہ مرزا غلام احمد)

مسلمانوں سے شادی بیاہ کی ممانعت

حضرت مسیح موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی ، غیر احمدی کو اپنی لڑکی نہ دے، اس کی تعمیل کرنا بھی ہر احمدی کا فرض ہے۔ (برکات خلافت، مجموعہ تقاریر محمود ص 25)

فتاویٰ احمدیہ کی جلد دوئم کے صفحہ نمبر7 پر وہ کہتے ہیں " اپنی بیٹیاں ان لوگوں کے نکاح میں نہ دو جو مجھ پر ایمان نہیں رکھتے ۔ "

مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنے کی ممانعت

فتاویٰ احمدیہ جلد اول صفحہ 18پر مرزا غلام احمد کہتے ہیں : ان لوگوں کے پیچھے نماز مت پڑھو جو مجھ پر ایمان نہیں رکھتے ۔

ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور نہ ان کے پیچھے نماز پڑھیں،کیوں کہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں ۔ ( انوار خلافت، ص 90، مصنفہ مرزا محمود بن مرزاقادیانی )

صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز مت پڑھو ۔ (قول مرزا غلام احمد، مندرجہ اخبار الحکم ،قادیان 10 اگست 1901ء )

غیر احمدی مسلمانوں کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں، حتیٰ کہ غیر احمدی کے معصوم بچے کا بھی نہیں ۔ ( انوار خلافت، ص 93، مصنفہ مرزا محمود، نیز الفضل موٴرخہ21اگست 1917اور الفضل موٴرخہ30جولائی 1930)

مرزائی وزیر خارجہ نے قائد اعظم کا جنازہ نہ پڑھا

یہ معلوم عام بات ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خاں وزیر خارجہ پاکستان ، قائد اعظم محمد علی جناح کی نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوا اور الگ بیٹھا رہا ۔ جب اسلامی اخبارات اور مسلمان اس چیز کو منظر عام پر لائے تو جماعت احمدیہ کے طرف سے جواب دیا گیا کہ جناب چوہدری ظفر اللہ خاں پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا ، تمام دنیا جانتی ہے کہ قائد اعظم احمدی نہ تھے، لہٰذا جماعت احمدیہ کے کسی فرد کا ان کا جنازہ نہ پڑھنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔(ٹریکٹ نمبر22، بعنوان احرار علماء کی راست گوئی کا نمونہ، الناشر مہتمم نشر و اشاعت نظامت دعوت و تبلیغ ) صدر انجمن احمدیہ ربوہ ضلع جھنگ

آپ مجھے کافر حکومت کا مسلمان وزیر سمجھ لیں ، یا مسلما ن حکومت کا کافر نوکر ۔ ( سر ظفر اللہ کا جواب، روزنامہ زمیندار لاہور،8 فروری 1950)

سلطنت برطانیہ کا خود کاشتہ پودا

میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید و حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات طبع کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکھٹی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں ۔ (تریاق القلوب، ص 25، مصنفہ مرزا غلام احمد)

نیز تبلیغ رسالت جلد ہفتم ص 19 پر اپنے بارے میں لکھتے ہیں کہ انگریز کا خود کاشتہ پودا ہوں ۔

میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں، نہ مدینہ میں، نہ روم میں، نہ ایران میں، نہ کابل میں، مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لیے میں دعا کرتا ہوں ۔(تبلیغ رسالت ، مرزا غلام احمد جلد 6، ص 69)

بلکہ اس گورنمنٹ کے ہم پر اس قدر احسان ہیں کہ اگر ہم یہاں سے نکل جائیں تو نہ ہمارا مکہ میں گزارا ہو سکتا ہے اور نہ قسطنطنیہ میں تو پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم اس کے برخلاف کوئی خیال اپنے دل میں رکھیں ۔ (ملفوظات احمدیہ ،جلد اول ص 146)

حرمت جہاد

اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے،کیوں کہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔(صفحہ 17 ضمیمہ بہ عنوان گورنمنٹ کی توجہ کے لائق شہادة القرآن )․

دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
( ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ41 مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

پاکستان پر قبضہ کرنے کے ارادے

بلوچستان کی کل آبادی پانچ لاکھ یا چھ لاکھ ہے ۔زیادہ آبادی کو احمدی بنانا مشکل ہے، لیکن تھوڑے آدمیوں کو تو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں، پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبے کو بہت جلد احمدی بنایا جا سکتا ہے، اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنالیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو گا جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے، پس میں جماعت کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آپ لوگو ں کے لیے یہ عمدہ موقع ہے، اس سے فائدہ اٹھائیں اور اسے ضائع نہ ہونے دیں ۔

پس تبلیغ کے ذریعے بلوچستان کو اپنا صوبہ بنالو، تا کہ تاریخ میں آپ کا نام رہے۔ ( مرزا محمود احمد کا بیان، مندرجہ الفضل 13اگست1948ء)

قرآن مجید کی توہین

قرآن شریف میں گندی گالیاں بھری ہیں اور قرآن عظیم سخت زبانی طریق استعمال کر رہا ہے ۔ (ازالہ اوہام، ص 29,28)

میں قرآن کی غلطیاں نکالنے آیا ہوں، جو تفسیروں کی وجہ سے واقع ہو گئی ہیں ۔ (ازالہ اوہام، ص381)

قرآن مجید زمین پرسے اٹھ گیا تھا، میں قرآن کو آسمان پر سے لایا ہوں ۔ (ایضاً حاشیہ، ص 380)

اکھنڈ ہندوستان

یہ اور بات ہے ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں، بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہوجائیں ۔ (مرزا بشیر الدین محمود احمد ، الفضل ، ربوہ ، 17مئی 1947ء)

پاکستان دشمنی

اللہ تعالیٰ اس ملک پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا ۔ آپ (احمدی)بے فکر رہیں ۔ چند دنوں میں (احمدی )خوش خبری سنیں گے کہ یہ ملک صفحہ ہستی سے نیست و نابودہوگیاہے۔ ( مرزا طاہر قادیانی خلیفہ چہارم کا سالانہ جلسہ لنڈن1985)
بشکریہ الفاروق .والیوم 26












____________
راشد صاحب



    Current date/time is Wed Jun 20, 2018 10:03 pm