Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان کا کردار حقائق آمیز ڈاکومنٹری

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان کا کردار حقائق آمیز ڈاکومنٹری

Post by Admin on Fri May 15, 2015 10:32 am

اسلام کے خلاف صلیب کی اس(افغان) جنگ کہ جس میں پاکستان بظاہرامریکہ کااتحا دی ہے اور طالبان ِافغانستان کےخلاف اس کی سر زمین استعمال ہو رہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان شدید مشکلا ت اور خطرات کاشکار ہے، آج دس سال ہو چکے ہیں ۔کوئی بھی منصف مزاج آدمی ، اور حالات سے مکمل آگاہی رکھنے والا اگرغیر جا نبدارانہ تجزیہ کرے تو اس کے سامنے منظر ،کچھ یوں بنتا ہے۔


۱۱/۹ کے وا قعے کے بعد امریکہ نے مسلمانوں کی واحد سپر پاور اور ایٹمی قوت ،پاکستا ن پر شدید دبا ؤ ڈالا ، تباہ و بربا د کر دینے اور پتھر کے تاریک دور میں پہنچا دینے کی دھمکیا ں دیں ۔سارا عالم کفر اس (امریکہ)کے ساتھ کھڑا تھا ۔
پاکستا ن کا ازلی بد ترین دشمن بھارت اس صورت حال سے نہایت خوش اور پاکستان پر کاری ضرب لگانے کے لئے تیار کھڑا نظر آتاتھا ۔
امریکہ، دنیا کے سب سے بڑا عسکری اتحاد ’’ ناٹو ‘‘، جدید ترین ٹیکنالو جی اور وسا ئل کے ساتھ حملہ آورہونے کو تھا ۔ان حالات میں جوش سے زیادہ ہو ش کی ضرورت تھی اور اسلامی حمیت و غیرت کا سہارا لینے کی ضرورت تھی ۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ پورا عالم اسلام اپنے مفادات کے لئےیاتو امریکہ کے ساتھ کھٹرانظر آتاتھا یا قلیل تعداد اس جنگ میں خاموش تماشائی تھی۔ ان مشکل حالات میں اکیلے پاکستا ن کو یہ جنگ لڑنی تھی۔ اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ ایمانی غیرت کا تقاضایہ تھا کہ پاکستان ان صلیبی لشکروں کےسامنے ڈٹ جاتا ،ان کو للکارتااور ان سے بھڑ جاتا ۔لیکن ، یہ سب ایمانی قوت اور مظبوط ترین اعصاب کا متقاضی تھا جس سےبدقسمتی سے ہماراحکمران طبقہ ناواقف و خالی نظر آتاتھا۔ 


ان حالات میں پاکستان نے مجبور ہو کر اپنے گھٹنے ٹیک دیئے اور اپنے مظبوط ترین دوست یعنی افغان طالبان کے خلاف تعاون پر مجبور ہوگیا۔لیکن آج جب حالات نے پلٹہ کھایا اور کمزور نظر آنے والے افغان مجاہدین نے امریکہ کو روس سے زیادہ بری حالت سے دوچار کیا تو سب حیران تھے۔لیکن جب درپردہ کہانیاں سامنے آنے لگی تو دنیاششدرتھی، بظاہر امریکی اتحادی(پاکستان) اسے افغان جنگ میں عزیمت سے دوچار کر چکا تھا۔ پاکستان نے افغان مجاہدین کی خفیہ مدد و نصرت جاری رکھی جو بلا آخر امریکی اور ’’ناٹو‘‘ اتحاد کی ناکامی کی صورت میں سامنےہے۔ آج امریکی حکمران اور انکے یورپی حواری کھلم کھلّا پاکستان کے گلے میں اپنی شکست کا ’’ تمغہ‘‘ ڈالتے نظر آتےہیں۔اور اس وقت تما م کفار کا میڈیا اس کا شور مچاتا اور چیختا نظر آتا ہے اور پاکستان کے خلاف ’’چارج شیٹ ‘‘ پیش کرنے کے لئے مسابقے کی حالت میں ہے،جس کی مثال حال میں پاکستان کےافغان جنگ میں کردار پر مبنی ایک ڈاکومنٹری ہے جسے ’’بی بی سی ‘‘نے ’’سیکرٹ پاکستان ‘‘ کے نام سے نشر کیا ہے اور یہ اب یوٹیوب پر دستیاب ہے۔ 
اور تو اور مہمند ایجنسی کی آرمی چیک پوسٹ پر حملہ، اور بڑی تعداد میں فوجیوں کا جاں بحق ہونا، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکا و اتحادی اپنے آستین کے سانپ سے اب تنگ آگئے ہیں ، جس نے مسلسل ۱۰ سال تک امریکیوں کو افغانستان میں تگنی کا ناچ نچائے رکھا ہے! اور اب جو نئی صف بندیاں ہوتی نظر آ رہی ہیں جس میں: 

پاکستان کے مقابل صف میں ٹی ٹی پی(صرف محسود اور سواتی ! کیونکہ یاد رہے ملا نزیر اور حافظ گل بہادر باوجود ٹی ٹی پی کہلانے کے پاکستان سے معاہدہ کئے ہوئے ہیں، نہ صرف معاہدے بلکہ پاکستان کے ساتھ مل کر ازبج جنگجوؤں کو اپنے اپنے علاقوں سے مار بھگا چکے ہیں۔ اور پاکستان کی بجائے ، افغانستان میں کاروائیاں کرتے ہیں اور حقانی نیٹ ورکس کا پاکستان سے تحاد کسی ڈھکا چھپا نہیں!) ، امریکہ، ناٹو، انڈیا ، روس ، اور اسرائیل کھڑے نظر آتے ہیں!


کفر سے مسلمانوں کے خلاف جنگ میں تعاون یقینا ًایک سنگین جرم ہے اور یہ کام انسان کو کبیرہ گناہ سے کفرو ارتدادتک لے جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ تب (۲۰۰۱)تمام مکاتب فکر کے علماء نے متفقہ طور پر حکومت کو تنبیہ کی اور اس مسئلے پر خبردارکیا اور اس مسئلے کی سنگینی بھی سے ڈرایا۔اور اس کے ساتھ ساتھ امریکی خفیہ منصوبہ جات(جو یقیناً پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور اسلامی تشخص کو تباہ کرنا تھا) کے بارے متنبہ کیا۔ ایک طرف تھے کہ سہمے اور دھمکے ہوئے بزدل حکمران مجبوری کی گردان کرتے نظر آئے تو دوسری طرف ،ہمارے کچھ نا سمجھ و نادان اور دینی علوم سے بے بہرہ یا سطحی علم رکھنے والے اور حالات سے بے بہرہ افراد، اس تعاون کو صرف وصرف کفر اکبر اورارتدا دکیٹگری میں ڈالنا شروع کر دیا۔ یہیں بس نہیں ! بلکہ باقاعدہ اس نظریہ کی بنیاد پر پاکستان میں ’’قتال‘‘ کا فتویٰ و نعرہ لگاتے نظر آئے ۔ حالانکہ کہ کفر سے تعاون کا شرعی حکم ،کبیرہ گناہ کا بھی ہےاور کفر اکبر کا بھی ، جو کہ بہت سے اصول و ضوابط اور حالات کے سہی علم اور تعاون کرنے والے کی کیفیت کے علم کا متقاضی ہے۔


زرا سوچئے ! جو نقشہ اس وقت بن چکا ہے اور حالات دن بدن کھلتے جا رہے، ان حالات میں کفر ارتداد کے فتوے لگانا اور ملک میں دھماکے اور مسلح کاروائیوں سے اسلامیان پاکستان(دانستی و غیر دانستہ) کو خون میں نہلانا ،کہاں کا جہاد اور دینداری ہے ؟اور ان مشکل ترین حالات میں دشمن کو للکارنے کی بجائے اس کے درینہ عزائم(جو یقیناً پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور اسلامی و جہادی تشخص کو تباہ کرناہے) کی تکمیل کہا ں کی اسلام دوستی اور دانشمندی ہے ؟
آخر میں ایک تضاد کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ یہ مفتیان ،دوسروں سے جس دلیری اور جرأت ِایمانی کا مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کسی بات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دشمن کے سامنے ڈٹ جائیں خودہم اس کا عملی مظاہر ہ کرنے سے کیوں کتراتے ہیں ؟
اسلام و جہا د کے ٹھکیدار اور چیمپئن خود دار الکفر میں کیوں پناہ ڈھونڈتے ہیں ،چھپتے کیوں ہیں ؟ایمانی غیرت و حمیت کا تقاضا یہ ہے کہ کھل کر سامنے آئیں اور برطا نیہ اور یورپ میں پناہ لینے کی بجائے ان کی جڑیں کاٹنے کے لئے ان سے جنگ کریں ان کے سا یہ عاطفت سے نکل کر ان پر کاری ضرب لگائیں ۔نہ کہ اپنے ہی بھائیوں کا گلاکاٹنے کے پروانے جاری کریں ،ان کے گھروں اور مساجد کو برباد کریں ، امن کو تباہ اور اموال کو تاراج کریں۔


اللہ تعالی سے دعا ہے کہ تمام مسلمانوں اور انکے حکمرانوں کی فکر درست سمت میں موڑ دے ۔آمین 

اس لنک سے آپ وہ بی بی سی کی ڈاکومنٹری دیکھ سکتے ہیں جو امریکی و سی آئی اے کر اہلکاروں اور افغان طالبان کے بیانات پر مبنی ہے


ایک نقطہ نظر یہ ہے کے امریکا کو شکست طالبان نے پاکستان کی مدد سے دی جو صحیح نہیں
دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ طالبان نے امریکہ کو شکست پاکستان کی مدد سے نہیں دی ہاں وہ قبائلی علاقوں میں موجود ہیں لیکن پاکستان اس سے راضی نہیں


ایک ڈاکومنٹری بی بی سی کی سیکر ٹ پاکستان ہے 
تو یہ بھی تو ہے
US using Pakistan as a scapegoat for failure in Afghanistan: Musharraf (Part I) - YouTube
US using Pakistan as a scapegoat for failure in Afghanistan: Musharraf (Part II) - YouTube
US using Pakistan as a scapegoat for failure in Afghanistan: Musharraf (Part III) - YouTube
جو سابق حکمران مشرف کی ہے کہ امریکا اپنی عسکری ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے 

امریکہ اگر یہ کہے کہ مجھے چند ہزار، غیر منظم، غیر مربوط لوگوں نے شکست دی تو پوری دنیا میں اسکی ساکھ اور خاص طور پر ھیبت ختم ہو جائے گی لوگوں سے اسکا ڈر ختم ہو جائے گا اور پوری دنیا میں مجاہدین کے حوصلے بلند اور کفار کو شکست کا حوصلہ پیدا ہو گا-
لیکں امریکا یہ کہے کہ پاکستان دہشت گردوں کےپیچحے پاکستان ہے تو کامیابی کا سہرا بظاہر پاکستان کے سر بندھے گا


ملا نذیر جو اچھے طالبان میں شمار ھوتے ہیں انکے پاکستان کے بارے میں خیالات یہاں دیکھیں





پاکستان، افغانستان اور ایساف فوج کے حکام کے درمیان اتوار کو روالپنڈی میں ایک سہ فریقی اجلاس ہوا جس میں پاک - افغان سرحد کی سکیورٹی پر بات چیت کی گئی۔

اس اجلاس میں افغانستان میں بین الاقوامی اتحادی فوج ایساف کے سربراہ جنرل جون ایلن، افغان آرمی چیف جنرل شیر محمد کریمی اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے شرکت کی۔

گزشتہ سال نومبر میں پاکستان کی سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کے فضائی حملے کے بعد تینوں ملکوں کے اعلی سطح کے فوجی حکام کے درمیان یہ پہلا باضابطہ اجلاس تھا۔

تینوں ممالک کے اعلیٰ فوجی حکام کے درمیان ان مذاکرات کو پاکستان کے امریکہ اور افغانستان کے ساتھ پچھلے چھ ماہ سے کشیدہ تعلقات میں بہتری کی علامت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

افغانستان میں بین الاقوامی اتحادی فوجوں کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق اتوار کو ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کے بعد جنرل جون ایلن نے کہا کہ مذاکرات سے ان کا ’حوصلہ بڑھا‘ ہے۔

انہوں نے کہا ’مذاکرات سے ناصرف یہ بات سامنی آئی ہے کہ تمام فریقین اہم موضوعات اور مسائل پر تازہ بات چیت کرنے کے خواہش مند ہیں بلکہ ان سے یہ اتفاق رائے بھی پایا گیا کہ اس طرح کہ مذاکرات ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کے لیے ضروری ہیں تاکہ افغانستان آئندہ شدت پسندوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ نہ رہے۔‘

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے چند سطروں کے اعلامیے میں اسے تینوں ملکوں کے سہ فریقی فوجی کمیشن کی 35 ویں ملاقات کہا ہے۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ سرحد کے کنٹرول کے لیے کیے گئے اقدامات اور وہاں ناپسندیدہ واقعات کی روک تھام کے لیے پہلے سے موجود طریقہ کار پر بات چیت ہوئی۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار احمد رضا کا کہنا ہے کہ جنرل جون ایلن نے ایک روز پہلے بھی جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ جی ایچ کیو راولپنڈی میں مذاکرات کیے تھے جن میں اطلاعات کے مطابق پاکستان کے راستے نیٹو کی رسد کے راستوں کی بحالی پر بھی بات ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد پاکستان نے افغانستان میں تعینات امریکی اور بین الاقوامی اتحادی فوجوں کے لیے اپنی سرزمین سے سامان رسد کی فراہمی معطل کررکھی ہے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ گیارہ سالہ تعاون پر نظر ثانی بھی کی ہے۔

پاکستانی پارلیمینٹ نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پر نظر ثانی کے بعد جو سفارشات مرتب کی ہیں ان میں امریکہ سے اس حملے پر غیرمشروط معافی مانگنے، پاکستانی سرزمین پر ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ اور امریکہ کے ساتھ تعاون کے لیے نئی شرائط رکھی ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق پچھلے ایک ہفتے سے امریکی ماہرین کی ایک ٹیم پاکستان میں موجود ہے جو پاکستانی حکام کے ساتھ دو طرفہ تعاون، خاص طور پر نیٹو کی سپلائی لائن کی بحالی کے معاملے پر بات چیت کررہی ہے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان بات چیت میں پاکستان کی وزات خزانہ کے حکام کلیدی کردار ادا کررہے ہیں کیونکہ پاکستان اپنی سرزمین سے نیٹو کے سامان رسد کی بحالی کو نئے ٹیکسز اور فیسوں سے مشروط کرنا چاہتا ہے۔

افغانستان کے مستقبل کے بارے میں بین الاقوامی لائحہ عمل کی تیاری کے لیے نیٹو نے اسی مہینے کے تیسرے ہفتے میں امریکی شہر شکاگو میں ایک کانفرنس بلائی ہے جس میں پاکستان کو شرکت کے لیے اب تک دعوت نہیں دی گئی۔ نیٹو کے سربراہ آنرز فو راسموسین نے ایک دن قبل کہا کہ پاکستان اس کانفرنس کے انعقاد سے پہلے نیٹو کی سپلائی لائن بحال کرے۔






پاکستان میں آئل ٹینکرز کے مالکان کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت نے یقین دہانی کرا دی ہے کہ افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے سپلائی ایک ہفتے میں بحال ہونے کی امید ہے اور وہ اس سلسلے میں اپنی تیاری مکمل رکھیں۔

آل پاکستان آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن کے سربراہ یوسف شاہوانی نے منگل کو کراچی پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اور دیگر متعلقہ تنظیموں کے نمائندوں کا وزیرِ داخلہ رحمان ملک کے ساتھ اسلام آباد میں ایک اجلاس ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو سامان رسد اور تیل کی ترسیل کی بحالی کے سلسلے میں بات کی گئی۔

ان کے بقول وزیرِ داخلہ نے اجلاس کو بتایا کہ’توقع ہے کہ نیٹو افواج کو سامان اور تیل کی ترسیل کی بحالی اگلے چند روز میں کر دی جائے۔‘

یوسف شاہوانی نے کہا ’وزیرِ داخلہ نے نیٹو کو سپلائی کی ممکنہ بحالی کے تناظر میں ہمیں اپنے ٹینکرز تیار رکھنے کے لیے کہا ہے اور یقین دلایا ہے کہ ایک ہفتے میں سپلائی بحال ہوسکتی ہے۔‘

نامہ نگار ارمان صابر کے مطابق نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے سیکرٹری جنرل شفیق کاکڑ نے کہا کہ نیٹو افواج کو تیل فراہم کرنے والے ٹینکروں کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔

ان کے بقول ’ہمارے آئل ٹینکروں پر حملے کیے جاتے ہیں یا پھر ان کا تیل چوری کر لیا جاتا ہے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ آئل ٹینکروں کو راستے میں پولیس موبائلوں کے ذریعے کا تحفظ فراہم کرے۔‘

یوسف شاہوانی نے بتایا کہ تیل کی ترسیل بحال ہونے کے بعد امید ہے کہ روزانہ چار سو سے ساڑھے چار سو آئل ٹینکرز کراچی سے تیل لیکر نکلیں گے جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کو سپلائی کرنے والے ٹینکرز نے اپنی تیاری مکمل کرلی ہے اور جیسے ہی اجازت ملے گی ٹینکرز روانہ ہونا شروع ہو جائیں گے۔

کیا کہا پانچ ہزار ڈالر فی ٹرک !

ابے کیا گھاس کھا گیا ہے !

اب تک تو ڈھائی سو ڈالر فی ٹرک کی ٹپ پر کورنش بجا لاتا تھا ! ضرور تجھے کسی نے پٹی پڑھائی ہے۔۔۔اپنا قد دیکھ اور فرمائش دیکھ !

ہاں ٹھیک ہے حسنی مبارک نے جنگِ خلیج میں ہمیں عراق کے خلاف راہداری دینے کے بدلے قرضے معاف کرا لیے تھےمگر وہ اور بھی تو بہت سے کام کرتا تھا ہمارے۔۔۔۔۔تو کرے گا وہ والے کام ؟

دیکھ بار بار چھچوروں کی طرح شام کا حوالہ نا دے۔ بشار الاسد کے ابا نے آڑے وقت میں عراق کی سرحد بند کرکے ہماری مدد کی تھی تبھی تو ہم نے اسے دھشت گردوں کی فہرست سے نکالا اور اس کے بیٹے نے سی آئی اے کی امانت القاعدہ قیدیوں سے مار مار کر اعتراف کروا لیا ۔مگر تو نے ایسی کیا توپ چلا دی کہ پانچ ہزار ڈالر فی ٹرک مانگ رہا ہے۔

میں کب کہہ رہا ہوں کہ تو نے رمزی یوسف اور ایمل کانسی کا پتہ نہیں بتایا ۔ابو زبیدہ ، خالد شیخ محمد ، ابولفراج البی ، ملا ضعیف ۔۔۔۔بکواس نا کر ۔۔۔۔ان میں سے کونسا دانہ تو نے بغیر پیمنٹ کے ہمارے حوالے کیا ؟ تجھے تو ریمنڈ ڈیوس کی بھی پیمنٹ کردی تھی بیٹے۔۔۔۔زیادہ غصہ نا دلا ورنہ ڈاکٹر قدیر اور دو مئی کا ایبٹ آباد مجھے بھی یاد ہے ۔۔۔۔سالا مانگتا ہے پانچ ہزار ڈالر فی ٹرک۔۔۔۔


معافی ؟ ہا ہا ہا ! تو تو بالکل ہی پگلا گیا ہے۔۔۔میں نے تو آج تک اپنے باپ سے معافی نہیں مانگی ۔ تو کس کھیت کی مولی ہے۔۔۔جاپان سے مانگی تھی ؟ ویتنام سے مانگی تھی ؟ عراقیوں سے مانگی ؟ کیوبا سے مانگی ؟ پانامہ سے مانگی ؟؟ چلی سے مانگی ؟ گریناڈا سے مانگی کیا ؟ ایران سے مانگی اس کا مسافر بردار طیارہ مار گرانے پر ؟ نہیں نا۔۔۔

اب تو طعنہ دے گا کہ افغانستان سے تین دفعہ مانگی ! ہاں مانگی ۔۔وہاں تو کرزئی ہے۔۔۔وقت پڑے گا تو گدھے سے بھی مانگ لوں گا۔ تجھ سے پھر بھی نہیں مانگوں گا۔۔۔۔

ابے احسان فراموش ۔۔۔اکہتر میں تجھے کس نے نقشے سے مٹنے سے بچایا تھا ؟ بھول گیا ؟ تیرے ایٹمی پروگرام سے جان بوجھ کر آنکھیں کس نے بند کی تھیں ؟ بھول گیا ؟ تجھے گندم ، اسلحہ اور قرضے کون دیتا اور دلواتا رہا ہے ؟ بھول گیا ؟ تجھے کارگل کی دلدل سے کس نے نکالا ؟ گھر میں نہیں دانے، اماں چلی بھنانے ؟

اوئے ۔۔۔۔ ڈھائی سو ڈالر فی ٹرک پر کورنش بجانے والے !! تو نے کبھی پانچ ہزار ڈالر اکھٹے دیکھے بھی ہیں ؟ لے چل پکڑ دو ہزار ڈالر فی ٹرک ؟ ابے لے نا !!!! اچھا چل یہ لے ڈھائی ہزار ڈالر فی ٹرک۔یوں سمجھ لے کہ یہ پانچ سو ڈالر فالتو میں معافی تلافی کی مد میں دے رہا ہوں۔۔۔اب زیادہ مت پھیل۔۔۔اچھا کام کرے گا تو اور خرچی بھی ملے گی۔۔۔ہاں ہاں پچیس فوجیوں کے پیسے بھی مل جائیں گے۔۔۔۔

اب کیوں منہ بسورے کھڑا ہے ؟ اوئے جواب کیوں نہیں دیتا مایوسی کی لوکل ٹرین !

کیا کہا ؟ ڈھائی ہزار ڈالر میں ٹرک وارا نہیں کھاتا ۔۔لا یہ پیسے واپس کر۔۔اب تجھے ٹھینگا دوں گا۔۔بلکہ ٹھینگا بھی نہیں ملے گا۔۔

ہا ہا ہا ۔۔۔۔مجھے پتہ تھا تو کبھی بھی واپس نہیں کرے گا۔۔۔ڈھائی ہزار ڈالر بھی نہیں۔۔۔مفت میں سانپ مل جائے تو وہ بھی نہیں۔۔۔مجھے پتہ تھا۔۔۔تو مجھے ایویں ہی تنگ کررہا ہے۔۔۔ہا ہا ہا۔۔۔تو بہت شرارتی ہوگیا ہے ۔۔۔ہا ہا ہا ہا۔۔۔اب سارے پیسے خود ہی نا رکھ لیجو۔۔کچھ انہیں بھی دے دیجو ۔۔۔ہا ہا ہا ہا۔۔۔








یہ فوجی آپکو سچ نہیں بتائیں گے اس لیے کسی مجاہد سے آپ یہ بات پوچھیں

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ﴿٦﴾
اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ






____________
راشد صاحب

    Current date/time is Fri Sep 21, 2018 11:49 am