Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


بین الخدماتی مخابرات آی ایس آی

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

بین الخدماتی مخابرات آی ایس آی

Post by Admin on Sun May 10, 2015 11:11 am

محکمۂ بین الاقوامی مخابرات جسے انگریزی میں ڈائریکٹوریٹ آف انٹر سروسز انٹلیجنس یا مختصراً انٹر سروسز انٹلیجنس (inter-services intelligence) اور ISI (آئی ایس آئی) کہاجاتا ہے،پاکستان کی سب سے بڑی مایہ ناز خفیہ ایجنسی ہے. جو ملکی مفادات کی حفاظت اور دشمن ایجنٹوں کی تخریبی کاروائیوں کا قبل از وقت پتا چلا کر انہیں ختم کرنے کےلیے بنائی گئی ہے. اس سے پہلےانٹیلیجنس بیورو ‏‎(I.B)‎‏ اور ملٹری انٹیلیجنس ‏‎(M.I)‎‏ کا قیام عمل میں آیا تھا. لیکن بعد میں اسکا قیام عمل میں آیا.
تاریخ
1947 میں آزادی حاصل کرنے کے بعد دو نئی انٹیلیجنس ایجنسیوں انٹیلیجنس بیورو اور ملٹری انٹیلیجنس کا قیام عمل میں آیا.لیکن خفیہ اطلاعات کا تینوں مسلح افواج سے تبادلہ کرنے میں ملٹری انٹیلیجنس کی کمزوری کی وجہ سے I.S.I کا قیام عمل میں لایا گیا. 1948 میں ایک آسٹریلوی نژاد برطانوی فوجی افسر میجر جنرل رابرٹ کا‎ؤ‎تھم‎ (جو اس وقت پاکستانی فوج میں ڈپٹی چیف آف اسٹاف تھے) نے I.S.I قائم کی.اس وقت آئی ایس آئی میں تینوں مسلح افواج سے افسران شامل کیے گئے.
تنظیم
14 جولائی 1948ء میں لیفٹیننٹ کرنل شاہد حمید جنہیں بعد میں دو ستارہ میجر جنرل بنایا گیا.پھر میجر جنرل (ریٹائرڈ)سکندر مرزا (جو اس وقت ڈیفنس سیکرٹری تھے) نے انہیں ملٹری انٹیلیجنس کا ڈائریکٹر بنا دیا.پھر انہیں آئی ایس آئی کی تنظیم کرنے کو کہا گیا.اور انہوں نے یہ کام میجر جنرل رابرٹ کاتھوم (جو اس وقت ڈپٹی چیف آف اسٹاف تھے) کی مدد سے کیا.تینوں مسلح افواج سے افسران لیے گئے.اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سویلین بھی بھرتی کیے گئے.I.S.I کی موجودہ ترقی کے پیچھے میجر جنرل کاتھوم کا ذہن کارفرما تھا.جو I.S.I کے 1950-59 تک ڈائریکٹر جنرل رہے. I.S.I کا ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں واقع ہے.اسکا سربراہ حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل ہوتا ہے.اسکے ماتحت مزید 3 ڈپٹی ڈائریکٹر جنرلز کام کرتے ہیں.آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ ظہیر الاسلام ہیں.
بھارتی خفیہ ایجنسی راآئی ایس آئی کی دیرینہ مخالف ہے. لیکن فتح ہمیشہ آئی ایس آئی کی ہی ہوئی ہے. آئی ایس آئی نے بھارتی فوجی حملوں اور خفیہ فوجی مشقوں کی فائلز اندرا گاندھی کی میز پر پہنچنے سے پہلے ہی اڑا لی تھیں. یوں بھارتیوں کے حملے سے پہلے ہی پاکستانی فوج ہوشیار ہوگئی اور مورچہ بندی کر لی. جس پر بھارتی سورما دم دبا کر بھاگ گئے.


سابق فوجی اور سویلین پاکستانیوں کی ایک نئی امریکہ نواز ٹیم نے پاکستان کی افواج اور آی ایس آی پر قبضہ کرنا تھا۔ حقانی نے میمو میں انکی نشاندہی کی اور منصور اعجاز نے انکے نام زبانی طور پر امریکیوں کو بتائے۔ وہ کون ہیں؟


Click here to read the English version of this report


حسین حقانی اس بات کی شدت سے نفی کرتے ہیں۔ ایک اہم گواہ کو دور رکھنے کے لئے دھمکیاں دی جارہی ہیں، اور امریکا صدر آصف علی زرداری کی نا اہل حکومت کو بچانے کے لئے کوششوں میں مصروف ہے۔



حقیقت یہ ہے کہ 'میمو' غداری کے لئے پاکستان میں ایک نئی اونچائی ہے۔



افسوس ہے کہ پاکستانی اپنے ملک کے ساتھ غدر کرنے میں نئی داستانیں رقم کررہے ہیں جو غداری کی تاریخ میں بھی شاید انوکھی ہوں۔ یہ کارنامے پاکستانی عوام کے نھیں ہیں، جو پاکستان پرست محب وطن ہیں۔ یہ کارنامے پاکستان کا بکا ہوا حکمران طبقہ سرانجام دے رہا ہے۔



ایک منتخب حکومت کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی غداری نھیں ہوسکتی کہ وہ خفیہ طور پر ایک غیر ملک کے ساتھ ملکر اپنے ہی ملک کی فوجی قیادت کا سر کاٹنے کی سازش کرے، قوم کے اسٹریٹیجک ہتھیاروں کا سودا کرے، اور رضا کارانہ طور پر ملک کے اہم سٹریٹجک مفادات پر ہتھیار ڈال دے۔



میمو کیس میں پاکستانی وفاقی حکومت ان تینوں کاموں میں ملوث پائی گئی ہے۔



اور کوئی شک نہیں کہ پاکستانی صدر کے ہم راز اور ساتھی، جناب حسین حقانی، اس سازش میں ملوث ہیں۔



لیکن حقانی صاحب اکیلے نھیں ہیں۔ ان کے امریکی شراکت داروں کے علاوہ پاکستانی شراکت داروں کی ایک فہرست بھی موجود ہے۔



یہ پاکستان دشمن میمو ایک مکمل پالیسی ہے۔ پاکستان کو بغیر گولی چلائے ہتیار ڈالنے کا یہ بھترین نسخہ ہے۔ اور یہ نسخہ اکیلے حسین حقانی کا تیار کردہ نھیں ہے۔ اس میں کچھ ریٹائرڈ فوجی اور سویلین افراد شامل ہیں جو ماضی میں سویلین منصبوں پر فائز رہیں ہیں۔ یہ کام ان طاقتور پاکستانیوں نے صرف ایک طاقتور غیر ملکی حکومت، ریاست ہائے متحدہ امریکہ، اور اس کی فوج اور انٹیلی جنس کی خدمت میں کیا۔



پاکستانی شہریوں، ایمان دار سیاستدانوں (اگر کوئی ہے)، اور ملک کی قومی سلامتی کے مینیجرز پر فرض عائد ہے کہ وہ اس کیس کو سنجیدگی سے لیں۔



ایک دن شاید میمو سکولوں میں پڑھی جائیگی کہ ملکوں کے ساتھ غداری کس طرح کی جاتی ہے، لیکن فی الحال آپ میمو کا مندرجہ ذیل جملہ با جملہ تجزیہ ملاحظہ کریں اور دیکھیں کس طرح اس میمو نے غداری کی حدیں توڑدیں۔ یہ پڑھنے کے بعد آپ کو کسی ثبوت کی ضرورت نھیں پڑے گی۔ اس مضمون کا مقصد پاکستانیوں کو آگاہ کرنا ہے تاکہ کوئی بھی اس کیس کو قالین کے تحت نہ چھپا سکے۔  



[میمو میں حسین حقانی اور زارداری حکومت کیخلاف شواھد کے بارے میں آپ ہمارا تفصیلی جائزہ رپورٹ اس لنک پر پڑھ سکتے ہیں:
bit.ly wpCNso
مندرجہ ذیل اردو زبان میں انگریزی رپورٹ کا مختصر ملاحظہ فرمائیں]



غداری کا میمو



۱۔  میمو کے مصنفین نے 'سویلینز' اور 'فوج' کے درمیان حکومت کو تقسیم کرکے پاکستان میں قومی تقسیم اور خلفشار پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہ تقسیم پاکستانیوں میں لڑائی کرانے کے مرادف ہے۔ [میمو کا پھلا فقرہ]



۲۔  میمو کے مصنفین نے پاکستان میں فوجی بغاوت کے ایک غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی اور ملک کو خطے میں جنگی صورتحال کے باوجود بدترین اندرونی افرا تفریح میں دکھیلنے کی کوشش کی۔۔



۳۔  میمو کے مصنفین نے ایک گمراہ کن جملہ، یعنی کہ 'سول۔فوجی تعلقات' استعمال کرتے ہوئے پاکستانی مسلح افواج کے خلاف سازش کی اور وہ بھی ایک غیر ملک کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے۔ یاد رہے کہ سول۔فوجی تعلقات دیگر مسائل کی طرح ایک اندرونی پاکستانی معاملہ ہے۔ اس میں غیر ممالک کو ملوث نھیں کیا جاسکتا، جیسا کہ حقانی میمو میں کرنی کی کوشش کی گئی۔



۴۔  میمو کے مصنفین نے آئی ایس آئی پر اسلام آباد میں سی آئی اے کے اسٹیشن چیف کا نام فاش کرنے کا الزام لگایا ہے۔



۵۔  میمو کے مصنفین نے پاکستان پر القاعدہ دھشت گرد تنظیم کا گڑہ ہونے کا الزام لگایا ہے جو سراسر غلط ہے۔



۶۔  میمو کے مصنفین نے ' 1971لمحے' کے اصطلاح کا استعمال کیا اور امریکی حکومت کو مشورہ دیا کہ یہ جملہ استعمال کرکے پاکستانی فوج کو بلیک میل کا جائے۔ اس کا مطلب تھا پاکستانی فوج کو ملک توڑنے کی دھمکی دینا اگر فوج نے سی آئی اے ویزوں کے مسئلے پر زرداری حکومت اور حسین حقانی سے پوچہ گچہ کی۔



۷۔  میمو کے مصنفین نے امریکا سے پاکستان کی فوجی قیادت کو تبدیل کرنے کا وعدہ کیا [پیرا تین]



۸۔  میمو مصنفین نے وعدہ کیا کہ ایک نئی ’امریکہ نواز‘ پاکستانی قومی سلامتی  ٹیم فوج اور آی ایس آی کو چلائے گی۔ یہ ٹیم ایسے پاکستانیوں پر مشتمل ہے جن کے طویل عرصے سے امریکی حکومت، فوج اور سی آی اے سے گھرے تعلقات ہیں، بقول میمو کے۔۔



۹۔  میمو مصنفین نے تجویز دی کہ پاکستانی سرزمین پر امریکی فوج اور انٹیلی جنس آپریشنز کی اجازت دی جائیگی۔



۱۰۔ پاکستان کے جوہری پروگرام پر امریکی نگرانی کی تجویز پیش کی۔





اس میمو یا یادداشت کا آخری فقرہ انتھائی اھمیت کا حامل ہے۔ اسے پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کے خلاف یہ سازش کتنی آگے نکل چکی ہے۔ اس فقرے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سابق فوجی اور سویلین پاکستانیوں کی ایک پوری ٹیم نے اس میمو کو لکھنے میں حصہ لیا۔ ان پاکستانیوں کے نام میمو میں موجود نھیں ہیں، لیکن یہ واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ انکے نام زبانی طور پر ایڈمرل مائیک مولن کو بتادیئے گئے ہیں، جو کہ اس وقت کے امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس تھے

    Current date/time is Thu Jul 19, 2018 3:56 pm