Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


جنگل کا قانون

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

جنگل کا قانون

Post by Admin on Sun May 03, 2015 5:01 am

اس وقت ہم پاکستان کی تاریخ کے یادگار ایام سے گزر رہے ہیں۔ کوئی چوتھائی صدی بعدا یسا ہوا کہ ڈالر کی قیمت کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ مستحکم ہوا ہے۔ توقعات وابستہ کی جارہی ہیں پاکستان معیشت اب تیزی سے ترقی کرے گی۔ دعوے کیے جارہے ہیں بہت جلدعوام کے وارے نیارے ہوجائیں گے۔ 
اس میں شک نہیں موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیاں بعض لحاظ سے خوش آیند ہیں اور ان کے کچھ بہتر نتائج بھی سامنے آرہے ہیں، مگر ابھی تک یہ نتائج اعداد و شمار ہی کی دنیا میں ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ بڑے تاجروں اور صنعت کاروں کو اس سے ریلیف ملا ہے۔ 
بالفرض مان لیا جائے کہ اہلِ پاکستان کے مزید چند فیصد لوگ اچھا کھانے کمانے لگے ہیں تب بھی اس کا یہ مطلب نہیں نکل سکتا کہ پاکستان مالی لحاظ سے خوشحال ہوگیا ہے، کیونکہ کسی بھی فرد، گھر، خاندان یا ادارے کی مالی خوشحالی یا بدحالی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ کس قدر خود کفیل ہے؟ ا س کی آمدن اس کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی ہے یا ناکافی؟ اس کا فیصلہ صرف ایک بات سے ہوتا ہے۔ یہ دیکھ لیں کہ وہ مقروض ہے یا نہیں۔ اگر وہ مقروض ہے تواس کاصاف مطلب ہے اس کے اخراجات اس کی آمدن سے زیادہ ہیں، تبھی وہ دوسروں سے پیسہ پکڑنے پر مجبور ہوا۔
اگر صورتحال یہ ہو کہ وہ مسلسل قرض لیتا چلا جارہا ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ مکمل مالی تباہی کی جانب جارہا ہے۔ کروڑوں اربوں کے اس مالک کے پاس شاید انجام کار کچھ بھی نہ بچے۔ 
اس حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ملکی معیشت کا جائزہ لیں تو صورتحال نہایت اذیت ناک ہے۔ ملک پر قرضوں کا بوجھ 70 ہزار ارب روپے سے متجاوز ہوچکا ہے۔ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں پاکستانی معیشت کی گاڑی بالکل جام ہورہی تھی۔ اسے چلانے کے لیے سارا ایندھن باہر سے لیا جارہا تھا۔ پاکستان کی تاریخ کے 60 سالوں میں اتنے قرضے نہیں لیے گئے، جتنے زرداری حکومت نے 5 سالوں میں لیے۔ 2007ء میں پاکستان کے سر پر 6 ہزار 691 ارب روپے کا قرضہ تھا۔ زرداری حکومت جب 2013ء میں رخصت ہوئی تو یہ قرضہ 16 ہزار 228 ارب روپے ہوچکا تھا۔ گویا 5 سال میں 10 ہزار ارب ڈالر قرض لیا گیا۔ اس قرض سے پاکستان میں کتنی ملیں اور فیکٹریاں لگیں؟ پشاور سے کراچی تک کتنی شاہراہیں بنیں؟ توانائی کے کتنے منصوبے وجود میں آئے؟ چھوٹے چھوٹے شہروں میں کتنے شاندار پُر سہولت ہسپتال کھلے؟ کتنے ہزار جدید آسائشوں سے آراستہ اسکول و کالج شروع ہوئے؟ عوام کوکس قدر ریلیف ملا؟ بیرون ملک تجارت کتنی چمکی؟ عوام کے ہاتھ کیا آیا؟ دس دس بیس بیس ہزار کے قرض کے لیے بینکوں کے چکر لگانے والے بیروزگاروں کو کیا کیا ذرائع روزگار میسر آئے؟ علاج معالجے کے لیے ہسپتال کے کاؤنٹر سے لے کر لان تک قطاروں میں کھڑے، بیٹھے اور لیٹے مریض حکومت کو کیا کیا دعائیں دیتے ہوئے کبھی ہسپتال اور کبھی دنیاسے رخصت ہوئے؟
ن تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔ اس لیے کہ جہاں صدرِ مملکت کے بیرونی دوروں کے دوران ہوٹلوں میں 4 روزہ قیام پر ایک لاکھ پونڈ خرچ کردیے جاتے ہوں۔ 
مجموعی طور پر 5 سالہ حکومت میں درجنوں بیرونی دوروں پر اَڑھائی کھرب روپے خرچ ہوئے ہوں۔ اس گنگا سے پوری حکومتی ٹیم اوپر سے لے کر نیچے تک اپنے اپنے قد و کاٹھ کے مطابق اَشنان کرتی رہی ہو۔ وہاں عوام کے حصے میں تو بس ان کے دھوون کے کچھ قطرے ہیں آسکتے ہیں۔ موجودہ حکومت ملکی معیشت میں بہتر ی لانے کے دعوے کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے۔ بظاہر کچھ امید افزا اقدامات ہو بھی رہے ہیں، مگر کیا واقعی معیشت بہتر ہوئی ہے یا یہ صرف قرض لے لے کر قوم کو مقروض کرنے کی ایک نئی دوڑ ہے۔ خود سرکاری اعداد و شما ر کے مطابق اس وقت پاکستان کے ذمے قرض 17 ہزار 356 ارب سے متجاوز ہوچکا ہے۔ حکومت نے اپنے ابتدائی 3 ماہ میں ایک ہزار 128 اَرب روپے قرض لیا تھا، جس میں سے ساڑھے 6 ارب ڈالر کا قرضہ آئی ایم ایف کا دیا ہوا ہے جو 2008ء میں لیے گئے قرضوں کا سود ادا کرنے کے لیے ہے۔ دوسری طرف زرمبادلہ کے ذخائر جو جون 2013ء میں 11 ارب ڈالر سے زیادہ تھے، اب تقریباً 3 ارب ڈالر پر آچکے ہیں۔ حکومت کی یہ حالت ہے اور اُدھر عوام کا یہ حال ہے کہ زندگی سخت سے سخت تر ہوگئی ہے۔ اشیائے خورد و نوش غریب آدمی کی دسترس سے باہر ہیں۔ آٹا 50 روپے کلو تک پہنچ رہا ہے۔ پکانے کا تیل 200 روپے لیٹر کو چھورہا ہے۔ دال چاول کا ریٹ ڈیڑھ سے 200 روپے کلو تک ہے۔ چینی 60 سے 70 تک فروخت ہورہی ہے۔ دودھ 70 سے 80 روپے لٹر بک رہا ہے۔ اگرچہ حکومتی ریٹ لسٹ میں یہ سب چیزیں 15، 20 روپے کم دکھائی دیتی ہیں، مگر تاجروں کے لیے کم ہی ہیں جو جائز نفع لیتے ہیں۔ زیادہ ترکی کوشش ہوتی ہے کہ گاہک اپنی چمڑی انہیں دے کر ہی رخصت ہو۔ بجلی اور گیس کے محکمے چھر ی چاقو تیز کرکے عوام کی تکا بوٹی کرنے میں مشغول ہیں۔ جہاں دو وقت مشکل سے چولہا جلتا ہوو ہاں گیس کا بل 2 ہزار سے اوپر آرہا ہے۔ جہاں دو پنکھے اور دو بلب 24 گھنٹے میں مشکل سے 12 گھنٹے چلتے ہوں وہاں بجلی کا بل 15 سو سے اڑھائی ہزار تک آرہا ہے۔ موبائل کمپنیاں عوام کو ذبح کررہی ہیں۔ ہر 100 روپے پر 35 روپے کاٹے جارہے ہیں۔ غرض عوام کی حالت پہلے کی طرح اب بھی قابلِ رحم ہے۔ 
ہرسیاست دان مہنگائی کی اس شرح پر فکر مندی کا اظہار کرتا ہے جس کا مقصد صرف عوام کی ہمدردی بٹورنا ہوتا ہے۔ ورنہ حقیقت میں انہیں اس مہنگائی سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اس لیے کہ اشیائے خورد و نوش کے نرخ بڑھنے کا اصل دباؤ غریب طبقے پر ہی پڑتا ہے۔ یہ چیزیں مہنگی ہونے سے گھر کے اخراجاتی بوجھ میں ہر ماہ 2، 4 ہزار روپے ہی کا اضافہ ہوتا ہے، مگر یہ 2، 4 ہزار اضافی روپے حاصل کرنا اس طبقے کے لیے جان جوکھم کا کام ہوتا ہے جن کی آمدن 5 سے 15 ہزار کے درمیان ہوتی ہے۔ جہاں تک امرا کا تعلق ہے، انہیں پیٹرول کے مہنگے ہونے سے ضرور فرق پڑتا ہے، مگر کچن کی چیزوں کے نرخ بڑھنے سے انہیں نقصان نہیں فائدہ ہوتا ہے، کیونکہ یہ نرخ بڑھانے والے اور مصنوعی مہنگائی لانے والے یہی لوگ ہوتے ہیں۔ اگر یہ چیزیں مہنگی ہونے سے ان کے گھر کے خر چ میں 10 ہزار کا اضافہ ہوتا ہے تو اس کی جگہ 10 کروڑ روپے انہیں اضافی مل جاتے ہیں۔ 
ایسے ہی معاشرے پر جنگل کے قانون کا اطلاق ہوتا ہے جہاں زورآور سب کچھ کرسکتا ہے اور زیرِدست بے دست وپا، بلکہ شاید جنگل ایسے معاشرے سے کہیں بہتر ہے، کیونکہ شیر اور ریچھ جیسے خونخوار درندے بھی بھوکا ہونے پر ہی شکار کرتے ہیں۔ پیٹ بھر اہو تو وہ بھی خاموشی سے اپنی راہ چلتے جاتے ہیں۔ قدرت نے قناعت کا سبق انہیں بھی ودیعت کر رکھا ہے، مگر جانور نما انسانوں کی بھوک کبھی ختم نہیں ہوتی۔ غربت، بھوک، افلاس اور قرضوں سے تنگ آکر ہوئے خودکشی کرنے والے اور ہسپتالوں میں ہزارہا روپے فیس ادا نہ کرسکنے والے بلاعلاج کے سسک سسک کے مرنے والے، ان کی بھوک کی بھینٹ چڑھتے جارہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی حرص کا غار کبھی پُر نہیں ہوتا۔ اسے قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے۔ 
اگر معاشرہ ایسے لوگوں کی غلامی اور ان کی خاطر پیسہ پیدا کرنے کے لیے بنا ہے تو ایسے معاشرے کا وجود خود دنیا کے دامن پر ایک دھبہ ہے۔ اگر کوئی حکومت ایسے مگرمچھوں سے عوام کو نجات نہ دلاسکے تو خواص کی موجودگی کا جواز ختم ہوجاتا ہے۔ حکومت کا مقصد ہی کمزوروں اور مظلوموں کو حق دلانا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے پہلے خطبے میں یہی تو فرمایا تھا: ’’تم میں کمزور لوگ میرے نزدیک سب سے طاقتور ہیں۔ طاقتور لوگ میرے نزدیک سب سے کمزور ہیں اور جب تک وہ کمزوروں کا حق دبائیں گے تومیں یہ حق چھین کرلینے تک چین سے نہیں بیٹھ سکتا۔ ‘‘ گرحکمران اس روح اور اس جذبے سے آراستہ ہوں تبھی معاشرے کے سدھا رکی اُمید ہوگی۔ تبھی ہماری معاشی بدحالی کا مداوا ہوگا اور تبھی ہم دنیا میں ایک مقروض قوم کی جگہ ایک باوقار ملت کے طور پر جانے جائیں گے۔


____________
راشد صاحب

    Current date/time is Fri Sep 21, 2018 4:45 am