Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


صرف پتھر اُٹھانے کی دیر ہے! / ایسا کیوں ہوتا ہے؟

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

صرف پتھر اُٹھانے کی دیر ہے! / ایسا کیوں ہوتا ہے؟

Post by Admin on Sun May 03, 2015 4:32 am

جب ایسا لمحہ آن پہنچے کہ قوم کی واضح اکثریت اپنے مستقبل سے مایوس، حال سے برگشتہ اور ماضی پر لعنت بھیج رہی ہو تو تاریخ بتاتی ہے کہ پھر اس کی عمارت دھڑام سے گرجاتی ہے۔ اقتدار کے ایوان، کاروبار کے مراکز اور استحکام کے ذمہ دار ادارے ایک زوردار دھماکے سے زمیں بوس ہوجاتے ہیں۔ وہ جو سروں پر تاج سجائے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بھی اقتدار کی مسند مضبوط کررہے ہوتے ہیں۔ ان کے تاج ہوا میں اُچھال دیے جاتے ہیں۔ جن کی دولت انہیں اس غرور میں مبتلا کیے ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنی آنے والی سات پشتوں کے رزق کا بھی اہتمام کر رکھا ہے۔ ان کا یہ اہتمام بھوکے ننگوں کے ہاتھوں بکھر کر رہ جاتا ہے۔ جنہیں قوت بازو پر ناز ہوتا ہے، جو تیر و تلوار یا بندوق کی طاقت پر بھروسہ کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری طاقت، قوت اور ہیبت لوگوں کو نکیل ڈال دے گی۔ ہماری صلاحیت ہی امن قائم کرتی ہے، چین بحال کرتی ہے، لیکن جب ایسا لمحہ آتا ہے تو تاریخ شاہد ہے کہ بندوقیں کندھوں سے لٹکی رہ جاتی ہیں اور انہیں سیدھا یا استعمال کرنے کا موقع تک نہیں ملتا۔ 
ایسا کب اور کیوں ہوتا ہے؟ اور کیا ہم پر بھی یہ وقت آن پہنچا ہے؟ اس کی خبر تو اللہ ہی جانتا ہے کہ وہی عالم الغیب ہے، اسی کے علم میں ہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ لیکن مریض کی حالت کا اندازہ لگانے والے طبیب تو مدتوں سے اس قوم کو آپریشن کے ذریعے سرطان کی گلٹیوں سے نجات پالینے کا مشورہ دیتے چلے آرہے ہیں، لیکن سوال کرنے والے کہتے ہیں کہ کون سا ایسا ماہر سرجن ہے؟
کوئی بھی تو نہیں۔ جو آپریشن کی میز سجاتا ہے، خود اسی مرض کی لذت میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ یہ مکمل مایوسی کا لمحہ ہوتا ہے جس کی کوکھ سے اللہ کے فیصلے جنم لیتے ہیں۔ ایسے فیصلے جو سخت بھی ہوتے ہیں اور انسانوں سے اس کی محبت سے بھرپور بھی۔ کیا ہم پر مایوس کا وہ لمحہ آن پہنچا ہے؟

٭ قوموں کی تاریخ میں ایسے لمحے جب بھی آئے ، میرے اللہ کا فیصلہ ایک ہی رہا ہے کہ اگر ہم ظالموں کو ظالموں سے نہ لڑائیں تو دنیا میں امن نہ ہو۔ ٭ دیوانگی حد سے بڑھ جائے تو شہر پتھر اُٹھالیتا ہے۔ ہمارے ہاں تو دیوانے گلی گلی اور کوچہ کوچہ موجود ہیں، صرف لوگوں کے ہاتھوں میں پتھر اُٹھانے کی دیر ہے۔ ٭


ہاں! ہم یقینا مایوسی کے اس سمندر کی اتھاہ گہرائیوں تک ڈوب چکے ہیں، جہاں عام آدمی بھی جسے حکومتوں کے بدلنے سے کوئی سروکار نہیں ہوتا، زبان حال سے پکارتا ہے ہماری تقدیر نہیں بدل سکتی۔ سب چور ہیں اور چور ہی حکمرانی کی مسند پر بیٹھتے ہیں۔ 18 کروڑ عوام کی مایوسی کا عالم دیکھیے کہ وہ مدتوں جمہوریت کے ہومیو پیتھک علاج کی میٹھی گولیاں اس اُمید پر کھاتے چلے جاتے ہیں کہ اس طرح مرض جڑ سے ختم ہوجائے گا۔ وہ فوج کے آپریشن کی ٹیبل بار بار سجنے پر خوش ہوتے ہیں کہ چلو علاج تکلیف دہ ہے، تھوڑی بہت معذوری کا بھی خطرہ ہے، لیکن صحت تو بحال ہوجائے گی، لیکن بار بار آپریشن سے کینسر کی گلٹیوں میں نیا اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہ ہے وہ مایوسی کا لمحہ۔ یہ ہے وہ کیفیت جس کے باعث ہماری واضح اکثریت مستقبل سے مایوس۔ حال سے برگشتہ اور ماضی پر لعنت بھیج رہی ہے۔ یہی مرحلہ وقت بدلنے کا ہوتا ہے۔ اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ قوموں کو راہ راست مداخلت کا بار بار ذکر کرتا ہے۔ بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذابوں کا نزول، تاکہ لوگ سنبھل جائیں اور اس کی جانب واپس لوٹ جائیں، لیکن دنیا کے فلسفے، سائنس اور سیاسیات کے ماہر اسے ’’Divine Intervention‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ جب کسی قوم میں اچانک کوئی تحریک بھڑک اُٹھے، وہ اچانک طویل خواب سے انگڑائی لے کر بیدار ہوجائے۔ وہ مدتوں ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتی کاٹتی تھک ہار جائے اور اچانک صلح جُو بن جائے تو ایسے لمحوں کو مؤرخین اور فلسفی کسی غیرمرئی قوت یا طاقت کا شاخسانہ بتاتے ہیں (باقی صفحہ5پر) جسے ہیگل نے عقل کل کا نام دیا ہے۔ 
ایسا وقت بہت خوفناک ہوتا ہے اور اس کا آغاز بہت ہیبت ناک، لیکن اس کی کوکھ سے خیر نے جنم لینا ہوتا ہے۔ کیا ہماری حالت دنیا کے ان ممالک سے مختلف ہے جہاں خلقِ خدا نے خود آپریشن ٹیبل سجالی تھی؟ ہم جن علتوں اور امراض کا شکار ہیں، وہ ہمارے لیے عذاب کی نوید لاچکے۔ جس ملک میں جھوٹ سے دن کا آغاز ہوتا ہو اور رات کا سناٹا جھوٹ کو پروان چڑھائے۔ میڈیا، دکان، اسکول اور یونیورسٹی سے پارلیمنٹ تک میں جھوٹ کی منڈی سجے۔ دین کاروبار بنے اور جہاد ذاتی اَنا کی تسکین، جہاں حکومت خاندانی لوٹ مار اور بدترین شہنشاہیت میں بدل چکی ہو۔ تعلیم، صحت، روزگار اور عزتِ نفس سب پائوں کی ٹھوکر تلے روندے جاچکے ہوں۔ ایسے میں اگر کوئی جمہوری نظام کے ہومیوپیتھک تسلسل کی خواہش کررہا ہے تو احمقوں کی جنت میں رہتا ہے اور اگر کسی کو عسکری صلاحیتوں پر اعتماد ہے کہ وہ حالات کو آپریشن ٹیبل پر لاکر درست کرلیں گے تو یہ اس کی بھول ہے۔ 
اب نہیں، شاید اب نہیں! عالم الغیب صرف اللہ کی ذات ہے، لیکن قوموں کی تاریخ میں ایسے لمحے جب بھی آئے ، میرے اللہ کا فیصلہ ایک ہی رہا ہے کہ اگر ہم ظالموں کو ظالموں سے نہ لڑائیں تو دنیا میں امن نہ ہو۔ خوفناک تصادم، جو اہلِ نظر جانتے ہیں اور جو اس دنیا سے رُخصت ہوگئے بتاتے تھے، انتباہ کرتے تھے، ڈراتے تھے کہ حالات اس مقام پر مت لے جائو کہ اللہ کو امن قائم کرنا پرے، لیکن کون سنتا ہے؟ وہ تو نسلوں کی بادشاہت کو محفوظ بناتا ہے۔ سات پشتوں کے رزق کا بندوبست کرتا ہے۔ عسکری قوت کی دھاک بٹھاتا ہے، لیکن شاید اب مہلت باقی نہیں رہی۔ دیوانگی حد سے بڑھ جائے تو شہر پتھر اُٹھالیتا ہے۔ ہمارے ہاں تو دیوانے گلی گلی اور کوچہ کوچہ موجود ہیں، صرف لوگوں کے ہاتھوں میں پتھر اُٹھانے کی دیر ہے۔


____________
راشد صاحب

    Current date/time is Fri Sep 21, 2018 4:41 am