Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


اب کیا ہوگا؟؟

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

اب کیا ہوگا؟؟

Post by Admin on Wed Apr 22, 2015 4:24 pm

’’نزادسی چودھری‘‘ ایک بنگالی ہندو تھا۔ جب 1925ء میں راشٹر یہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا ناگپور میں قیام عمل میں آیا تو اس نے بنگال میںاس کے دفتر آنا جانا شروع کردیا۔ وہ اس تنظیم کے جلسے جلوسوں میں شریک ہوتا رہا۔ لیڈروں کی قیام گاہوں پر جاتا اور ان کی گفتگو سنتا۔ اس نے متعصب ہندووں کی ذہنیت پر 40 سال ریسرچ کی۔ یہ عرق ریزی اس نے ایک کتاب کی صورت 1965ء میں شائع کر دی۔ ’’The Continent of Circe ‘‘(جادوگرنی کا دیس) کے عنوان سے اس کتاب نے ہندوستان میں تہلکہ مچادیا۔ سارے ملک میں ’’نزادسی چودھری‘‘ کے خلاف جلوس نکلے۔ اس کے پتلے جلائے گئے۔ اس کے گھر پر پتھرائو ہوا۔ اسے ملازمت سے بے دخل کردیا گیا۔ وہ کلکتہ چھوڑ کر مستقل برطانیہ چلاگیا۔ حکومت نے کتاب پر پابندی لگا دی۔ 
نزادسی چودھری نے جادوگرنی کے دیس میں ہندو نفسیات کا گہرا تجزیہ کیا تھا۔ اس کا کہنا تھا راشٹریہ سیوک سنگھ ملک کو مشہور مسجدوں کو مندروں میں تبدیل کردے گی۔ یہ مسلمانوں کو شودروں سے بھی کم سماجی درجے پر پہنچا دے گی۔ یہ ان کا کاروبار اور زمینیں ہتھیا لے گی۔ یہ تعلیمی نصاب میں ہندو مت کے ننگے پروپیگنڈے کو اوّلیت دے گی۔ یہ اخبارات رسائل و جرائد کو کنٹرول کر کے ہندو توا کے تصور کو عوام کی سائیکی کا حصہ بنائے گی۔ فلم اور ٹی وی کے کرتا دھرتا افراد کی مکمل ذہنی کایا کلپ کرے گی۔ انتہائی پسماندہ علاقوں کے

مسلمانوں کو ترغیب و لالچ دے کر انہیں ہندو ازم کے دائرےمیں لے آئے گی۔ سیکولر بھارت کو ایک ایسا ہندو دیش بنائے گی جس میں اقلیتوں کے لیے جینا ناممکن بنا دیا جائے گا۔ 

’’نزادسی چودھری‘‘ نے اندراگاندھی پر کڑی تنقید کرتے لکھا: ’’اس نے آر ایس ایس کو چھوٹ دے دی ہے۔ آر ایس ایس کے زہریلے لیڈروں نے بدلتے وقت کے دھارے میں سفر کرتے ہوئے بھارتی جنتا پارٹی کو 1980ء میں جنم دیا۔ یہ پارٹی اپنی ماں کی ہم شکل ہونے کے باوجود عوام کو تھوڑا روشن چہرہ دکھانا شروع ہوگئی۔ اس کے باوجود اس کا مینی فیسٹو ہندو توا کے رنگ میں رنگا ہوا ہے۔ اس پارٹی نے ہندووں کے دل جیتنے کے لیے 1993ء میں رام رتھ یاترا شروع کی۔ دسمبر کو ایودھیا میں بابری مسجد شہید کر دی۔ اس کے بعد بھارت بدترین مسلم کش فسادات کے ریلے میں بہہ گیا۔ واچپائی کو مرکز میں حکومت ملی تو سارے ملک میں اقلتیوں کے لیے ملک کی تاریخ میں سیاہ ترین عہد شروع ہوگیا۔ پچھلے دس بارہ برسوں میں بھارتی جنتا پارٹی چند صوبوں کے علاوہ مرکز میں حکومت بنانے میں ناکام رہی۔ 
حالیہ انتخابات میں میں اس نے لوک سبھا کی 543 میں سے 283 نشستیں جیتیں۔ کانگریس صرف 62نشستیں حاصل کر سکی۔ یوں بھارتی جنتاپارٹی نے سنگل میجارٹی کے ساتھ حکومت بنانے کی پوزیشن حاصل کرلی۔ گجرات کا قاتل نریندر مودی ملک کا وزیراعظم بن گیا ہے۔ 25 کروڑ مسلمانوں کا کوئی ایک بھی نمایندہ اس پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب نہیں پایا۔ یوں اس حکومت میں مسلمان مکمل طور پر باہر ہوگئے ہیں۔ سارے بھارت سے صرف 22 مسلمان لوک سبھا تک پہنچ پائے ہیں۔ 61 عورتیں منتخب ہوئی ہیں۔ 14 ریاستوں میں پارٹی نے کلین سویپ کیا ہے۔ یوں اتحادیوں کو ملا کر یہ 335 سیٹیں جیت گئی۔ ووٹر ٹرن آئوٹ 66.4 فیصد رہا۔ 13 امیدوار سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر جیت گئے۔ 20 فیصد بھارتی مسلمانوں نے اس پارٹی کی مسلم دشمنی کی تاریخ کے باوجود ووٹ دیے ہیں۔ ان کو اُمید ہے جنتا پارٹی ماضی کے گھناونے کردار سے بچ کر ان کی فلاح و بہبود کے لیے اقدام اٹھائے گی۔ کانگریس کی شکست فاش ہی معاشی بدحالی نے بڑا رول ادا کیا ہے۔ اس کے بڑے بڑے برج الٹ گئے ہیں۔ عام آدمی پارٹی صرف 5 نشستوں پر کامیاب ہو پائی۔ یوں اس کے 100 نشستیں جیتنے کے سروے مکمل طور پر فلاپ ہوگئے۔ اس کا لیڈر کیجر وال بدترین شکست سے دو چار ہوا ہے۔ 
الیکشن کمیشن نے جو اعداد شمار جاری کیے ہیں ان کے مطابق 81 کروڑ ووٹر رجسٹرڈ ہوئے۔ 55.1 کروڑ ووٹ کاسٹ کیے گئے۔ یوں 2009ء کے انتخابات کی نسبت 32 فیصد زیادہ ووٹ پڑے۔ 2009ء میں 41.7 کروڑ افراد نے ووٹ ڈالے تھے۔ جنتا پارٹی کی جیت میں کالے دھن نے بہت بڑا رول پلے کیا۔ انڈر ورلڈ نے اپنے سارے زرائع استعمال کیے۔ بڑے بزنس مینوں نے اس پارٹی کے لیے اربوں کے فنڈز دیے۔ ایک ہزار کروڑ میڈیا مہم پر صرف کیے گئے۔ غریب غربا سے ووٹ خریدے گئے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق جنتا پارٹی نے 15 کروڑ ووٹ آٹے کی بوریوں، گھی کے ڈبوں، دالوں کے بیگ بانٹ کر خریدے۔


٭ گجرات کا قاتل نریندر مودی ملک کا وزیراعظم بن گیا ہے۔ 25 کروڑ مسلمانوں کا کوئی ایک بھی نمایندہ اس پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب نہیں پایا۔ ٭ ہمیں کمزور کردار کا مظاہرہ نہیں کرنا ہوگا۔ ہماری بھارت کے ساتھ پالیسیاں ایسی ہوں جن میں بھارتی اور کشمیری مسلمانوں کے لیے خیرہو۔ ٭

یاد رہے بھارت میں خط غربت سے نیچے افراد کی تعداد 86 کروڑ سے زائد ہے۔ یوں سب سے بڑی جمہوریت کی ایک بھیانک حقیقت یہ بھی ہے یہاں چند 100 روپوں میں ووٹ خریدا جا سکتا ہے۔ ان 86 کروڑ غریب غربا میں 19 کروڑمسلمان ہیں۔ جنہیں کانگریس ہو یا بی جے پی دونوں نے کبھی منہ نہیں لگایا۔ بھارت میں اقلیتوں کی دگرگوں حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ Poverty Allevenation Boardکے مطابق ملک میں مسلمانوں کی ساری آبادیوں میں کل حکومتی اسکول 23 ہزار ہیں۔ ہسپتالوں کی تعداد 11 ہزار ہے۔ ان میں سے 8 ہزار ہسپتالوں میں سوائے ایک یا دو ڈاکٹروں اور نرسوں کا عملہ بھرتی ہی نہیں کیا جاتا۔ مسلمانوں کی آبادیوں میں رات کے وقت سرکاری کھمبوں پہ روشنی نہیں کی جاتی۔ اس کا جواز بجلی کی بچت کی صورت دیا جاتا ہے۔ مسلم اکثریت والے شہروں کے بازاروں اور گلیوں میں سیوریج کا نظام نہیں بچھایا جاتا۔ یہ کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں کی صورت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ یہاں بیماریاں سراٹھاتی ہیں تو وبائوں کی صورت اختیار کرلیتی ہیں۔ مسلمانوں کے ایک لیڈر سید شہاب الدین نے لوک سبھا میں جب یہ معاملات ہائی لائٹ کیے تو حکومتی وزیر صحت نے ٹھٹھا اُڑاتے ہوئے کہا تھا: ’’مسلمانوں کی آبادی بہت تیزی سے بڑھے جارہی ہے، اگر چند ہزار دنیا سے چلے گئے تو کیا فرق پڑتا ہے۔‘‘ 20 فیصد مسلم ووٹ کے ساتھ اقتدار میں آنے والی بی جے پی مسلمانوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں کیا کردار ادا کرتی ہے یہ تو وقت ہی بتا پائے گا۔ 
آج بھارت کی آبادی 1220 ملین افراد پر مشتمل ہے۔ روزانہ 2 ڈالر سے کم کمانے والے کی تعداد 860 ملین (86) کروڑ ہے۔ 500 ملین آبادی خوراک کی کمی میں مبتلا ہے۔ شیر خوار بچوں میں اموات کی شرح ہر ہزار میں سے 132 ہے۔ بجٹ خسارہ 100 بلین ڈالر ہے۔ تجارتی خسارہ 190 بلین ڈالرہے۔ عوامی قرضہ مجموعی قومی پیدوارکا 27 فیصد ہے۔ بھارت اپنے دفاع پر سالانہ 42 بلین ڈالر صرف کر رہا ہے۔ سیاچین پر بھارت سالانہ 200 سے 300 ملین ڈالر خرچ رہا ہے۔ 1984ء سے اب تک وہ اس مد میں 5 ملین ڈالر لگا چکا ہے۔ 
ہمارے وزیراعظم نے مودی کو فون کر کے پاکستان آنے کی دعوت دی ہے۔ اگر مودی پاکستان آتا اور کوئی معاہدہ کرتا ہے تو یہ دونوں ملکوں کے درمیان پندرہواں معاہدہ ہو گا۔ 
اب سے پہلے 14 بار سربراہان کی ملاقاتیں اور معاہدے ہوچکے ہیں۔ جناح مائونٹ بیٹن ملاقات نومبر 1947ء کو لاہور میں ہوئی۔ 27 جولائی 1949ء کو کراچی میں کشمیرکی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا۔ 8 اپریل 1950ء نئی دہلی میں نہرو ملاقاتیں ہوئیں۔ 19 ستمبر1960ء کو سندھ طاس معاہدے پر دستخط ہوئے۔ 10 جنوری 1966ء کو تاشقند میں جنگ ستمبرکے خاتمے پر دستخط کیے۔ 2 جولائی 1972ء کو بھٹو اندراگاندی نے شملہ معاہدے پر دستخط کیے۔ 19 اپریل 1973ء کو دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ دہلی میں ایک معاہدے پر پہنچے۔ 21 دسمبر 1988ء کو راجیو بے نظیر معاہدہ اسلام آباد میں ہوا۔ 21 فروری 1999ء کو نواز واجپائی معاہدہ لاہور میں ہوا۔ 14 سے 16 جولائی 2001ء کو آگرہ میں مشرف واجپائی ملاقاتیں ہوئیں۔ 16 جون 2009ء کو زرداری منموہن سنگھ ملاقاتیں روس میں ہوئی۔ 16 جولائی 2009ء کو شرم الشیخ مصر میں گیلانی، من موہن ملاقات ہوئی۔ 8 اپریل 2012ء کو زرداری نے اجمیر اور دہلی کا دورہ کیا۔ ان معاہدوں اور ملاقاتوں کے نتیجے میں کئی دیر پا مسئلے حل نہیں ہوپائے۔ کشمیر پر بھارت کا قبضہ بدستور جاری رہا۔ 2004ء کے بعد سے ہم نے اس مسئلے کو سرد خانے میں ڈالا ہوا ہے۔ ہم نے بے حیائی پر مبنی بھارتی فلموں کے لیے پاکستانی سنیمائوں کے دروازے کھول رکھے ہیں۔ 
دوسری طرف بھارت کی ڈیرہ دون ملٹری اکیڈمی میں آر ایس ایس نے ایسا لٹریچر فوجیوں کے نصاب میں ڈالا ہے جو پاکستان کے وجود کو ختم کر دینے پر اپنی تان توڑتا ہے، جبکہ ہم پچھلی 6 دہائیوں میں بھارت سے بالترتیب 97.95 ملین ڈالر، 119.46 ملین ڈالر، 106.95 ملین ڈالر، 151.67 ملین ڈالر، 1023.6 ملین ڈالر، 9420.95 ملین ڈالر کا سامانہ درآمد کر چکے ہیں۔ بھارتی منڈیوںکے لیے پاکستانی بارڈراب مستقل کھول دیے گئے ہیں۔ ہمیں بھارت سے نہایت خوشگوار تعلقات ضرور استوار کرنے چاہیں۔ ہمیں کشمیر اور دوسرے اہم اور پیچیدہ مسئلوں کو حال کرنے کے لیے بھی کوششوں کو پوری سرگرمی سے جاری رکھنا چاہیے۔ بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزیاں 2006ء کے بعد سے مسلسل بڑھے جارہی ہیں۔ صرف 2008ء اور 2012ء میں 148 بار بھارتی فوج نے لائن آف کنڑول پر پاکستانی علاقوں پر بمباری کی۔ ہمیں جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ مودی حکومت کے ساتھ ہم پیار کی پینگیں بڑھائیں۔ پر ہمیں کمزور کردار کا مظاہرہ نہیں کرنا ہوگا۔ ہماری بھارت کے ساتھ پالیسیاں ایسی ہوں جن میں بھارتی اور کشمیری مسلمانوں کے لیے خیرہو۔ ہماری قومی اور ملی اساس کے لیے مضبوطی ہو۔ ہماری بہادر افواج کے لیے سر بلندی ہو۔




____________
راشد صاحب

    Current date/time is Fri Sep 21, 2018 11:52 am