Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


سیکولرازم کا جنازہ

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

سیکولرازم کا جنازہ

Post by Admin on Tue Apr 21, 2015 11:07 am

ہمارے کرم فرما حکیم فقیر حسین دہلوی کی بیٹھک میں مجلس جمی ہوئی تھی۔ حکیم صاحب کے ایک عزیز دہلی سے تشریف لائے تھے۔ حکیم صاحب نے ان کے اعزاز میں ایک مختصر سی استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا تھا جس میں محلے کے کچھ معززین کو دعوت دی گئی تھی۔ ہم تو خیر حکیم صاحب کی دوستی کے کھاتے میں شریک محفل بنے، جبکہ ہمارے دوست مسٹر کلین باقاعدہ ’’معززین‘‘ میں شامل تھے۔ ظاہر ہے محفل میں مر کزِ نگاہ تو ہندوستان سے آئے ہوئے مہمان تھے جو دہلی کے روایتی نستعلیق لب ولہجے میں تول تول کر الفاظ ادا کرتے اور مدعا سے زیادہ ادب آداب کے اظہار کا اہتمام فرمارہے تھے۔ شرکاء محفل مہمان گرامی سے ہندوستان کے حالات بالخصوص مسلمانوں کی مشکلات و مسائل سے متعلق سوالات کرتے تو موصوف ایک لمحے کے لیے رُک کر شرکا کا جائزہ لیتے، جیسے انہیں مجلس میں کسی جاسوس کی موجودگی کا شبہ ہو۔ پھر گول مول انداز میں بعض سلگتے ہوئے سوالات پر لیپا پوتی کرنے کی کوشش کرتے۔ مہمان گرامی کا یہ انداز رکھ کر یہ شعر ہمارے ذہن کے پردے پر جھلملانے لگا ؎ ادھر ہیں لاکھ لاکھ سخن اضطراب میں واں ایک خامشی تری سب کے جواب میں ہم نے کسی سے سن رکھا تھا کہ ہندوستان کے مسلمان اسی طرح عدم تحفظ کے احساس سے دوچار ہوتے ہیں۔
جب وہ کوئی بھی سیاسی بات کرتے ہیں تو اِدھر اُدھر دیکھ کر ہی کرتے ہیں۔ بالخصوص جب ان میں سے کوئی پاکستان میں بیٹھ کر کوئی بات کر رہا ہوتا ہے تو اسے گویا اِدھر اُدھر ہی نہیں اوپر نیچے بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ خیر! تو شرکاء محفل مہمان گرامی کی اس سفارتی نوعیت کی گفتگوسے بور سے ہورہے تھے، جیسے یہاں تک کی کہانی سن کر آپ بور ہوگئے ہوں گے! کہ اچانک ہمارے دوست مسٹر کلین جو ایک کونے میں دبکے بیٹھے تھے، نے گردن اُٹھائی اور سوال کردیا: ’’حاجی صاحب! بھارت کے انتخابات میں مسلمانوں کا کیا بنے گا؟ ‘‘

ادھر ہیں لاکھ لاکھ سخن اضطراب میں واں ایک خامشی تری سب کے جواب میں


مسٹر کلین کے اس سوال کا یہ جز سن کر ہمیں حیرت کا جھٹکا سا لگا، کیونکہ یہ شاید پہلا موقع تھا کہ مسٹر موصوف کو دنیا کے کسی حصے میں مسلمانوں کے مفادات کا خیال آیا تھا اور وہ مسلمان اقلیت کے تحفظ کا سوال کر رہے تھے، مگر سوال کے اگلے حصے نے ہماری خوش فہمی دور کردی۔ موصوف نے اپنا سوال یہ کہہ کر پورا کردیا: ’’سنا ہے ہندوستان کے ملائوں نے مسلمانوں کو کنفیوژن میں مبتلا کردیا ہے۔ کوئی کانگریس کی حمایت کرتا ہے توکوئی عام آدمی پارٹی کی اور کچھ بی جے پی کے ساتھ بھی ہیں؟‘‘ مسٹر کلین کا یہ سوال سن کر حاجی صاحب نے جلالی ا نداز میں پہلو بدلا۔ گویا تمام تر احتیاط اور تکلف کو ایک طرف رکھ کر کہا: ’’ہاں! میں نے بھی آپ کے ڈان اخبار میں یہ رپورٹ پڑھی ہے، مگر میرے خیال میں یہ نری کج فہمی ہے… ‘‘
حاجی صاحب سے ملائوں پر بم باری کروانے کے خواہش مند مسٹر کلین پر یہ جملہ جیسے برق بن کر گرا ہو۔ وہ ہونق بن کر حاجی صاحب کا منہ تکنے لگے۔ حاجی صاحب نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’’بات دراصل یہ ہے ہندوستان کے علماء بہت سمجھ دار ہیں۔ وہ اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا مفاد اسی میں ہے
کہ وہ کسی ایک پارٹی کی طرف زیادہ جھکاؤ نہ رکھیں، کیونکہ جمہوریت میں اقتدار پر آنے والی پارٹیاں بدلتی رہتی ہیں۔ مسلمان کسی ایک پارٹی کے ساتھ نتھی ہوجائیں تو سیاسی نقطۂ نظر سے یہ ان کے لیے نقصان دہ بات ہوتی ہے۔ اس لیے سوال یہ نہیں ہے مسلمان تقسیم کیوں ہیں؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہندوستان میں سیکولرازم کا مستقبل کیا ہے؟ مجھے حیرت ہے ’’ڈان‘‘ جیسے اخبار کو اوردنیا بھر کے سیکولر و لبرل حلقوں کو ہندوستان کے ملاوں پر تنقید کے لیے ایک شوشہ ڈھونڈھنے کی توفکر لگی ہے، لیکن اس بات کا کسی کو خیال نہیں ہے کہ بی جے پی جیسی مذہبی انتہاء پسند جماعت کے سفاک قاتل ڈون نریندر ’’موذی‘‘ کے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کے سیاہ و سفید کے مالک بننے سے وہاںسیکو لر ازم کا مستقبل کیا ہوگا؟ سیکو لر ازم اور لبرل ازم کے علم برداروں کو اس بات کی کوئی پروا نہیں ہے کہ جس سیکولر نظام کو وہ پوری دنیا پر رائج کرنا چاہتے ہیں، ڈیڑھ ارب آبادی والے ملک میں جہاں اس نظام کی سب سے بڑی اور حقیقی ضرورت ہے، اس کا جنازہ نکلنے والا ہے۔
اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ سیکولر ازم اور لبرل ازم کے یہ نعرے محض ایک ڈھونگ ہیں، اصل مقصد مسلم ممالک میںاسلامی نظام کا راستہ روکنا ہے۔ ‘‘
حاجی صاحب نے کہا: ’’آ پ ایک منٹ کے لیے فرض کریں، اگر پاکستان میں کوئی مذہبی جماعت اس طرح اقتدار میں آنے والی ہوتی، یہاں کے آئین اور عوام کی خواہشات کے مطابق اس ملک میں اسلامی نظام کے قیام کا اعلان کرتی، اس جماعت کے قائد پر اقلیتوں کے قتل عام کے الزامات ہوتے اور وہ ان الزامات کی تردید کرنے کی بجائے اشاروں کنایوں میں ان پر فخر کا اظہار بھی کررہا ہوتا تو کیا آج دنیا اسی طرح پر سکون انداز میں اس ساری صورت حال کا تماشا کر رہی ہوتی جس کا مظاہرہ سیکولر آئین رکھنے والے ملک بھارت میں ہندوتوا کا منشور رکھنے والی بے جی پی کی کامیابی کے امکانات پر کیا جارہا ہے؟ اگر ایسا ہوتا تومیرے خیال میں تو شاید اب تک پاکستان میں اقتدار پر شب خون مارا جاچکا ہوتا جس طرح مصر میں ہوا…۔‘‘ حاجی صاحب کی رعب دار لہجے میں گفتگو جاری تھی کہ حکیم فقیر صاحب دستر خوان لے کر آگئے۔ ہمارے دوست مسٹر کلین جلدی سے اپنی جگہ سے اُٹھ کر دستر خوان بچھانے میں ان کی مدد کرنے لگے۔ حاجی صاحب سمجھ گئے کہ موصوف کھسیانی ہو کر گفتگو کی بساط لپیٹنے کی خاطر ناشتے کی بساط بچھانے لگے ہیں، اس لیے حاجی صاحب نے اپنی بات روک لی۔ کچھ ہی دیر میں شرکاء محفل چھولے اور پائے کے چٹخارے لے رہے تھے




____________
راشد صاحب

    Current date/time is Wed Nov 21, 2018 12:51 am