Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


میچ باکس

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

میچ باکس

Post by Admin on Fri Mar 27, 2015 12:50 pm

[size=36]میچ باکس[/size]
ماچس کی ڈبیا کی جسامت کے برابر مائیکروکمپیوٹرز
یہ بات سب ہی کو معلوم ہے کہ ابتدائی دور کے کمپیوٹرز جسامت میں اس قدر بڑے اورالماری نما تھے کہ انہیں بڑے بڑے کمروں میں نصب کیا جاتا۔ تاہم، جوں جوں وقت گزرتا گیا ان کی جسامت چھوٹی ہوتی گئی اور یہ سمٹ کر عام پڑھائی کی میز پر آگئے، یہ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز کہلائے۔ چوں کہ ان میں مائیکرو پروسیرز استعمال ہوتے ہیں، اسی لیے انہیں مائیکروکمپیوٹرز بھی کہا جاتا ہے۔ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز کی آمد کے بعد کمپیوٹرز کی قیمتیں کم ہونا شروع ہوتی گئیں اور کمپیوٹنگ عام ہوگئی۔ ڈیسک ٹاپ کے مقبولیت کے بعد کمپیوٹنگ موبائل کرنے کے لیے لیپ ٹاپ کمپیوٹرز متعارف کرائے گئے، جن کی مدد سے صارفین کے لیے موبائل کمپیوٹنگ ممکن ہوگئی۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی، بل کہ مزید سہولت کے لیے کمپیوٹر ایپلیکیشز موبائل فونز میں استعمال کرنے کے لیے جدید سیلولر فونز متعارف کرائے گئے، جو ونڈوز، میک اور اینڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم کے تحت کام کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ بڑی کام یابی ہے لیکن شاید ٹیکنالوجی کے میدان میں کام یابی کی کوئی حد نہیں۔ اسی لیے ماہرین مزید مختصر اور جدید کمپیوٹنگ ڈیوائسز بنانے کے لیے نت نئے تجربات کرتے رہتے ہیں، جن کے نتیجے میں مختلف ڈیوائسز منظرِ عام پر آرہی ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے میں ایسی ڈیوائسز منظر عام پر آئی ہیں، جو جسامت میں بہت مختصر، لیکن کارکردگی میں بہت بہتر اور منفرد ہیں۔ ایسی ہی ڈیوائسز میں ایک ’’میچ باکس‘‘ کمپیوٹر بھی ہے۔ یہ جسامت میں مختصر اور کار کردگی میں مکمل کمپیوٹر ہے۔ کم توانائی سے چلنے والے یہ کمپیوٹرز، ’’تھمب پی سی ‘‘ بھی کہلاتے ہیں۔ ان کی ساخت میں ایک بہت ہی مختصر مدر بورڈ، اس پر نصب چِپ کی صورت میں مائیکرو پروسیسر، یو اسی بی اور ایچ ڈی ایم آئی پورٹ اور ڈیٹا اسٹوریج کے لیے ایس ڈی میموری کارڈ سلاٹ شامل ہوتی ہے۔ میچ باکس مائیکرو کمپیوٹر اتنے مختصر ہیں کہ یہ انسانی ہاتھ کے انگوٹھے پر سما سکتے ہیں۔ ان میں نہ صرف پہلے سے استعمال ہونے والی ایپلیکیشنز استعمال ہورہی ہیں، بل کہ ان کے لیے نئی ایپلیکیشز بھی تیار کی جارہی ہیں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ میچ باکس کمپیوٹر کسی بڑی کمپنی کے تجربات کے نتیجے میں وجود میں نہیں آئے ہیں، بل کہ یہ ایسے شوقیہ آئی ٹی ماہرین کے تجربات نتیجے میں آئے، جو ہیکنگ کے لیے مختلف ڈیوائسز بنانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ڈیوائسز سادہ آرکیٹیکچر کے تحت بنائی جارہی ہیں ، لیکن ان کے لیے بہتر پلیٹ فارم بھی ’’Odroid‘‘ کے نام سے متعارف ہوا ہے۔ میچ باکس کمپیوٹرز کی تیاری کا آغاز امریکا سے ہوا ہے۔ تاہم، اب ان کی پہنچ برطانیہ اور کوریا تک ہوگئی ہے۔ یہ بات بھی دل چسپ ہے کہ میچ باکس کمپیوٹرز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھتے ہوئے اب بڑے کمپیوٹر ساز ادارے بھی اس میدان میں قدم رکھ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ڈیل نے ’’پروجیکٹ آفیلین‘‘ (Project Ophelian) کا آغاز کیا ہے، جس میں ایک پتلی سی اسٹک پر نصب اینڈرائڈ ڈیوائس HDMI پورٹ کے ذریعے اینڈرائڈ ایپلیکیشنز قابلِ استعمال بناتی ہے۔ یہ ڈیوائس اس برس کے کنزیومر الیکٹرونک شو میں نمائش کے لیے پیش کی گئی، جسے خاص توجہ حاصل رہی۔ توقع ہے کہ یہ میچ باکس کمپیوٹر اس برس کے تیسری سہ ماہی میں بازار میں ہوگا، جس کی قیمت 100 امریکی ڈالرز ہوگی۔ یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ میچ باکس کمپیوٹر حقیقت میں کیا ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ میچ باکس کمپیوٹنگ مختلف رجحانات کا سنگم ہے۔ لائنکس کارنل، جی این یو ٹول چِین پروڈکٹس مفت اوپن سورس سافٹ ویئر (FOSS) کا ملاپ، عام طور پر کمپیوٹر ہارڈ ویئر کی تیاری میں کارآمد ہوتا ہے۔ خاص طور پر نیٹ ورکنگ ڈیوائسوں کی تیاری میں۔یہ عام ڈیوائسوں اور اینڈرائڈ بیسڈ ڈیوائسز کے درمیان رابطے میں ان کا بہت اہم کردار ہوسکتا ہے۔ عام طور پر میچ باکس کمپیوٹرز لائنکس یا اینڈرائڈ سسٹم کے تحت کام کرتے ہیں۔ تاہم، اس سلسلے میں لائنکس انٹرفیس کا استعمال زیادہ ہے۔ جب کہ سسٹم آن چپ کے لیے میں ملٹی میڈیا کے استعمال کے لیے اینڈرائڈ سسٹم زیادہ کارآمد سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ اس کی مدد سے آواز کا معیار بہتر اور HDMI کنیکٹیوٹی ہے سسٹم آن چپ (SoC) ٹیکنا لوجی ،اسمارٹ فون اور الٹرابُکس میں استعمال ہورہی ہے، جس کی وجہ سے اسمارٹ فونز کا ڈیزائن پتلا ہوتا جارہا ہے اوران کی تیاری آسان ہوگئی ہے۔ زیادہ تر SoC سسٹم میں وائر لیس نیٹ ورکنگ کی سہولت بائی ڈیفالٹ موجود ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ان کی جسامت اور بھی کم ہوجاتی ہے کیوں کہ ان میں نیٹ ورکنگ کے لیے پورٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کمپیوٹرز میں پاور، ڈیٹا، اور نیٹ ورکنگ انٹرفیس کا ایک ہی معیار، میچ باکس کمپیوٹرز کی تیاری میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ان میں USB پورٹ ڈیٹا ٹرانسفر اور پاور سپلائی دونوں کے کام آتا ہے، ساتھ ہی اس کی مدد سے سے میچ باکس دیگر ڈیوائسز سے منسلک کیا جاسکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تین کی جگہ ایک ہی کنیکٹر سے کام لیا جاسکتا ہے۔ایسا ہی آڈیو وڈیو کے لیے HDMI کنیکشن کے ساتھ بھی ہے، جس کی وجہ سے ان کی تیاری آسان اور جسامت مختصر ہوگئی ہے۔ ڈیٹا محفوظ کرنے کے لیے میچ باکس میں SD میموری کارڈ سلاٹ دیا جاتا ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ میچ باکس یا تھمب پی سی مستقبل میں مکمل ڈیسک ٹاپ اور لیپ ٹاپ کی جگہ لیے لیں گے۔ تاہم، اس کا دارومدار صارفین کے استعمال پر ہے۔ جو صارفین لائنکس یا اینڈرائڈ سسٹمز پر کام کرنے کے عادی ہیں، ان کے لیے میچ باکس کا استعمال زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔ انہیں اپنا کی بورڈ اور ڈسپلے اسکرین میچ باکس سے منسلک کرنا ہوگا۔ تاہم، یہ بات بھی جاننا ضروری ہے کہ کہ ابھی میچ باکس کے زیادہ ماڈلز میں مختصر سے مدر بورڈ پر صرف پروسیسر اور میموری نصب ہے۔ اگر ان پر زیادہ ایپلیکیشنز استعمال کرنی ہوں تو پھر ان میں تبدیلی کرنا پڑسکتی ہے۔ بہت سے میچ باکس پی سیز میں ڈیٹا محفوظ کرنے کے لیے کارڈ کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ اضافہ دو طرح کا ہوسکتا ہے، SD میموری کارڈ یا USBڈرائیو۔اس طرح کے سسٹم USB یا HDMI پورٹ کے ذریعے، بل کہ عام آڈیو وڈیو جیک کی مدد سے بھی میڈیلا پلے بیک سسٹم سے منسلک ہوسکتے ہیں۔ میچ باکس پی سی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ اس کا مکمل یونٹ تیار ہونے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔ مختلف ہارڈ ویئرز کے ساتھ استعمال کے لیے مختلف کنفیگریش والے میچ باکسز پر کام ہو رہا ہے۔ ان میں خودکار سیٹنگ والے پی سیز بھی ہوسکتے ہیں اور ضرورت کے مطابق SoC کے تحت تیار کیے جانے والے تھمب پی سیز بھی۔ تھمب پی سیز کے استعمال سے توانائی کے بچت میں بھی مدد ملے گی۔ ڈیسک ٹاپ اور لیپ ٹاپ کے مقابلے میں تھمب پی سیز بہت کم توانائی استعمال کرتے ہیں، کیوں کہ اس کا USB پورٹ ہی اس کی پاور سپلائی کا کام کرتا ہے۔ تجرباتی طور پر میچ باکس کمپیوٹرز سے کیے کام لیے جارہے ہیں۔ مثال کے طور پر ’’Raspberry Pi‘‘ نامی ڈیوائس کی مدد سے کئی اہم پروجیکٹ تیار کیے گئے ہیں۔ میچ باکس کمپیوٹرز کی حالیہ کام یابیاں دیکھتے ہوئے یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ انہیں نہ صرف ان کی مدد سے ایپلیکیشنز کا استعمال اور پروجیکٹس کی تیاری کی جاسکے گی، بل کہ ان کی مدد سے دیگر بڑی اور اہم مشینیں بھی کنٹرول کی جاسکیں گی۔ ان کی مدد سے خاص طور پر روبوٹ کی تیاری کی صنعت کے لیے بہت کار آمد ثابت ہوگی، ان کی مددسے خد مختار روبوٹ بنانا بھی آسان ہوجائے گا۔



____________
راشد صاحب



    Current date/time is Wed Nov 21, 2018 4:29 am