Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


پرانے پی سیزکااستعمال

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

پرانے پی سیزکااستعمال

Post by Admin on Fri Mar 27, 2015 12:44 pm

چھوٹےدرجےکے کاروباری اداروں پربوجھ!!
حال ہی میںمائیکرو پروسیرساز ادارے انٹیل کارپوریشن کی جانب سے ٹیک ایزل کے ذریعے بہت سے ممالک میں کی گئی ایک مطالعاتی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چھوٹے کاروباری اداروں میں اوسطاً کام کرنے والے ہر سال کام کا ایک ہفتے سے زیادہ وقت پرانے کمپیوٹرز کے باعث ضائع کرتے ہیں۔ اس ’’اسمال بزنس پی سی ریفریش اسٹڈی‘‘ میں برازیل، چین، جرمنی، بھارت، روس اور امریکا میں واقع 736 چھوٹے کاروباری اداروں کا سروے کیا گیا، تاکہ یہ معلوم کیا جائے کہ ان کے زیرِ استعمال پی سیز کس حالت میں ہیں۔ اس دوران یہ بات سامنے آئی کہ چھوٹے کاروباری ادارے پی سی کی قابلِ استعمال رہنے کی تاریخ گزر جانے کے بہت دن بعد تک اپنا پرانا پی سی ہی استعمال کرتے رہتے ہیں۔ ان اداروں میں 36 فی صد ایسے ادارے تھے، جن کے پی سیز چار سال سے زیادہ پرانے بھی تھے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ انہیں کہیں زیادہ دیکھ بھال اور مرمت کی ضرورت ہوتی ہے، جس کا براہ راست اثر کارکنوں کی کارکردگی پر پڑتا ہے اور پی سیز کی مرمت کے اخراجات اتنے زیادہ ہو جاتے ہیں کہ اس سے کم خرچ پر نئے سسٹم خریدے جا سکتے ہے۔ انٹیل پی سی کلائینٹ گروپ کی وائس پریزیڈنٹ اور بزنس کلائینٹ پلیٹ فارم ڈویژن کی جنرل مینجر رِک ایچے واریا کا کہنا ہے کہ چھوٹے کاروبار کے لیے ایک نئے پی سی کی اَپ گریڈ بہترین فیصلوں میں سے ایک ہوسکتا ہے ۔ پی سیز بڑے پیمانے پر ان کمپنیوں کی اصل بنیاد سمجھے جاتے ہیں اور اس اسٹڈی نے واضح طور پر یہ بتا دیا ہے کہ انہیں مسلسل اَپ گریڈ کرتے رہنے کی ضرورت ہے ۔ مذکورہ تحقیق میں سامنے آنے والے کلیدی حقائق کے مطابق، پرانے پی سی کارکردگی پر منفی اثرات ڈالتے ہیں، جب کہ 4 برس سے زیادہ پرانے پی سی پر کام کرنے والے 4 سال سے کم پرانے پی سی پر کام کرنے والوں کے مقابلے میں مرمت ، دیکھ بھال اور سیکیورٹی کے معاملات کی وجہ سے اوسطاً 21 گھنٹے زیادہ ضائع کرتے ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 4 برس یا اس زیادہ پرانے پی سی کی مرمت اور دیکھ بھال کا وقفہ دوسرے پی سی کے مقابل میں ڈیڑھ گُنا تک ہوتا ہے۔ پرانے پی سی کی مرمت کا خرچ یا تو نئے پی سی کی خرید کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ 4 سال یا اس سے زیادہ پرانے پی سی کی مرمت پر چھوٹے کارو با ری ادارے اوسطا 427 ڈالرز خرچ کر رہے ہیں۔ یہ اوسط رقم اس سے کم پرانے پی سی پر خرچ ہونے والی رقم سے 1.3 گُنا زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق، 2014 میں سیکیورٹی رسک اور دوسرے اخراجات میں اضافہ ہوگا۔ جب کہ سروے میں جواب دینے والی 47 فی صد کمپنیاں اس بات سے بے خبر تھیں کہ مائیکرو سافٹ کی جانب سے مقبول ونڈوز XP پلیٹ فارم کے لیے سروس سپورٹ ختم کی جارہی ہے، جس کے باعث دیکھ بھال پر کیے جانے والے اخراجات کا براہ راست بوجھ چھوٹے کاروبا ر پر پڑے گا ۔ مزید یہ کہ کیوںکہ پی سی کی حفاظت کے لیے کیے جانے والے آٹو میٹک اَپ ڈیٹ کاا سلسلہ ختم ہوجائے گا اس لیے کاروباری ڈیٹا سیکیورٹی رسک اور وائرس وغیرہ سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرہ ہوگا۔اس سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ امریکا میں واقع چھوٹے کاروباری ادارے سب سے زیادہ پرانے پی سییز استعمال کر رہے ہیں۔ جن ممالک کا سروے کیا گیا ان میں امریکا میں واقع 8 فی صدچھوٹے کاروباری ادارے 5 سال یا اس سے زیادہ پرانے پی سیز استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں دنیا بھر میں 5 فی صد اور بھارت میں صرف ایک فی صد ادارے اتنے پرانے پی سی استعمال کرتے ہیں۔ ایسے میں انٹیل نے دعویٰ کیا ہے کہ فورتھ جنریشن کور وی پرو (Core V Pro) پراسیسر پر پاور کیے گئے نئے ٹو ان ون، ’’آل اِن ون ڈیسک ٹاپ پی سی‘‘ اور ’’الٹرا بکس‘‘ 4 سال پرانے سسٹمز کے مقابلے میں مجموعی طور پر کہیں زیادہ کم خرچ ہیں ، ان کی بیٹری لائف کہیں زیادہ ہے او ریہ بزنس پروڈکٹوٹی ایپلیکیشنز کی تیز تر پرفارمنس دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ کور پرو وی پراسیسرز کے متبا دل کے طور پر ’’اسمال بزنس ایڈوانٹیج‘‘ (SBA) پر بنے ہوئے پی سیز اسمال بزنس کے لیے خصوصی آئی ٹی اسٹاف کے بغیر خود بہ خود دیکھ بھال کرلیتے ہیں ۔ انٹیل کی جانب سے اپریل کے مہینے میں ٹیک ایزل نے انٹیل اسمال بزنس پی سی ریفریش اسٹڈی کی تھی ، جس میں ختلف ممالک میں واقع چھوٹے کاروباری اداروں 1-99) کارکن رکھنے والے ادارے ) نے 20 منٹ کے دورانئیے کا ایک سوال نامہ پُر کیا ۔ سوال نامہ پر کرنے والوں میں آئی ٹی کے بارے میں فیصلہ کرنے والے شامل تھے، جن کا سیمپلنگ کوٹا کار کنوں کی مجموعی تعداد کے تناسب سے مقررکیا گیا تھا ۔



____________
راشد صاحب



    Current date/time is Wed Jun 20, 2018 9:50 pm