Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


کمپیوٹر مائوس کے موجد کوچ کر گئے

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

کمپیوٹر مائوس کے موجد کوچ کر گئے

Post by Admin on Fri Mar 27, 2015 12:43 pm

کمپیوٹر مائوس کے موجد کوچ کر گئے
اینگل برٹ کی ایجاد نے کمپیوٹر کے استعمال کو نئی جہت دی
آج کل کے کمپیوٹرز میں بطور اِن پٹ ڈیوائس مائوس کی موجودگی لازمی ہے۔ اگرچہ لیپ ٹاپس میں مائوس کی جگہ ٹچ پیڈ ٹیکنالوجی استعمال ہورہی ہے، لیکن اس کے باوجود لیپ ٹا پس میں بھی بیرونی ڈیوائس کے طو ر پر مائوس منسلک کیا جاسکتا ہے۔ مائوس ایسی ڈیوائس ہے، جو گرافکس یوزر انٹرفیس کی بنیاد پر تیار کیے گئے آپریٹنگ سسٹم میں کے ساتھ کمانڈ کنٹرول کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یعنی جو کام کمپیوٹر کے کی بورڈ پر موجود کرسر کیز (Arrow Keys) کی مدد سے انجام دیے جاتے ہیں، انہیں مائوس پر موجود بٹن کلک کرنے سے انجام دیا جاسکتا ہے۔ اس انقلابی ایجاد اور کمپیوٹر کے استعمال میں بنیادی تبدیلی لانے والی ڈیوائس ماؤس کے خالق کا نام ڈگلس اینگل برٹ تھا، جو گزشتہ دنوں 88 برس کی عمر میں اس دنیا سے کوچ کرگئے۔ امریکی ریاست اوریگون میں پیدا ہونے والے اینگلبرٹ نے 1950 کی دہائی میں الیکٹریکل انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنسز میں تعلیم حاصل کی، جس کے بعد وہ اسٹینفورڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ سے منسلک ہو گئے۔ وہاں انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر بہت سے ایسی نئے آئیڈیاز پر کام کیا، جن کے سبب کمپیوٹر روز مرہ زندگی کا حصّہ بن گیا۔ ای میل، وڈیو کانفرنسنگ، ہائپر ٹیکسٹ لنکس اور انٹرنیٹ سے قبل تکمیل پانے والا نیٹ ورک ARPAnet، اس سلسلے کی چند مثالیں ہیں۔جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے کیلیفورنیا کے SRI ریسرچ آرگنائزیشن انٹرنیشنل کے حوالے سے بتایا ہے کہ اینگل برٹ کی موت منگل دو جولائی کی شب ان کے ایتھرٹن لندن میں واقع اپنے گھر میں ہوئی۔ وہ گزشہ 20 برس سے اسی انسٹیٹیوٹ سے وابستہ تھے۔ انہوں نے بہت سی برقی ڈیوائسیں ایجاد کیں لیکن ان کی سب سے اہم ایجاد ماؤس ہی سمجھی جاتی ہے ۔ 1970میں پیٹنٹ کرایا گیا مائوس اپنی ابتدائی شکل میں لکڑی کے ایک چھوٹے سے باکس پر مشتمل تھا، جس کے نیچے دو دھاتی پہیے نصب تھے۔ ڈگلس اینگلبرٹ نے اس سے دو برس قبل ہی یعنی 1968 میں سان فرانسسکو میں ہونے والی ایک وڈیو کانفرنس کے دوران اس ماؤس کا استعمال کیا تھا۔ یہ دنیا میں کمپیوٹر کانفرنسنگ کا پہلا مظاہرہ تھا، جس میں انہوں نے اپنے ایک ایسے ساتھی سے براہ راست وڈیو کے ذریعے بات چیت کی، جو وہاں سے 50 کلومیٹر دور ایک اور مقام پر موجود تھا۔ یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ اینگلبرٹ نے مائوس کے علاوہ کمپیوٹر کا گرافیکل یوزر انٹرفیس (GUI)بھی تیار کیا تھا۔ قریباً ایک ہزار افراد کی موجودگی میں ہونے والا یہ مظاہرہ ’’مدر آف آل ڈیموز‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، یعنی کسی چیز کو متعارف کرانے کا شان دار ترین مظاہرہ۔ڈگلس اینگل برٹ نے جو کمپیوٹر گرافیکل یوزر انٹرفیس (GUI) تیار کیا تھا، اسی کی بدولت کمپیوٹر کا استعمال پرانے ’’ڈسک آپریٹنگ سسٹم‘‘ (DOS) سے نکل کر ونڈوزو، لائنکس اور میک کا آپریٹنگ سسٹم (OS )کی شکل میں سامنے آیا۔ یاد رہے کہ DOS استعمال کرنے والے صارف کو کوئی بھی کام کرنے کے لیے تمام کمانڈز ٹائپ کرنا پڑتی تھیں، جس کے لیے مخصوص الفاظ کو ایک مخصوص ترتیب میں لکھنا ضروری ہوتا تھا۔ تفصیلات کے مطابق، اینگلبرٹ کے نام پر کْل 21 مختلف ایجادات پیٹنٹ کی گئی ہیں۔ انہیں 2000 میں ٹیکنالوجی کی صنعت کے سب سے بڑے ایوارڈ ’’نیشنل میڈل آف ٹیکنالوجی‘‘ سے بھی نوازا گیا تھا۔ انہیں 1997 میں لیملیسن ایم آئی ٹی پرائز (Lemeson-MIT Prize) اور ٹیورنگ ایوارڈ (Turing Award) بھی دیے گئے ۔SRI نے اینگلبرٹ کے تیار کردہ مائوس کا ڈیزائن 40 ہزار ڈالرز کے عوض معروف امریکی کمپیوٹر ساز کمپنی ایپل کو فروخت کر دیا تھا، جس نے پہلی مرتبہ 1983 میں تجارتی سطح پر فروخت کے لیے پیش کیے جانے والے اپنے کمپیوٹر ’’لیزا‘‘ کے ساتھ مائوس پیش کیا تھا۔



____________
راشد صاحب

    Current date/time is Fri Sep 21, 2018 10:29 am