Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


ظلم در ظلم

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

ظلم در ظلم

Post by Admin on Tue Mar 24, 2015 10:17 am

یوں تو جتنے بھی شیطانی کام ہیں، اللہ تعالی کی ناراضی کا باعث ہیں، لیکن سود خوری ایسا شیطانی گھن چکر ہے کہ اس پر اللہ تعالی کی ناراضی کے اظہار والی آیت اور حدیث پڑھ کر انسان کی روح کانپ اٹھتی ہے۔ جب تک اس ظالمانہ دھندے کی حقیقت معلوم نہ ہو، اس وقت تک سمجھ نہیں آتا کہ رب کائنات کو اس سے اتنی شدید نفرت اور کراہیت کیوں ہے؟ 
ہمارے حالیہ بجٹ سے متعلق ایک اہم خبر اس راز کی کسی حد تک نقاب کشائی کرتی ہے کہ سود کے لین دین میں ملوث ہونے کے بعد ہم لوگ ہمیشہ کیوں بحرانوں کا شکار رہتے ہیں اور ایک بحران ختم ہوتے ہی دوسرے کی آہٹ کیوں سنائی دینے لگتی ہے؟ 
اس خبر کے پڑھنے سے پہلے ہر شخص کو یہ خیال آتا تھا کہ سود سے جان بھی تو نہیں چھڑائی جا سکتی۔ بیرونی ممالک یا اداروں سے جو قرض لیا ہے، وہ بمع سود ادا تو کرنا ہی پڑے گا، ورنہ وہ ہمیں دیوالیہ قرار دے دیں گے، ناطقہ بند کر دیں گے، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس خبر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس گھر کو گھر کے چراغ آگ لگا رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت یا قوم پر سود کا زیادہ تر بوجھ بیرونی قرضوں کا نہیں، اندرونی قرضوں یعنی پاکستانی بینکوں سے لیے گئے قرضوں کا ہے۔ پاکستانی سودی اداروں کا پاکستانی حکومت پر واجب الادا سود اتنا زیادہ ہے کہ حالیہ بجٹ میں سب سے زیادہ رقم جس مقصد کے لیے مختص کی گئی ہے
، وہ یہی ادائیگی سود کا شعبہ ہے۔ 
یہ رقم 1325 ارب روپے یعنی 13کھرب، 25 ارب روپے ہے۔ اور یہ اتنی خطیر رقم ہے کہ ان بقیہ دو شعبوں سے جن کے لیے سب سے زیادہ رقم مختص کی جاتی ہے، تقریبا دگنی کے قریب ہے۔ ترقیاتی بجٹ کی رقم 800 ارب روپے اور دفاعی بجٹ 700 ارب روپے ہے۔ سود کی ادائیگی کا بوجھ ان دونوں اہم ترین مدات سے تقریبا دگنے کے قریب ہے۔ یوں پاکستانی قوم ہمیشہ کی طرح اس سال بھی اپنے خون پسینے کی کمائی سے جو سب سے زیادہ سزا جھیلے گی، وہ اسی شیطانی گھن چکر یعنی سود کا ہے جو اسے خود اپنے ہی ہم وطن سود خوروں کو ادا کرنا ہے۔ اور ادا کرتے رہنے کے باوجود اس نے کبھی ختم نہیں ہونا ہے۔ 
بات یہیں ختم نہیں ہوتی، اس معاملے کا عجیب ترین اور المناک ترین پہلو یہ ہے کہ یہ سود پاکستانی قوم اس رقم پر ادا کرے گی جو خود اس کی اپنی ملکیت ہے۔ دراصل ہو یہ رہا ہے کہ بینک کا اپنا پیسہ (سپانسر کیپیٹل) چند فیصد سے زیادہ نہیں ہوتا۔ اس کے پاس تمام پیسہ عوام کا ہوتا ہے۔ وہ عوام کا یہ پیسہ اٹھا کر حکومت کو قرض دیتی ہے اور حکومت عوام ہی سے ٹیکس لے کر یہ قرض بمع سود ادا کرتی ہے۔ اندھے کی بانٹی گئی ریوڑیوں کی طرح گھوم پھر کر سارا سرمایہ سودخوروں کے قائم کردہ بینک نامی ادارے کے مالکان کے پاس آ جاتا ہے۔ عوام کے چہرے پر سوائے حسرت کی دھول کے کچھ نہیں بچتا۔ اندازہ لگائیے! ظلم کی کوئی انتہا بھی ہے۔ عوام کے پیسے سے سود کمایا بینکوں نے، اس سود کو حکومت نے حاصل کیا عوام پر ٹیکس لگا کر...... گویا جدید دور کے مہاجنوں کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور عوام کا سر کڑاھی میں۔ شیطان کی آنت کی طرح یہ سلسلہ کبھی ختم ہو کے نہیں دیتا۔ دو طرفہ پسنے والی عوام نامی اس عاجز مخلوق کو کون بتائے کہ بینکوں میں سودی پیسہ رکھوا کر اللہ و رسول سے جس جنگ کو مول لیا تھا، اس نے تمہیں ہر سال اسی طرح نچوڑنا ہے جیسے اس مرتبہ کے اعداد و شمار ہیں۔ اور چالاک سرمایہ داروں نے تمہیں خبر بھی نہیں ہونے دینی کہ وہ تمہارے ساتھ دو طرفہ فراڈ کرکے اسے تمہاری خدمت کا نام کس عیاری سے دیے جارہے ہیں۔ 
سابقہ سودی قرضوں کے بارے میں قرآنی اصول ہے: ’’لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ‘‘ کہ اصل رأس المال واپس کردو اور اوپر کے سود کا لین دین ختم کردو۔ اسے کاغذوں سے بھی مٹادو، ورنہ کائناتی جنگ کے لیے تیار رہو۔ حال ہی میں حکمران شریف برادران نے ان قرضوں کی حد تک جو ان کے خاندان نے بینکوں سے لیے تھے، اس اصول پر عمل کرتے ہوئے اصل سرمایہ کی قسطوں میں ادائیگی کی مہلت لے کر سود معاف کروا لیا ہے۔ کیا یہی اصول وہ پوری قوم کے لیے یا پاکستانی قرضوں کے بارے میں نہیں اپنا سکتے؟ پاکستانی بینکوں کے مالکان اور افسران آخر اسی مٹی میں پیدا ہوتے ہیں، سوہنی دھرتی بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے سسک رہی ہے۔ کیا ہم اپنی دھرتی ماں کو اسے صرف ایک سال کا سود معاف نہیں کر سکتے؟ پورا قرض نہیں، صرف سود۔ اس سے ہمارے حالیہ بجٹ کا ایک بہت بڑا خسارہ کم ہو جائے گا۔ وہ عوام جن کے پیسوں سے بینکوں نے اتنا کمایا ہے کہ کئی سال بلکہ کئی پشتوں تک ان بینکوں کو سود نہ ملے تو ان کا کچھ نہیں بگڑنا، ان عوام کو سکھ کا ایک عارضی سانس لینے کی مہلت بھی کیا ہمارے سرمایہ دار نہ دیں گے؟ ایسا نہ ہو کہ دنیا کے ستائے عوام اس کھیت کو ہی آگ لگا دیں جس سے انہیں روزی تو کیا، ایک سال کی معافی بھی نہیں ملتی؟

    Current date/time is Wed Nov 21, 2018 12:43 am