Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


بجٹ: غریب عوام کو کیا ملا؟

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

بجٹ: غریب عوام کو کیا ملا؟

Post by Admin on Tue Mar 24, 2015 8:16 am

’’باسودے کی مریم‘‘ اردو کی عظیم ترین افسانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ’’مریم‘‘ نامی ایک نوکر کی کہانی ہے۔ وہ پاکستان کے غریب غربا کا ایک سمبل ہے۔ وہ گھروں میں کام کرتی ہے۔ جھاڑو پونچھا لگاتی ہے۔ بچوں کی نگہداشت کرتی ہے۔ بازار سے سودا سلف لا کر دیتی ہے۔ اسے جو تنخواہ ملتی ہے، وہ نہایت قلیل ہے۔ وہ اس سے اپنا اور اپنے بیٹے کاپیٹ پالتی رہتی ہے۔ ایک چھوٹی سی صندوقچی میں وہ تھوڑی تھوڑی رقم ڈالتی ہے۔ اس کی زندگی کا واحد مقصد حج کے لیے پیسے جوڑنا ہے۔ وہ تیزی سے بوڑھی ہوتی جارہی ہے۔ اس کے پاس اتنے پیسے اکٹھے ہوجاتے ہیں جن سے وہ خانہ کعبہ کا دیدار کر سکے۔ مدینہ منورہ کی خاک آنکھوں میں سرمہ بنا کر ڈال سکے۔ غربت کے شکنجے میں دن رات کسے رہنے کی وجہ سے اس کا جسم کمزور ہوچکا ہے۔ تاب رتواں جاتی رہی ہے۔ انجام کار حج کی فہرست میں اس کا نام شامل ہوجاتا ہے۔ وہ حج پر جانے کی تیاریاں مکمل کر لیتی ہے۔ بس جہاز میں بیٹھنے اور مقاماتِ مقدس کا دیدار درمیان میں باقی رہ جاتا ہے۔ اچانک اس کا بیٹا بیمار ہو جاتا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں اس کا کوئی علاج نہیں ہوپاتا۔ کوئی حکومتی ادارہ اس کی مدد کو نہیں آتا۔ ناچار وہ اپنے بیٹے کا پرائیویٹ علاج شروع کروا دیتی ہے۔ عمر بھر کی کمائی دھواں بن کر اُڑ جاتی ہے۔ وہ رقم جو ایک ایک دو دو روپے کر کے جوڑی گئی تھی، ہزاروں کی تعداد میں اس کے ہاتھوں سے پھسل جاتی ہے۔ اس کا سپنا ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ روتی ہے۔ آہ و زاری کرتی ہے۔ زندگی بھر غربت کی چکی میں پسنے کے بین کرتی ہے۔
بے رحم معاشرہ اس کی چیخ و پکار سے بے پروا اپنی ہی دھن میں رواں دواں رہتا ہے۔ کہانی کے اختتام پر مریم بیٹا بھی کھو دیتی ہے۔ ساری جمع پونجی بھی لٹا بیٹھتی ہے۔ حج کا خواب آنکھوں میں لیے ہمیشہ کے لیے پلکیں موند لیتی ہے۔ 
کہنے کو یہ ایک افسانہ ہے، مگر اس کا حرف حرف ہمارے معاشرے کی سنگین حقیقتوں سے پردہ اُٹھاتا ہے۔ یہ بتاتا ہے غریب کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش حج کے پورا ہونے کی راہ میں کتنی بھی معاشرتی رکاوٹیں کھڑی ہیں۔ اسے عسرت کی دلدل پار کرنا ہوتی ہے۔ وہ مہنگائی کی خندقیں عبور کرتا ہے۔ اسے تنگ دستی کے صحرائوں میں برہنہ پا سفر کرنا پڑتا ہے۔ لہولہان پائوں کے ساتھ بے مہری اور بے قدری کی کرکٹتی دھوپ میں چلنا پڑتا ہے۔ پاکستان کی بدلتی حکومتیںاس کے سر پر کوئی چھتری نہیں تانتی۔ اس کے کاندھوں کوئی دست شفقت نہیں رکھتیں۔ اس کے رستے زخموںکے لیے کوئی مرہم فراہم نہیں کرتیں۔ آنتیں کاٹتی بھوک کے لیے کوئی پکوان نہیں مہیا کرتیں۔ اس کے پپڑیاں جمے ہونٹوں کے لیے کوئی جان افزا مشروب نہیں تھماتیں۔ اس کے تار تار لباس کے لیے کوئی رفو گر نہیں آتا۔ ہر حکومت اعداد و شمار کی گرد اُڑا کر اس کی بینائی معطل کردیتی ہے۔ اسے شرح نمو میں اضافے کی نوید خوش الحان سنائی جاتی ہے۔ اسے بتایا جاتا ہے اب کے بجٹ میں اس کے سارے عذابوں کو ختم کردیا جائے گا۔ ایسا بجٹ لایا جائے گا جو صحیح معنوں میں اس کا دوست ہو گا۔ اس کا غم خوار ہو گا۔ یہ اس کی زندگی میں سکھ کی چھایا لے کر آئے گا۔ ہر مریم کے لیے ہر بجٹ پہلے سے زیادہ بڑے عذاب لاتا ہے۔ جمہوریت کی بانسری بجنے پر سارے سرمایہ دار شیش ناگ اپنے بلوں سے نکل آتے ہیں۔ یہ غریب غربا کے سامنے پھن پھیلا کر جھومتے ہیں۔ اس کی جان نکال کر ہی دم لیتے ہیں۔


غریب کو بتایا جاتا ہے سارے عذابوں کو ختم کردیا جائے گا، مگر ہر بجٹ پہلے سے زیادہ بڑے عذاب لاتا ہے۔ ٭ ملک میں سب سے کم ٹیکس ہمارے جمہوری نمایندے دیتے ہیں۔ ان کے پرٹوکول پر اربوں سالانہ لاگت آتی ہے۔ پاکستان دہائیوں سے ان بے رحم اور سفاک لوگوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔ ٭ حکومت 160 ارب روپے سے لاہور میں میٹرو ٹرینیں چلا رہی ہے۔ بجٹ دیکھ کر لگتا ہے کہ منصوبے کی تکمیل پر سفر کرنے والی عوام کی جیب میں کرائے کے لیے کوئی سکے ہی باقی نہ ہوں گے۔



اگر آپ پچھلے 7 سالہ جمہوری ادوار کو دیکھیں تو ہر گزرتا سال پہلے سے زیادہ کڑا اور بے رحم ہوتا جا رہا ہے۔ آج 12 کروڑ 70 لاکھ پاکستانیوں کی آمدنی 2 سو روپے روزانہ سے بھی کم ہے۔ 7 کروڑ 70 لاکھ خوراک کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ 
اگر مہنگائی میں 10 فیصد اضافہ ہو تو 34 لاکھ پاکستانی خطِ غربت سے نیچے چلے جاتے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس تعداد میں ہوش ربا اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ 82 فیصد عوام جدید علاج کی سہولتوں سے یکسر محروم ہیں۔ قوم کے 3 کروڑ بچوں کے لیے اسکولوں کے دروازے بند ہیں۔ 70 فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ آلودہ پانی سے ملک کے بڑے شہروں میں ہپاٹائٹس کا مرض خوفناک شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ ہم صحت پر اخراجات کی مد میں دنیا میں 147 ویں نمبر پر ہیں۔ پاکستان اکنامک واچ کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے ہر دوسرا پاکستانی نواجوان بے روزگار ہے۔ 50 فیصد نوجوانوں کے لیے پڑھے لکھے ہونے کے باوجود کوئی روزگار نہیں۔ ہر نئے سال ان کی تعداد میں 10 لاکھ کا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ حال ہی میں جاری ہونے والی رپورٹ ’’Out Look 2014‘‘ کے مطابق آیندہ مالی سال میں بے روزگاری کی شرح 6.9 فیصد اور مہنگائی بڑھ کر 8.8 فیصد ہو جائے گی۔ ان حالات میں حکومت نے 525 ارب کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی ہے۔ حکومتی بے سمتی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے لاہور میں میٹروبس چلانے کے لیے ہم 160 ارب روپے صرف کرنے والے ہیں۔ 27.1 کلومیٹر طویل ٹریک پر رواں سال کام شروع ہونے جارہا ہے۔ راولپنڈی میں میٹروبس پر اربوں روپے لاگت آرہی ہے۔ ہم جو دبئی اور سنگاپور جیسی سفری سہولتوں کے لیے آسمان سے تارے توڑ رہے ہیں، کاش! ہم اندھیرے میں ڈوبے گھروں کے لیے کوئی چھوٹا موٹا چراغ بھی مہیا کردیتے۔ فلائی اور، انڈر پاس، میٹروبسوں اور میٹرو ٹرینوں تک ہم تب جاتے جب ہم نے عوام کی اذیت ناک زندگیوں میں تھوڑا سا سکھ بودیا ہوتا۔ مہنگائی، بیروزگاری، ذخیرہ اندوزی اور کساد بازاری کے ہاتھ یرغمال ملک میں ایسے شیخ چلی جیسے منصوبوں پر کھربوں روپے لگانا ہر گز درست سمت میں قدم نہیں۔ جب ہم صحت کے بجٹ سے پیسہ نکال کر میٹرو ٹرین چلا رہے ہیں یا تعلیم کی خالی ہوئی جیب سے سکے تلاش کرکے میٹرو بسوں کے لیے ایندھن مہیا کررہے ہیں تو ہم ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف جارہے ہیں۔ ہم وژن عقل شعور تج چکے ہیں۔ 
ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کا اندازہ اس سروے سے کیا جاسکتا ہے۔ کراچی میں 2013 سے 2014 تک بڑا گوشت 360 سے 480 روپے، چھوٹا گوشت 520 سے 620 روپے، مرغی 230 سے 280 روپے، روٹی 6 سے 8 روپے، آٹا 41 سے 45 روپے، پیاز 20 سے 25 روپے تک پہنچ مہنگی ہوگئی ہے۔ لاہور میں بڑا گوشت 250 سے 300 روپے، چھوٹا گوشت 600 سے 700 روپے، مرغی 175 سے 210 روپے، روٹی 5 سے 6 روپے، آٹا (20 کلو) 720 سے 810 روپے، دودھ 55 سے 70 روپے، دال مسور 85 سے 110 روپے، دال چنا 48سے 62 روپے، دال ماش 125 سے 155 روپے، دال مونگ 110 سے 140 روپے، انڈے 65 سے 72 روپے پر پہنچ چکے ہیں۔ یوں 2 بڑے شہروں میں قیمتوں کا تفادت ہمیں بتاتا ہے ذخیرہ اندوزوں نے کس کس طرح مخلوقِ خدا کو لوٹا ہے؟ 
ملک میں مجموعی طور پر آلوکی قیمت میں 175 فیصد اضافہ ہوا۔ دال مونگ کی قیمت میں 35 فیصد، مرغی میں 20 فیصد، دال مسور 19 فیصداور گند م کی مصنوعات میں 17 فیصد اضافہ ہوا۔ دودھ 14 فیصد، پوسٹل سروسز 23 اور تعلیم 16 فیصد مہنگی ہوگئی۔ بجلی اور ڈاکٹروں کی فیس میں 16 فیصد، گارمنٹس کی قیمتوں میں 17 فیصد اضافہ ہوا۔ مالیاتی خسارہ اس سال 2.3 فیصد اور بیروزگاری 6.2 فیصد رہی۔ اس سب کا اثرکرنٹ اکائونٹ خسارے پر پڑا جو 2 ارب 60 کروڑڈالر رہا۔ حکومت نے 1995 ارب روپے ٹیکسوں کی مد میں حاصل کیے جن پر اب میگا پروجیکٹس کی بنیادیں ڈالی جارہی ہیں۔ 
اس بجٹ میں 1175 ارب کے ترقیاتی منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ 16 کھرب مالیت کے 303 نئے اور مجموعی طور پر 56 کھرب مالیت کے 1024 ترقیاتی منصوبے پائپ لائن میں ہیں۔ حکومت نے گھی، تیل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتو ں میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ملک بھر کے چیمبر آف کامرس نے بجٹ کی تعریف کی ہے، کیونکہ سرمایہ دار کو مجموعی طور پر تحفظ دیا گیا ہے۔ عام عوام کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ بجٹ غریب عوام کے لیے اُمید کا کوئی سویرا نہیں لایا۔ 
تنخواہوں اور اور پنشن میں اضافہ مہنگائی کے تناسب سے ایک مذاق کا درجہ رکھتا ہے۔ مثبت پہلو صرف یہ ہیں اس بجٹ میں کم از کم تنخواہ 12 ہزار مقر کرنے کا اعلان کیا گیا۔ غریبوں کے لیے وزیراعظم ہیلتھ انشورنس اسکیم کے لیے ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس کا طریقہ کار انتہائی پیچیدہ رکھا گیا ہے۔ انتہائی غریب گھرانوں کو 1500 روپے ماہوار دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یوں ہر سال کی طرح اس بجٹ سے استوار بڑی اُمیدیں دم توڑ گئی ہیں۔ قیمتوں میں ٹھہرائو یا ان کی الٹی سمت واپسی کی کوئی اُمید دور دور تک نظر نہیں آتی۔ ایک سروے کے مطابق اگلے برس مہنگائی میں 200 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ یوں کروڑ ارب پتیوں پر مشتمل ہمارے جمہوری ایوانوں سے اس سال بھی غریب غربا کے لیے کوئی خیر کی خبر نہیں آئی۔ برہنہ سچ یہی ہے یہ ملک اشرافیہ کا ہے۔ اس پر مافیاز کا قبضہ ہے۔ اقتدار کا مافیا، سیاست کا مافیا، کرپشن کا مافیا، جائیداد عقب کرنے والا مافیا، عوام کا خون نچوڑنے والا مافیا، قومی خزانہ لوٹنے والا مافیا، ذخیرہ اندوزوں کا مافیا، من چاہے ریٹ لگانے والوں مافیا، میگا پراجیکٹس سے اربوں کمانے والا مافیا، بیوروکریٹوں کا مافیا، پولیس گردی کرنے والوں کا مافیا، قانون کی سوداگری کرنے والوں کا مافیا اور سود کھانے والوں کا مافیا۔ 
کچھ عرصہ قبل ایک کتاب ’’پاکستان کے سیاسی خانوادے‘‘ منظرعام پر آئی تھی۔ اس میں ہمارے سیاسی اُفق پر چھائے ہوئے خاندانوں کی مفصل کہانیاں لکھی ہوئی تھیں۔ ہمارے کئی بڑے سیاسی خاندان 1857ء میں انگریزوں کے دست راست بن گئے تھے۔ انہوں نے حریت پسندوں کو مارا۔ ان کے گھر جلائے اور انعام میں جاگیریں پائیں۔ پاکستان بنا تو یہی لوگ، وقت کے ساتھ اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔ انہی میں سے بے شمار بہت بڑے سرمایہ داربن گئے۔ انہوں نے جائیدادیں، فیکٹریاں، ملیں، کارخانے، فارم ہائوس، پلازے اور مارکی ٹیں بنا لیں۔ دولت کی اس ریل پیل نے انہیں سیاست کی ٹکسال کا راستہ دکھایا۔ یوں ہماری جمہوریت وجود میں آئی۔ سرمایہ سرمائے کو کھنچناشروع ہوگیا۔ انجام یہ کہ ملک مافیاز کی جاگیربن کر رہ گیا۔ 
آج ملک میں سب سے کم ٹیکس ہمارے جمہوری نمایندے دیتے ہیں۔ یہ ڈیوٹی فری گاڑیوں میں شاہانہ سفر کرتے ہیں۔ ان کے پرٹوکول پر اربوں سالانہ لاگت آتی ہے۔ ان کا علاج اور بچوں کی تعلیم بیرون ملک ہوتی ہے۔ یوں عوام کے ٹیکسوں سے یہ بھر پور عرق کشید کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان دہائیوں سے ان بے رحم اور سفاک لوگوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔ عوام کے پاس بس آنسو ہیں، آہیں ہیں۔ دُکھ، مصیبتیں اور بے بسیاں ہیں۔ ہر جمہوری خواب کی تعبیر الٹ ہی نکلتی ہے۔ یوں ہماری حکومت 160 ارب روپے سے لاہور میں میٹرو ٹرینیں چلا رہی ہے۔ ہوسکتا ہے بجٹ دیکھ کر لگتا ہے کہ منصوبے کی تکمیل پر سفر کرنے والی عوام کی جیب میں کرائے کے لیے کوئی سکے ہی باقی نہ ہوں گے۔ خدا ہمیں ان لیڈروں کے وژن سے بچائے۔


    Current date/time is Wed Nov 21, 2018 12:43 am