Rashid Ali Parchaway

راشید صاحب کے لیے اطلاع ہے کہ آنے والے وقت میں اپ کمپیوٹر کے ماہرین میں شمار ہونگے انشاء اللہ

Jamal Abad Michni Parchaway.

Keywords

Affiliates


free forum

Forumotion on Facebook Forumotion on Twitter Forumotion on YouTube Forumotion on Google+


کیا افغانستان میں امریکی مشن تمام ہو چکا؟

Share
avatar
Admin
Admin
Admin

Posts : 527
Join date : 09.10.2014

کیا افغانستان میں امریکی مشن تمام ہو چکا؟

Post by Admin on Tue Mar 24, 2015 7:29 am

’’آرمی بلیک نائٹ‘‘ امریکا کی خصوصی فورسز میں سے ایک ہے۔ اس بلیک نائٹ کی ٹریننگ و تربیت ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکیڈمی میں ہوتی ہے۔ یہ اکیڈمی امریکا کی بہترین اکیڈمیوں میں سے ہے۔ نیویارک میں واقع ہے۔ 200 سال پرانی مگر دیوہیکل عمارت انسان کو مبہوت کردیتی ہے۔ یہ ایک قلعہ نما عمارت ہے۔ اس میں امریکا کے ساڑھے 4 ہزار کیڈٹ تربیت حاصل کرتے ہیں۔ اس ملٹری اکیڈمی میں 28 مئی کو امریکی صدر اوباما نے ہزاروں کیڈٹس سے خطاب کیا۔ اوباما کا یہ خطاب دنیا کے نئے مستقبل کی پیش بندی ہے۔ امریکی صدر نے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’امریکا کا افغانستان میں کردار اب تمام ہوچکا۔ وہاںہماری جنگ اختتام پذیر ہوچکی۔ اب ہمارا کام صرف اور صرف مشاورت اور تربیت کا ہے۔ افغانستان میں امن ہو نہ ہو، یہ اب امریکا کی ذمہ داری نہیں۔ ہم افغانستان میں اپنی سرگرمیاں محدود کررہے ہیں۔ اس سال کے اختتام تک صرف چند ہزار فوجی وہاں رہ جائیں گے۔ وہ صرف افغان فوجیوں کوتربیت دیں گے۔ یہ فوجی بھی 2016ء تک افغانستان سے واپس آ جائیں گے۔‘‘ 
اوباما نے واضح الفاظ میں کہا: ’’امریکا کو اس وقت سب سے زیادہ خطرہ عدم مرکزیت کی شکار القاعدہ سے ہے۔ یہ گروہوں میں بٹ چکی اور ان گروہوں کا پیچھا ہمارا مشن ہے۔ ہم جب تک القاعدہ کے ایک ایک کارکن کو ٹھکانے نہیں لگا لیں گے، ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے
۔ ہم افغانستان سے واپسی کے بعد مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں بڑھتے ہوئے خطرات پر توجہ دیں گے۔ ہم القاعدہ کا پیچھا کریں گے۔‘‘ اوباما نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا: ’’میں کانگریس کو کہنے جا رہا ہوں، دہشت گردی کے خلاف اتحاد کے لیے 5 ارب ڈالر کے فنڈز کی منظوری دی جائے، تا کہ اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے والے صف اوّل کے ممالک کی تربیت اور مدد کی جا سکے۔ امریکا اردن، ترکی، لبنان اور عراق کی امداد میں اضافہ کرے گا۔‘‘ امریکی صدر نے ایک پھر تجدید عہد کرتے ہوئے کہا: ’’امریکا کو جہاں بھی اور جیسے بھی خطرہ محسوس ہوا، امریکا طاقت کے یکطرفہ استعمال سے گریز نہیں کرے گا۔ امریکا دنیا کو لاحق خطرے کے پیش نظر کہیں بھی انتہائی قدم اٹھانے کے لیے تیار رہے گا۔‘‘ وضاحت میں بھی پیش کی: ’’ 2009ء سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری حکمت عملی کا مرکزی نقطہ القاعدہ کی مرکزی قیادت تھی، لیکن اب ساڑھے 4 سال بعد میدان بدل چکا ہے۔ القاعدہ کی مرکزی قیادت کا خاتمہ ہوچکا۔ القاعدہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ چکی۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں پر القاعدہ کو مسمار کردیا گیا۔ اُسامہ بن لادن بھی باقی نہیں رہا۔ دوسرے ممالک میں موجود القاعدہ کا خاتمہ بھی جلد ہوجائے گا۔ اس کٹھن دور میں امریکی معیشت پر بھاری بوجھ پڑا۔ ہم نے کٹھن مرحلہ عبور کیا۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں امریکا زوال کا شکار ہو گیا، وہ غلط سوچ رہے ہیں یا مخالفت کی سیاست کر رہے ہیں۔ امریکا وہ قوم ہے جس کے بغیر دنیا کا گزارا نہیں۔ یہ بات پچھلی صدی میں بھی سچ تھی اور لگتا ہے آیندہ صدی میں بھی سچ ثابت ہوگی۔‘‘ 
امریکی صدر کا یہ خطاب جہاں امریکا کے تکبر و نخوت کا کھلا اظہار تھا، وہیں امریکا کی مستقبل کی نئی پیش بندی کا عکاس بھی۔ اوباما کے اس بیان کے بعد اب یہ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں امریکا افغانستان سے جلد از جلد نکل جانے میں ہی عافیت محسوس کررہا ہے۔ امریکی صدر اوباما اس سے قبل 25 مئی کو اچانک افغانستان کے دورے پر پہنچے تھے۔ انہوں نے بگرام ایربیس پر فوجیوں سے خطاب کیا۔ انہیں یقین دلایا امریکا افغانستان سے اس سال کے آخر تک زیادہ تر فوجیوں کو واپس بلا لے گا۔ یاد رہے اس وقت افغانستان میں امریکا کے 32 ہزار فوجی موجود ہیں۔ صدر اوباما نے فوجیوں کو تسلی دی 2014ء کے اختتام پر افغانستان میں صرف 9800 فوجی رہ جائیں گے۔ امریکی صدر کا یہ خطاب بھی اس کا واضح اظہار ہے امریکن فوجی افغانستان کے مشکل حالات سے اُکتا چکے ہیں۔ یہ جلد از جلد افغانستان سے واپس جانا چاہتے ہیں۔

٭ نام نہاد دہشت گردی کی اس جنگ میں نقصان افغانستان کا ہوا ہو یا نہیں، لیکن کم از کم امریکا اور اس کے فوجی آیندہ ایسے محاذ پر قدم رکھتے ہوئے ہزار بار سوچیں گے ضرور۔ ٭ دنیا میں ایک امریکا ہی نہیں کوئی بھی سپرپاور ہوگی وہ کہیں نہ کہیں اپنا محاذ کھولے رکھے گی تا کہ دنیا اس سے خوفزدہ رہے اور اس کا غلبہ برقرار رہے۔ ٭


امریکی صدر جب ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکیڈمی میں مستقبل کی لکیر کھینچ رہے تھے، اسی دوران انہوں نے جب کیڈٹس کو یہ کہہ کر یقین دلایا کہ آیندہ کسی بھی امریکی فوجی کو افغانستان یا عراق نہیں جانا پڑے گا تو سامنے موجود ہزاروں کیڈٹ خوشی سے دیر تک تالیاں بجاتے رہے۔ شاید صدر اوباما کے پورے خطاب میں صرف یہ ایک جملہ تھا جو امریکن نوجوان فوجیوں کے دل کی آواز تھا۔ اس سے اندازا لگائیے امریکی فوجی اس جنگ سے کس قدر اُکتا چکے ہیں۔ امریکی عوام اپنے بچوں کو افغانستان جیسے مشکل محاذوں پر بھیجنے سے کترا رہے ہیں۔ یوں ایک بات تو طے ہوگئی نام نہاد دہشت گردی کی اس جنگ میں نقصان افغانستان کا ہوا ہو یا نہیں، لیکن کم از کم امریکا اور اس کے فوجی آیندہ ایسے محاذ پر قدم رکھتے ہوئے ہزار بار سوچیں گے ضرور۔ 
13 برس کی اس جنگ نے امریکن فوجیوں کے مورال کو زیرو کر دیا ہے۔ امریکا اپنے تمام ترلائو لشکر کے باوجود اب واپسی کی راہیں ہموار کرنے میں جتا ہے۔ یہی وجہ ہے چند دن پہلے طالبان کے 5 اہم ترین رہنمائوں کو گوانتاناموبے جیل سے رہا کیا گیا۔ یہ طرزِ عمل بھی محض اس لئے تھا کہ افغان طالبان کے دلوں میں امریکا کی نفرت کم کی جا سکے۔ طالبان سے مذاکرات کو کامیابی کی طرف لے کے جایا جائے اور رہا سہا وقت ان کی ریشہ دوانیوں سے بچ کر گزارا جاسکے۔ یہ تو ہے افغانستان کے حوالے سے امریکا کی پالیسی، مگر امریکا افغانستان سے نکلنے کے بعد مشرق وسطیٰ اور افریقہ پر توجہ مرکوز کرنے جا رہا ہے۔ اس کا اظہار آپ صدر اوباما کی تقریر میں دیکھ چکے۔اب سوال یہ ہے امریکا افغانستان میں ذلیل و خوار ہونے کے باوجود یہ قدم کیوں اُٹھا رہا ہے؟ اس کی وجہ بہت سیدھی اور سادہ ہے۔ دنیا میں ایک امریکا ہی نہیں کوئی بھی سپرپاور ہوگی وہ کہیں نہ کہیں اپنا محاذ کھولے رکھے گی تا کہ دنیا اس سے خوفزدہ رہے اور اس کا غلبہ برقرار رہے۔ امریکا اب یہی کھیل مشرق وسطیٰ میں کھیلنے جارہا ہے۔ مصر اور تیونس میں حکومتوں کا گلہ گھونٹنے کے بعد اب اس کا ہدف شام، لبنان، یمن اور بحرین ہوگا۔ اگر مشرق وسطیٰ کے نقشے کو سامنے رکھا جائے تو امریکن چال بخوبی سمجھ آ جائے گی۔ 
سعودی عرب اور مصر کے درمیان بحراحمر کی ایک لمبی پٹی ہے۔ مصر میں پہلے سے ہی امریکا پنجے گاڑھے ہوئے ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ ہی اُردن اور اسرائیل کی سرحدیں بھی ہیں۔ اسرائیل امریکا بغل بچہ ہے، جبکہ اُردن کے بادشاہ بھی امریکا دوستی کا دَم بھرتے ہیں۔ پھر عراق کی سرحد ہے اور عراق بھی امریکا کی مٹھی میں ہے۔ عراق اور اُردن کی پشت کے ساتھ شام ہے اور شام کی پشت پر ترکی۔ یعنی شام عراق، ترکی اور اردن کے درمیان گھرا ہے۔ ان تینوں ممالک (عراق، ترکی اور اردن) میں امریکا کا اہم رول ہے۔ عراق سے آگے بڑھیں تو سعودی عرب کی سرحد کے ساتھ کویت کا ملک ہے اور یہ بھی امریکن پنجے میں ہے۔ اس سے آگے بڑھیں تو بحیرہ عرب کی لمبی پٹی ہے اور اس کے بعد متحدہ عرب امارات۔ متحدہ عرب امارات کو بھی اس سے کوئی غرض نہیں امریکا جہاں چاہے حملہ کرے، کیونکہ متحدہ عرب امارات کا مشن دولت کا حصول ہے۔ یوں اگر ہم اس کا تجزیہ کریں تو امریکا کا اصل ہدف سعودی عرب کے گرد گھیرا تنگ کرنا اور اپنے بغل بچے اسرائیل کا تحفظ ہے۔ یہ امریکا کا مستقبل کا منصوبہ ہے، لیکن امت مسلمہ اس سے بے خبر اپنے ہی بکھیڑوں میں الجھی ہے۔ امریکا عراق کو فنا کر گیا۔ اُمت مسلمہ خاموش تماشائی بنی رہی۔ امریکا افغانستان پر چڑھ دوڑا۔ عالم اسلام کے لب نہ کھلے۔ امریکا کویت پر قابض ہو گیا، اُمت پھر بھی نہ جاگی۔ اغیار پاکستان میں آپریشن اور ڈرون حملے کرتا رہا، مگر کسی میں اتنی جرات نہ ہوئی وہ آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کر سکے۔ اگر اُمت مسلمہ اسی طرح سوئی رہی تو کفارایک ایک کر کے ہمیں گاجر مولی کی طرح کاٹتے رہیں گے۔

    Current date/time is Wed Nov 21, 2018 12:43 am